ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دلہن کو ورمالا پہنا رہا تھا دولہا ، ماں نے آشیرواد کی جگہ چپلوں کی کردی برسات، وجہ جان کر رہ جائیں گے حیران

بیٹے کی دوسری ذات میں شادی سے ناراض ماں نے جئے مالا کے وقت ہی اسٹیج پر چڑھ کر دولہے کی چپلوں سے پٹائی کردی ، جس کی وجہ سے شادی پروگرام میں ہنگامہ مچ گیا ۔

  • Share this:
دلہن کو ورمالا پہنا رہا تھا دولہا ، ماں نے آشیرواد کی جگہ چپلوں کی کردی برسات، وجہ جان کر رہ جائیں گے حیران
دلہن کو ورمالا پہنا رہا تھا دولہا ، ماں نے آشیرواد کی جگہ چپلوں کی کردی برسات، وجہ جان کر رہ جائیں گے حیران

ہمیرپور : اترپردیش کے ہمیر پور ضلع کے بھروآ سمیر پور قصبہ میں بیٹے کی دوسری ذات میں شادی سے ناراض ماں نے جئے مالا کے وقت ہی اسٹیج پر چڑھ کر دولہے کی چپلوں سے پٹائی کردی ، جس کی وجہ سے شادی پروگرام میں ہنگامہ مچ گیا ۔ کسی طرح سے ناراض ماں کو شادی پروگرام سے باہر کرکے شادی کی دیگر رسومات ادا کی گئیں ۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر جم کر وائرل ہورہا ہے اور لوگ دلچسپ تبصرے کررہے ہیں ۔


رپورٹس کے مطابق شیوانی پیلس کے پیچھے کے رہنے والے نوجوان نے پڑوس میں رہنے والی لڑکی سے کافی پہلے کورٹ میریج کی تھی اور اس کے بعد اس نے اس کو اپنے ساتھ رکھ لیا تھا ۔ اس کورٹ میرج سے لڑکا کے ماں باپ اور بھائی خوش نہیں تھے ۔ بیٹی کے کورٹ میریج کرلینے کے بعد لڑکی کے والد نے دھوم دھام سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا اور تین جولائی کو شادی کی تاریخ طے کرکے قصبہ کے گیسٹ ہاوس میں پروگرام رکھا گیا ۔



شادی کے کارڈ بھی رشتہ داروں اور شناساوں میں تقسیم کئے گئے ۔ بتایا جارہا ہے کہ بیٹی کے والد نے شادی پروگرام میں داماد کے ماں باپ اور بھائیوں کو مدعو نہیں کیا تھا ، کیونکہ یہ سبھی لوگ اس شادی کے خلاف تھے ۔ تاہم جس وقت جئے مالا کا پروگرام چل رہا تھا اور دولہا اور دلہن ایک دوسرے کو ورمالا پہنا رہے تھے ، اسی وقت دولہے کی ماں چہرہ پر کپڑا باندھ کر اچانک اسٹیج پر پہنچ گئی اور فوٹوگرافر اور دیگر لوگوں کو دھکا دیتی ہوئی آگے بڑھ گئی اور چپل اتار کر لڑکے پر چپل کی بارش کردی ۔

دولہے نے دلہن کی آڑ لے کر کسی طرح اپنا دفاع کیا ۔ اسی درمیان دیگر لوگوں نے دولہے کی ماں کو پکڑ کر اسٹیج سے کسی طرح نیچے اتارا ۔ اس کے بعد لڑکے کی ماں گالی گلوج کرتے ہوئے پروگرام سے واپس لوٹ گئی ۔ اس واقعہ کے بعد جلدی جلدی شادی کی دیگر رسوم ادا کی گئیں اور دولہا و دلہن کو رخصت کریا گیا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 08, 2021 06:46 PM IST