உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لکھیم پور کھیری کیس : 12 گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد آشیش مشرا کو پولیس نے کیا گرفتار

    لکھیم پور کھیری کیس : 12 گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد آشیش مشرا کو پولیس نے کیا گرفتار

    لکھیم پور کھیری کیس : 12 گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد آشیش مشرا کو پولیس نے کیا گرفتار

    Lakhimpur kheri case updates : ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس اپیندر اگروال نے رات گئے صحافیوں کو بتایا کہ آشیش تفتیش میں پولیس کے ساتھ تعاون نہیں کر رہا تھا اور نہ ہی کئی سوالوں کے جواب دے رہا تھا۔ اس لیے اسے گرفتار کیا گیا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      لکھیم پور کھیری : اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری کے تیکونیا میں گزشتہ اتوار کے روز تشدد میں آٹھ افراد کی ہلاکت کے معاملے میں پولیس کی کرائم برانچ نے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا عرف مونو کو تقریباً 12 گھنٹے کی لمبی پوچھ گچھ کے بعد گرفتار کرلیا۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس اپیندر اگروال نے رات گئے صحافیوں کو بتایا کہ آشیش تفتیش میں پولیس کے ساتھ تعاون نہیں کر رہا تھا اور نہ ہی کئی سوالوں کے جواب دے رہا تھا۔ اس لیے اسے گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کا میڈیکل کرانے کے بعد اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا اور اسے پوچھ گچھ کے لیے پولیس ریمانڈ میں لینے کی اپیل کی جائے گی۔

      آشیش ہفتہ کی صبح 10.38 بجے کرائم برانچ کے افسران کے سامنے پیش ہوا تھا۔ وہ سکوٹی کے ذریعے پولیس لائن پہنچا اور میڈیا کے افراد کو چکمہ دیتے ہوئے پچھلے گیٹ سے داخل ہوا۔ ایس آئی ٹی کی ٹیم نے صبح 11 بجے اس سے پوچھ گچھ شروع کی۔ تقریبا 12 12 گھنٹے کی طویل پوچھ گچھ کے بعد ، ڈی آئی جی نے تقریبا پونے گیارہ بجے باہر نکل کر صحافیوں کو آشیش کی گرفتاری کاباضابطہ اعلان کیا۔

      پولیس ذرائع نے بتایا کہ آشیش ساتھ لائے شواہد میں یہ واضح نہیں کرسکا کہ وہ واقعہ کے وقت کہاں موجود تھا۔ ساتھ لائے ویڈیو میں تیکونیا میں پیش آئے تشدد کے واقعہ کے وقت دنگل میں ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ آشیش کی وضاحت اور شواہد سے افسران مطمئن نہیں ہوئے جس کے بعد اسے آئی پی سی کی دفعہ 302 کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔ اس کا میڈیکل کرایا جارہا ہے جس کے بعد ممکن ہے کہ اسے عدالت میں پیش کرکے ریمانڈ میں لینے کی اپیل کی جائے گی ۔دریں اثنا ، احتیاطی اقدام کے طور پر ضلع میں پولیس کی چوکسی بڑھا دی گئی ہے۔

      ذرائع نے بتایا کہ ایس آئی ٹی نے ملزم کے سامنے 40 سوالات کی فہرست رکھی تھی۔ پوچھ گچھ کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی گئی۔ ملزم دس افراد کے حلف نامے لے کر آیا تھا جنہوں نے اعتراف کیا تھا کہ واقعہ کے وقت ملزم دنگل میں موجود تھا۔ اس کے علاوہ ، وہ ثبوت کے طور پر ویڈیو کی پین ڈرائیو لے کر آیا تھا۔ تفتیش کے دوران آشیش سے اس کے وکیل کی موجودگی میں تحریری بیان لیا گیا۔ آشیش کے وکیل اودھیش کمار نے کہا کہ ان کاموکل نوٹس کا احترام کرتا ہے اور تحقیقات میں کسی بھی طرح سے تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ تفتیش کے دوران ڈی آئی جی اور ایس پی رینک کے افسران موجود تھے۔

      دریں اثنا ، جمعہ کی رات لکھنؤ پولیس نے آشیش کے دوست انکت داس کے گھر پر چھاپہ مارا اور ایس یو وی کو برآمد کیا جو واقعہ کے دن وہاں موجود تھی۔ اگرچہ انکت پولیس کے ہاتھ نہیں لگا لیکن پولیس نے اس کے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا ہے۔ انکت آنجہانی بی ایس پی رکن اسمبلی اکھلیش داس کا بھتیجا ہے۔ اس معاملے میں پولیس نے آشیش کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 302 ، 120 بی ، 304 اے 147 ، 148 ، 149 ، 279 اور 338 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ واضح رہے کہ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کا بیٹا بے گناہ ہے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: