உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Lakhimpur Kheri Case: لکھیم پور تشدد کا ملزم Ashish Mishra جیل سے رہا ، 130 دن بعد آیا باہر

    Lakhimpur Kheri Case: لکھیم پور تشدد کا ملزم Ashish Mishra جیل سے رہا ، 130 دن بعد آیا باہر ۔ فائل فوٹو ۔

    Lakhimpur Kheri Case: لکھیم پور تشدد کا ملزم Ashish Mishra جیل سے رہا ، 130 دن بعد آیا باہر ۔ فائل فوٹو ۔

    Lakhimpur Kheri Violence : مرکزی وزیر مملکت اجے مشرا ٹینی کے بیٹے اور لکھیم پور کھیری کیس میں اہم ملزم آشیش مشرا کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ضمانت دی تھی ، جس کے بعد آج تقریبا 130 دن بعد آشیش مشرا عرف مونو جیل سے باہر آگیا ہے ۔

    • Share this:
      لکھیم پور : اترپردیش کے لکھیم پور کھیری تشدد (Lakhimpur Kheri Violence) کے معاملہ میں ملزم آشیش مشرا (Ashish Mishra) جیل سے رہا ہوگیا ہے ۔ مرکزی وزیر مملکت اجے مشرا ٹینی کے بیٹے اور لکھیم پور کھیری کیس میں اہم ملزم آشیش مشرا (Ashish Mishra released) کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ضمانت دی تھی ، جس کے بعد آج تقریبا 130 دن بعد آشیش مشرا عرف مونو جیل سے باہر آگیا ہے ۔ مرکزی وزیر مملکت ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کو مین گیٹ کی بجائے پیھچے کے دروازے سے باہر نکالا گیا ، جیسا کہ نیوز ایجنسی اے این آئی کے ذریعہ جاری ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے ۔

      بتادیں دیں کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ کے جج راجیو سنگھ کی سنگل بینچ نے اس معاملہ میں گزشتہ جمعرات کو آشیش مشرا کو ضمانت دیدی تھی ۔ مشرا کی جانب سے پیش وکیل نے عدالت سے کہا تھا کہ ان کا موکل بے قصور ہے اور اس کے خلاف اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس نے کسانوں کو کچلنے کیلئے ایک گاڑی کے ڈرائیور کو اکسایا تھا ۔


      وہیں عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل وی کے شاہی نے کہا تھا کہ واقعہ کے وقت مشرا اس کار میں سوار تھے ، جس نے کسانوں کو مبینہ طور پر اپنے پہیوں کے نیچے کچل دیا تھا ۔ قابل ذکر ہے کہ اس واقعہ کی جانچ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد پنجاب و ہریانہ کورٹ کے ریٹائرڈ جج راکیش کمار جین کی نگرانی میں ہوئی ہے ۔

      عدالت کی لکھنو بینچ نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ سماعت پوری کرنے کے بعد مشرا کی عرضی پر 18 جنوی کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا ۔ غور طلب ہے کہ تین اکتوبر 2021 کو لکھیم پور کھیری میں ہوئے تشدد کے دوران آٹھ لوگوں کی موت ہوگئی تھی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: