உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Uttar Pradesh: مسلسل بڑھتی مہنگائی سے زندگی اجیرن، عام لوگ بے چین و پریشان

    Uttar Pradesh: مسلسل بڑھتی مہنگائی سے زندگی اجیرن، عام لوگ بے چین و پریشان

    Uttar Pradesh: مسلسل بڑھتی مہنگائی سے زندگی اجیرن، عام لوگ بے چین و پریشان

    Lucknow News: پٹرول ، ڈیزل اور گیس کے ساتھ ساتھ خوردنی اشیاء کی بڑھتی قیمتوں نے ایک بار پھر غریب اور مڈل کلاس کے لوگوں کو اضطراب میں مبتلا کردیا ہے ۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ سوچ تو یہ رہے تھے کے اتر پردیش میں بی جے پی حکومت کی تشکیل کے بعد کچھ راحت نصیب ہوگی لیکن معاملہ کچھ اور الجھتا نظر آرہا ہے ۔

    • Share this:
    لکھنئو : مسلسل بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری نے ایک بار پھر لوگوں کو مشتعل و بے چین کردیا ہے۔ غریب اور درمیانی طبقے کے کوگوں کی زندگیاں بڑے پیمانے پر متاثر ہو رہی ہیں ۔ لوگوں کو کہنا ہے کہ اتر پردیش میں بی جے پی کو غیر معمولی کامیابی ملی تو امید کی جارہی تھی کہ حکومت سازی کے بعد کچھ راحت نصیب ہوگی لیکن بڑھتی مہنگائی نے زندگی کو مزید افسوسناک  اور دشوار بنادیا ہے ۔ ایک طرف مہنگائی کی مار اور دوسری طرف جرائم اور بالخصوص خواتین پر ہو رہے جرائم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے تو وہیں دوسری طرف پیٹرول ، ڈیزل ، سی این جی اور خوردنی اشیاء کی قیمتوں میں روز افزوں ہو رہے اضافے نے لوگوں کو یہ سوچنے اور کہنے پر مجبور کردیا ہے کہ اتر پردیش کا اقتدار دوبارہ سنبھالتے ہی  بی جے پی نے عوام کو مہنگائی کا تحفہ دے کر یہ ثابت کردیا ہے کہ مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل حل ہونا اتنا آسان نہیں جتنا لوگ تصور کرتے ہیں ۔ مختلف اضلاع سے جس انداز سے جرائم کی وارداتیں سامنے آرہی ہیں وہ بھی بہت کچھ اشارے کررہی ہیں ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب میں رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا، سنیچر کو پہلا روزہ، تراویح آج سے


    یہ ایک حقیقت ہے کہ اتر پردیش میں مہنگائی ، بے روزگاری رشوت خوری ، پولس کے ذریعے ناجائز وصولی اور بے لگام ہوچکے جرائم ، مسائل بہت سے ہیں لیکن لوگ اب کھل کر اس احساس کو آشکار کر رہے ہیں کہ یوگی حکومت میں وہ عدم تحفظ کی شکار ہیں۔ معروف سماجی کارکن طاہرہ رضوی کہتی ہیں کہ  آبرو ریزی کی شکایتیں اور بچیوں کا قتل ریاست اتر پردیش میں معمولی بات ہوگئ ہے ، حکومت کے اشارے اور سیاسی آقاؤں کے حکم پر کام کرنے والی پولس کے پاس انصاف نام کی کوئی چیز نہیں اتر پردیش میں پولس کا مطلب اب لوگوں کو انصاف دلانا نہیں بلکہ سرکار کے اشارے پر بے قصور لوگوں کو مجرم بنانا اور اصل مجرموں کو چھپانا ہے۔ طاہرہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ہر محاذ پر ناکام حکومت اپنی ناکامی اور زیادتیوں کو چھپانے کے لئے سرکاری مشینری کا استعمال کرتی ہے ۔

    جبکہ بی جے پی سے تعلق رکھنے والے شفاعت حسین کہتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے جنتا نے اسی لئے ووٹ دیا ہے کہ وہ بی جے پی اقتدار میں خوش ہیں کچھ لوگ یوگی جی کو بدنام کر رہے تھے بدنام کرتے رہیں گے ، لیکن یوگی راج سب سے بہتر راج ہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے : مہاراشٹر میں یہاں گوشت و مچھلی کی فروخت پر لگی روک، مقامی انتظامیہ کو کیوں لینا پڑا فیصلہ، جانئے


    آدھی زمین آدھا آسمان، تحریک نسواں ، تنظیم خواتین اور ایپوا جیسی اہم تنظیموں سے جڑی خواتین پوری طرح مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ حکومت اور پولس پر سے لوگوں کا یقین اٹھتا جارہا ہے ، امن پسند اور سکون و عزت سے رہنے والے خاموش لوگوں کو بھی یہ سوچنا چاہئے کہ اگر سب مل کر آواز نہیں اٹھائیں گے تو کمزور آوازیں کچلی جاتی رہیں گی دبائے جاتی رہیں گی۔

    معروف مبصر اور صحافی عامر صابری کے مطابق  حکومت  کو چاہئے کہ وہ عام لوگوں کے لئے سستی قیمتوں پر زندگی کی بنیادی چیزیں فراہم کرے لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کئتے ہیں کہ پہلے لوگ مذہبی جنون کے زیر اثر ووٹ کرتے ہیں اور پھر حکومت پر تنقید کرتے ہیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: