உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Uttar Pradesh: لکھنئو کی ادبی فضا، اردو اداروں کاکردار اور عوامی ردِّ عمل

    Uttar Pradesh: لکھنئو کی ادبی فضا، اردو اداروں کاکردار اور عوامی ردِّ عمل

    Uttar Pradesh: لکھنئو کی ادبی فضا، اردو اداروں کاکردار اور عوامی ردِّ عمل

    Literary Atmosphere of Lucknow : بات جب لکھنئو کی ہوتی ہے تو ماضی کے روشن نقوش پوری آب و تاب کے ساتھ اہنی روشنی بکھیرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ بزرگوں سی بات کیجئے تو ان کی آنکھیں لمحہ بھر کے لئے چراغوں کی طرح چمکتی ہیں اور پھر یہ چراغ پانی میں تیرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ۔

    • Share this:
    لکھنو : والی آسی کے اس شعر کا منظر و پس منظر لکھنئو کی اس تہذیب کی طرف اشارے کر رہا ہے جس کے سبب اس شہر کو عالمی نقشے پر ممتاز شناخت حاصل تھی حالانکہ فی الوقت ملک کے سبھی اردو مراکز کا اگر سنجیدہ تجزیہ کیا جائے تو دکن سے دہلی ، دہلی سے رام پور لکھنئو اور عظیم آباد تک اردو کے اہم اسکول اور مرکز تصور کیے جانیوالے شہر اور علاقے اب زبان و ادب کے حوالے سے ایک مایوس کن منظرنامہ پیش کررہے ہیں۔

    بات جب لکھنئو کی ہوتی ہے تو ماضی کے روشن نقوش پوری آب و تاب کے ساتھ اہنی روشنی بکھیرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ بزرگوں سی بات کیجئے تو ان کی آنکھیں لمحہ بھر کے لئے چراغوں کی طرح چمکتی ہیں اور پھر یہ چراغ پانی میں تیرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: جموں وکشمیر: بارہمولہ تصادم میں ہندوستانی فوج نے تین پاکستانی دہشت گرد ہلاک، ایک جوان شہید


    لکھنوی تہذیب کی نمائندہ شخصیت کے طور پر پورے ملک میں مشہور نواب جعفر میر عبد اللہ کہتے ہیں کہ ماضی جتنا روشن اور تابناک تھا، حال اتنا ہی دھندلا اور افسوس ناک ہے اور مستقبل کے حوالے سے تو کچھ کہنے کی ہمت ہی نہیں ۔ ایک زمانہ تھا جب اہل لکھنئو کو اپنی زبان ، اپنی تہذیب و تمدن اطوار و افکار ادب و القاب ثقافت و نجابت اور بود وباش پر فخر تھا اور صرف اہل لکھنئو کو ہی نہیں بلکہ دوسرے خطے اور ممالک کے لوگ بھی اس شہر کی نفاست و لطافت اور زبان و بیان کی مثالیں پیش کرتے تھے ۔ نوابین اودھ ، شاہی گھرانوں ، مدارس و مکاتب اور مختلف اداروں سے منسلک و وابستہ لوگوں کی تو بات ہی کیا، یہاں کے خوانچے والے، رکشہ والے، سبزی دم فروش اور دیگر عام لوگ بھی ایسی زبان بولتے تھے جس پر دنیا رشک کرتی تھی اور اب شرفاء میں شمار لوگ بھی زبان و ادب اور آداب و القاب سے بے بہرہ ہیں ۔

    دعویٰ زباں کا لکھنئو والوں کے سامنے

    اظہارِ بوئے مشک غزالوں کے سامنے

    لیکن اب نہ دعویٰ کرنے والے لوگ ہیں اور نہ دلیل پیش کرکے لکھنئو کی فوقیت برقرار رکھنے والے اہلِ زبان۔

    معروف مفکر دانشور اور ادیب و شاعر پروفیسر خان محمد عاطف کہتے ہیں کہ زبان و ادب کے فروغ و استحکام کے لئے قائم کئے گئے اردو ادارے اپنے مقصد و محور سے بھٹک کر سیاست کی نذر ہوگئے اور انجام افسوس ناک ہوا۔ افسوس ناک بات یہی ہے نہ کسی کو لکھنئو کی تہذیب بچانے کی فکر ہے نہ قدیم روایتیں اور نہ وہ روشن نقوش جو نہ صرف اس شہر کی شناخت تھے بلکہ دنیا کے نقشے پر اسے ممتاز و منفرد بھی کرتے تھے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: اکھلیش یادو نے دیا کپل سبل کو انعام، راجیہ سبھا الیکشن میں بنایا امیدوار



    معروف محقق  ادیبہ اور قلم کار ڈاکٹر صبیحہ انور کہتی ہیں کہ لکھنئو ہر اعتبار سے ماضی میں گم ہوگیا ہے، اگر اس شہر کی روشن روایتوں اور تہذیب و تمدن کو بچانے کی سنجیدہ کوششیں نہ کی گئیں تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی نہ معاف کر سکیں گی ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: