உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Uttar Pradesh: اردو اداروں کے اغراض و مقاصد اور حکومت کا طرز عمل

    Uttar Pradesh: اردو اداروں کے اغراض و مقاصد اور حکومت کا طرز عمل

    Uttar Pradesh: اردو اداروں کے اغراض و مقاصد اور حکومت کا طرز عمل

    Urdu institutions in Uttar Pradesh: جن مقاصد کے حصول کے لئے اردو اداروں اور کمیٹیوں کا قیام عمل میں آیا تھا کیا واقعی وہ پورے ہورہے ہیں یہ ایک اہم سوال ہے۔ اور اگر اتر پردیش کے حوالے سے بات کی جائے تو اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔

    • Share this:
    لکھنو : اتر پردیش اردو اکادمی اور فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کے ذمہ داران کی جانب سے زبان و ادب اور تہذیب و ثقافت کو استحکام بخشنے کے  جو دعوے اور وعدے کئے گئے تھے، وہ عملی طور پر پورے ہونے کے بجائے داخلی انتشار اور اندرون خانہ ہورہی سیاست کی نذر ہوتے محسوس ہورہے ہیں ۔ حال ہی میں حکومت اتر پردیش محکمہ لسانیات  کے سیکشن افسر عادل حسن کو اب اتر پردیش اردو اکادمی کے سکرٹری کا اضافی چارج دیدیا گیا ہے ۔ عادل حسن کی شناخت ایک ذمہ دار اور ایماندار افسر کی ہے ۔ امید کی جارہی ہے کہ اب حالات شاید پہلے سے کچھ بہتر ہو جائیں گے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے : Varanasi Serial Blasts 2006:۔ 16سال بعد آیا فیصلہ،ولی اللہ خان کو سنائی گئی پھانسی کی سزا


    تاہم ایک سال میں تین سکرٹریوں کی تبدیلی پہلے زہیر بن صغیر، پھر کلیم الدین اور اب عادل حسن  کو چارج دئے جانے سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ اندرونی حالات بہت اچھے نہیں ، سب کمیٹیوں سے متعلقہ حالیہ میٹنگ میں بھی مجلس عاملہ کے کچھ اراکین کی عدم موجودگی نے ایک بار پھر بڑھتے انتشار اور گہرے ہوتے بحران کے اشارے دے دئے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ نئے منصوبے واقعی اردو اکادمی جیسے اہم ادارے کی مقصدیت  اور اہمیت کو بچا سکیں گے ؟ کیا وقت اور حالات کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اہلِ اردو کو مطمئن کر سکیں گے۔؟

     

    یہ بھی پڑھئے : Kanpur Violence: پولیس نے جاری کیا 40 مشتبہ افراد کا پوسٹر، لوگوں سے کی یہ اپیل


    واضح رہے کہ اتر پردیش اردو اکادمی کی جانب سے یوں تو کئی اہم اسکیمیں چلائی جارہی ہیں، جن میں اردو آئی اے ایس کو چنگ سینٹر، کمپیوٹر سنٹر، مختلف اصناف پر مشتمل مسودات کی اشاعت ، وظائف کی تقسیم ، سیمیناروں ، مشاعروں ڈراموں اور مذاکروں کا اہتمام وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ اردو مخالف اس دور میں جب نوجوان طبقہ بے روزگاری کی زد میں ہے وسائل محدود ہورہے ہیں زبان اور روزگار کے مابین تعلق کمزور پڑتا جارہاہے ، کیا مذکورہ روایتی اسکیمیں اور پروگرام اس اہم ادارے کی مقصدیت کو پورا کر رہے ہیں۔؟ ساتھ ہی دونوں مذکورہ اداروں پر یہ الزامات بھی لگ رہے ہیں کہ کرائے جانے والے سمیناروں اور مشاعروں میں کمیشن خوری بھی عام ہے ۔

     

    اردو اکادمی کے سکرٹری عادل حسن کہتے ہیں کہ وہ چیزوں کو سمجھنے کے بعد حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ اہل اردو کو امید رکھنی چاہئے کہ وہ تمام اغراض و مقاصد پورے کرنے کی سنجیدہ کوششیں کی جائیں گی ، جن کے لئے اس اکیڈمی کا قیام عمل میں آیا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: