உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Lucknow News: رکشہ چلانے پر مجبور ہیں زردوزی، آری اور چکن کے فنکار و دستکار

    Lucknow News: رکشہ چلانے پر مجبور ہیں زردوزی، آری اور چکن کے فنکار و دستکار

    Lucknow News: رکشہ چلانے پر مجبور ہیں زردوزی، آری اور چکن کے فنکار و دستکار

    Uttar Pradesh : بیشتر لوگ اس خیال کی ترجمانی کرتے ہیں کہ اب انہیں کسی سے کوئی امید ہی نہیں، سرکاریں سنتی نہیں، سوشل ورکر مایوس ہیں، میڈیا کی بات کا ابھی تک ہماری زندگیوں پر کوئی اثر نہیں، آخر کریں تو کیا کریں ۔

    • Share this:
    لکھنو : کورونا کے بعد سے یوں تو بہت سے تبدیلیاں دیکھی گئیں اور لوگوں نے وبا اور موت کے خوف سے باہر نکل کر زندگی کے نظام کو بدلنے اور بہتر بنانے کی کوششیں بھی کیں لیکن سماج کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے، جو دو وقت کی روٹی کے لئے کل بھی جد و جہد کررہا تھا اور آج بھی تگ و دو میں لگا ہوا ہے۔ لکھنئو اور اس کے قرب وجوار میں ہزاروں ایسے لوگ ہیں جو یہاں صدیوں سے کیے جانے والے زردوزی آری چکن کاری کامدانی کا م کرنے سے لے کر تیار ہونے والے کپڑوں کی تر پائی بٹن ٹکائی اور دھلائی جیسے کم آمدنی والے کاموں سے اپنی جیون نیّا پار لگانے کی جدو جہد کر رہے تھے۔ گزشتہ ہانچ سال کے دوران حالات جس تیزی سے تبدیل اور خراب ہوئے ان کے زیر اثر یہ دستکار اور فنکار بکھر کر رہ گئے ۔ زندگی کی بنیادی ضرورتوں محروم ہزاروں لوگ آدی امید میں عمر کاٹ رہے ہیں کہ شاید آنے والا وقت کچھ بہتر پیغام لے کر آئے اور زندگی معمول کی طرف لوٹ آئے ۔

    لکھنئو بجاجہ کی رہنے والی کنیز فاطمہ کہتی ہیں کہ پہلے تر پائے اور بٹن ٹکائی میں اسّی روپے روز کی دہاڑی ملتی تھی اور چھوٹی بٹیا بھی تیس چالیس روپے کا کام نکال لیتی تھی، لیکن اب تو کسی کسی ہفتے کام ہوتا ہی نہیں کسی طرح گزر بسر کررہے ہیں ، یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اب میڈیا کے لوگوں سے بات کرتے ہوئے بھی یہ لوگ بچنے لگے ہیں ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: PM مودی نے کہا : جس چکر میں ملک 2014 سے پہلے پھنسا تھا، اس سے باہر نکل رہا ہے


    وہیں عرفان کہتے ہیں سب میڈیا والے آتے ہیں تصویریں اور ویڈیو بناتے ہیں کچھ بھلا تو کرتے نہیں ۔ سب کا ساتھ سب کے وکاس کا نعرہ دینے والی سرکار سے بھی  ان گھریلو صنعتوں سے جڑے لوگ خوش نہیں ۔ صاف طور پر تو کچھ کہتے ہوئے ڈرتے ہیں لیکن دبے لفظوں میں یہ ضرور اظہار کرتے ہیں کہ ہمارے لئے سرکاریں کبھی کچھ نہیں کرتیں، ہم نے تو امید لگانا ہی چھوڑ دی ہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے : کورونا میں یتیم ہوئے بچوں کیلئے شروع ہوئی PM CARES for Children Scheme


    اساعیل گنج کے رہنے والے 44 سالہ وسیم اور 48 سال کے چھدن نے کسی طرح قرض کرکے بیٹری والے رکشوں کا انتظام کیا ہے ۔ صبح سے شام تک اتنے پیسے آجاتے ہیں کہ بچوں کو فاقہ نہیں ہوتا، لیکن اپنا کام تو اپنا کام تھا ۔ عاری کا کام چھوٹنے سے اڈّا بھی گیا اور دوکان میں بھی تالا پڑگیا۔ یہ حالت کسی ایک دو کاریگروں کی نہیں بلکہ سیکڑوں دستکاروں اور فنکاروں کی ہے جو زندگی بچانے کے لیے دو وقت کی روٹی مہیا کرنے کے لئے رکشہ چلانے اور بیلداری کرنے کے لئے مجبور ہیں ۔

    لکھنئو کاریگر ایسوسی سیشن کے صدر مسیت بھائی کہتے ہیں کہ حکومت سے مطالبے بہت کئے گئے اور وزیروں نے وعدے بھی کئے، لیکن بھلا کبھی نہیں ہوا۔ ایک بار پھر یوگی جی سے درخواست ہے کہ چکن آری اور زردوزی سے جڑے کاریگروں کی بھلائی کے لئے کوئی ایسی اسکیم چلادیں، جس سے ان کی زندگی عزت کے ساتھ بسر ہوجائے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: