உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Uttar Pradesh: اردو کے اہم مراکز ، زبان وادب کا زوال اور اس کے اسباب 

    Uttar Pradesh: اردو کے اہم مراکز ، زبان وادب کا زوال اور اس کے اسباب 

    Uttar Pradesh: اردو کے اہم مراکز ، زبان وادب کا زوال اور اس کے اسباب 

    Uttar Pradesh : اسباب بہت سے ہیں لیکن بنیادی وجہ یہی ہے کہ اردو کو زندہ رکھنے اسے بچانے استحکام بخشنے اور اس زبان سے نئی نسل کو جوڑنے کی سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں ۔ آج بھی اردو کی فلاح و بہبود اور بقاکے لئے قائم کیے گئے اداروں میں صرف وہی پروگرام کرائے جارہے ہیں جن کے ذریعےسربراہوں اور کچھ مخصوص ملازمین کے ذاتی مداد اور مشن پورے ہوسکیں ۔

    • Share this:
    لکھنئو: اردو کا مستقبل کیا ہے؟ کیا روزگار سے جوڑے بغیر زبان کا تحفظ ممکن ہو سکتاہے؟ کیا نئی نسل کو صرف جذباتی بنیادوں پر اردا زبان و ادب اور تہذیب و ثقافت سے منسلک کیا جاسکتا ہے؟ یہ ایسے سوال ہے جن کے جواب اردو کے لقمے توڑنے والے اہل اردو کے پاس بھی نہیں ۔ سچ یہی ہے کہ اردو زبان و ادب کے اہم مرکز میں بھی اردو اپنے بد ترین دور سے گزر رہی ہے، اردو کتب فروش دوسرے کسی ذریعہ معاش کے بارے میں سوچنے لگے ہیں ۔ لکھنئو کے تاریخی  “دانش محل “ کے مالک محمد نعیم کی گفتگو سنُ کر احساس ہوتا ہے کہ واقعی اردو کتب فروشوں کی حالت کتنی خراب ہے ۔ نعیم کہتے ہیں ویسے ہی کاروبار نا کے برابر تھا اور رہی سہی  کسر موجودہ عہد میں پوری ہوگئی ہے ۔

    نعیم کہتے ہیں گزشتہ دس بارہ سال میں جس تیزی سے اردو کتب فروشی کا منظر نامہ تبدیل ہوا ہے، اس نے کتب فروشوں کو مایوسی میں مبتلا کرکے بدحال کردیا ہے۔ ادبی کتب تو اب بکتی ہی نہیں افسانوی اور شعری مجموعے خریدنے والا کوئی نہیں تاہم کورس میں پڑھائی جانے والی اردو کتابیں اور کچھ مذہبی کتابیں ضرور  بک جاتی تھیں، لیکن اب ان کی فروخت میں بھی غیر معمولی کمی ہے۔ اب وہ بھی نہیں بک پارہی ہیں اردو ادب سے دلچسپی کم ہونے کے سبب ادبی رسائل کا گوشہ بھی سنسان و ویران ہے مجموعی طور جو حالت بیان سے باہر ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ اب محمد نعیم نے بدلتے حالات کے پیش نظر اپنے کتب خانے دانش محل کے ہی ایک گوشے میں دوسرا کام بھی شروع کردیا ہے اور اسی سے کسی طرح زندگی کی نیّا پار لگ رہی ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: دہلی میں کورونا نے پھر پکڑی رفتار، 1100 سے زیادہ معاملات آئے سامنے، دو کی موت


    اردو کتابوں کی فروخت نہ ہونے کے سبب معروف کتب خانے مکتبہ دین و ادب کو پہلے بند کیا گیا اور پھر دوکان فروخت کردی گئی ۔ آپ کو یہ جان کر افسوس ہوگا کہ لکھنئو کا دل کہلانے والے امین آباد میں جس مکتبے پر کبھی ادب عالیہ پر مشتمل کتب فروخت ہوتی تھیں، اب انڈے پراٹھے اور کباب بیچے جارہے ہیں۔ مکتبہ دین و ادب کے مالک جمالی آسی سے جب کتب خانہ فروخت کرنے کے بابت پوچھا گیا تو انہوں نے واضح طور پر کہا کہ جس کاروبار سے بچوں کا پیٹ نہ بھر سکے، زندگی کے ضروری اور بنیادی مسائل حل نہ ہوسکیں، اس سے جذباتی طور پر جڑے رہنا مناسب نہیں ۔ اگر واقعی ہمیں معقول آمدنی ہوتی تو ہم وراثت کے طور پر ملے مکتبے کو کبھی فروخت نہ کرتے۔ ہر لمحہ ماضی یاد بھی آتا ہے، والد کی قربانیاں اور اردو سے محبت بھی یاد ہے، لیکن روٹی کمانے کے لئے کچھ تو کرنا ہی ہوگا ۔ اردو کتابیں بکتی نہیں تھیں، کئی سال کوشش کی اور تھک ہار کر کتب خانے کو بند کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔

    ہند انٹر کالج کے نزدیک صدیقی بک ڈپو کے پروپرائٹر عبد الرب صدیقی کہتے ہیں کہ پہلے اپنے ساتھ دونوں بیٹوں کو کتب فروشی کے کاروبار میں لگا رکھا تھا، لیکن اردو کی تو بات ہی کیا مجموعی طور پر حالات بہت خراب ہیں، اب ایک فیملی کے اخراجات بھی پورے کرنے دشوار ہیں۔ ادبی کتابیں بالخصوص شعری مجموعے الماریوں میں جگہ گھیرے ہوئے ہیں ، کوئی پرسانِ حال نہیں ، اردو کتابوں کے خریداروں کی قوت خرید ویسے ہی کمزور تھی اور بڑھتی بے روزگاری اور خراب ہوتےمعاشی نظام کا اس پر بہت برا اثر پڑا ہے۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے جب اردو کے اہم مراکز میں اردو کتب فروشوں کی یہ حالت ہے تو چھوٹے شہروں اور قصبوں کا منظر نامہ کیا کچھ بیان کر رہا ہوگا۔

     

    یہ بھی پڑھئے: J&K News: جنگ بندی معاہدہ پر پابندی سے عمل جاری، سرحدی علاقوں میں خوشی کا ماحول


    عبد الرب صدیقی تو یہ بھی کہتے ہیں کہ عملی طور پر یہ احساس ہونے لگا ہے کہ اردو کتابوں کا تھوڑا بہت تعلق جاتی ہوئی نسل سے باقی ہے، نئی نسل دور اور بہت دور ہوتی جارہی ہے۔ جب لوحِ مزار تک اردو میں نہیں لکھی جارہی ہوں تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ ایک زندہ و تابندہ زبان و ادب کے لئے اب قبرستان میں بھی جگہ نہیں اردو کے بصری مراکز اور شہروں سے قصبات و دیہات تک منظر نامہ کم و بیش یکسانیت لئے ہوئے ہے۔

    سرکاری اداروں، یونیورسٹیوں، کالجوں اور اکادمیوں میں بیٹھے لوگ کچھ بھی کہتے رہیں، لیکن ایک کڑوا سچ یہی ہے کہ اب ہندوستان بالخصوص اتر پردیش میں اردو کے سنہرے خواب دیکھنے اور دکھانے والے دونوں لوگ یا تو بینائی کھو چکے ہیں یا پھر اپنے ساتھ ساتھ آنے والی نسل کو بھی دھوکا دے رہے ہیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: