உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Uttar Pradesh News: جدید تعلیمی تقاضے اور ہمارا نظامِ تعلیم 

    Uttar Pradesh News: جدید تعلیمی تقاضے اور ہمارا نظامِ تعلیم 

    Uttar Pradesh News: جدید تعلیمی تقاضے اور ہمارا نظامِ تعلیم 

    Uttar Pradesh: تعلیم کے میدان میں انقلاب برپا کرنے کے لئے ہمیں وہ تمام جدید وسائل اور طریقہءِ کار استعمال کرنے ہوں گے جو تعلیمی ترقی کو یقینی بناکر طلبا کو روشن و مستحکم مستقبل فراہم کرسکیں ۔

    • Share this:
    لکھنو : اگر ہمارے تعلیمی اداروں اور دانش گاہوں میں بہتر تعلیمی فضا اور ماحول قائم کیا جائے ، مختلف شعبوں میں بنیادی اور جدید سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنادیا جائے تو پوری دنیا کے طلبا و طالبات کو راغب و متاثر کیا جاسکتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار معروف دانشور و پروفیسر تحسین عثمانی نے کیا ۔واضح رہے کہ لکھنئو واقع انٹیگرل یونیورسٹی میں جدید طرز پر نصب کئے گئے شمسی توانائی کے پلانٹ کو دیکھنے اور اس سے مستفیض ہونے کے لئے حال ہی میں انجینئرنگ کررہے جرمن کے طالبِ علم مسٹر جوشوا زِک Joshua Zick نے انٹیگرل یونیورسٹی کا دورا کیا ،جوشوازک کو ایک انٹرن کی حیثیت سے یونیورسٹی کے مکینیکل انجیرنگ کے شعبے میں چھ ہفتے کے اندر پروفیسر آر کے بھارتی کی نگرانی میں اپنا خصوصی تحقیقی کام مکمل کرنا ہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے:  سی بی آئی نے کی پہلی گرفتاری، دو بڑے افسران حراست میں


    اس موقع پر پروفیسر تحسین عثمانی نے مسٹر جوشوازک کی رہنمائی اور قیادت کرتے ہوئے نہ صرف انہیں شمسی توانائی کے پلانٹ کے بارے میں مکمل جانکاری دی بلکہ ان کے سوالوں کے اطمینان بخش جواب دے کر انہیں مطمئن بھی کیا ۔ ساتھ ہی انہیں یہ باور بھی کرادیا کہ چھ ہفتے کی تربیت و تحقیق کے دوران انہیں کسی بھی طرح کی کوئی دشواری یا مسئلہ پیش آئے تو وہ کسی بھی وقت رابطہ کرسکتے ہیں ، ان کے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے گا ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: عمران کے قریبی کو بغیر نمبر کی گاڑی میں اٹھا کر لے گئی پولیس، بھڑکے سابق پی ایم


    پروفیسر تحسین عثمانی سے گفتگو کے بعد مسٹر  جو شوا  زک نے ہمارے نمائندے سے بات کرے ہوئے کہا کہ میری تربیت اور تحقیقی کام کے لئے انٹیگرل یونیورسٹی ایک بہترین جگہ ہے مجھے یقین ہے کہ یہاں کے اساتذہ کی سربراہی اور   یہاں دستیاب وسائل سے میں اپناکام بخوبی انجام دے سکوں گا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس یونیورسٹی کے لوگ بالخصوص انتظامیہ اور اساتذہ جس انداز سے پیش آتے ہیں اس سے طلبا کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے اور اپنے کام کو بہتر طور پر انجام دینے کے لئے ان کا اعتماد و یقین بھی بحال ہوتا ہے ۔

    اس موقع پر پروفیسر آر کے بھارتی نے بھی واضح کیا کہ وہ پروفیسر تحسین عثمانی کی ہدایات کے مطابق تمام تر عملی اقدامات کو یقینی بنائیں گے، جس سے بیرونی ممالک سے آنے والے طلبا کی علمی اور تحقیقی پیاس بھی بجھ جائے اور ان کے مقاصد بھی پورے ہوجائیں ۔ پروفیسر عثمانی نے یہ بھی واضح کیا کہ یونیورسٹی کے بانی چانسلر پروفیسر سید وسیم اختر، پرو چانسلر پروفیسر سید ندیم اختر اور وائس چانسلر پروفیسر جاوید مسرت سمیت سبھی ذمہ داران نے اس یونیورسٹی کو تعلیمی اعتبار سے منفرد و ممتاز بنانے کے لئے جو خطوط وضع کئے ہیں ان پر عمل کرتے ہوئے ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ دنیا کے نقشے پر یہ دانش گاہ تعلیمی اعتبار سے اپنی ممتاز شناخت اور انفرادیت کو قائم رکھتے ہوئے مزید بہتری کی طرف گامزن ہو اور یہاں سے فارغ ہونے والے طلبا و طالبات خوشگوار تاثر اور مستحکم یقین کے ساتھ اپنے خوابوں کی تعبیر اور مستقبل کی تعمیر کریں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: