ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

میرٹھ : دوبارہ لاک ڈاؤن کے اندیشہ سے غریب کامگار اور یومیہ مزدوری پیشہ افراد خوفزدہ

Meerut News : تیزی سے بڑھتے معاملوں کے سبب حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے سخت احکامات کے بعد سماج کا کمزور اور دیہاڑی کامگار طبقہ لاک ڈاؤن کے خدشہ کو لے کر کافی خوف زدہ ہے ۔

  • Share this:
میرٹھ : دوبارہ لاک ڈاؤن کے اندیشہ سے غریب کامگار اور یومیہ مزدوری پیشہ افراد خوفزدہ
میرٹھ : دوبارہ لاک ڈاؤن کے اندیشہ سے غریب کامگار اور یومیہ مزدوری پیشہ افراد خوفزدہ

میرٹھ : کورونا انفیکشن کے تیزی سے بڑھ رہے معاملات نے ایک بار پھر عام لوگوں کے دلوں میں لاک ڈاؤن کا خوف پیدا کر دیا ہے ۔ خاص طور پر ریاست اُتر پردیش میں ایک دن میں ملنے والے  کورونا متاثر افراد کی تعداد 4 ہزار سے تجاوز کر رہی ہے ۔  ایسے حالات میں یو پی حکومت کی جانب سے بھی سخت احکامات جاری کیے جا رہے ہیں ۔ ایک بار پھر سے لاک ڈاؤن کے حالات پیدا ہونے سے سماج کا کمزور طبقہ سب سے زیادہ خوف زدہ اور پریشان نظر آرہا ہے ۔ مغربی یو پی میں کورونا انفیکشن کے سب سے زیادہ معاملات ان دنوں میرٹھ میں سامنے آرہے ہیں۔ گزشتہ روز ایک دن میں کورونا سے متاثر ہونے والوں کی یہ تعداد 100 سے تجاوز کرگئی ہے ۔


تیزی سے بڑھتے معاملوں کے سبب حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے سخت احکامات کے بعد سماج کا کمزور اور دیہاڑی کامگار طبقہ لاک ڈاؤن کے خدشہ کو لے کر کافی خوف زدہ ہے ۔ بیٹری رکشا چلا کر اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالنے والے میرٹھ کے رئیس اور سریش کہتے ہیں کہ اس مرتبہ لاک ڈاؤن لگا تو غریب ہلاک ہو ہوجائے گا ۔ کورونا سے پہلے بھوک سے مر جائے گا ۔


ہوٹل پر کام کرنے والے دیہاڑی مزدور پرویز اور  پرانی تحصیل علاقہ میں ایک چھوٹی سی دکان چلانے والے محمد اقبال کے حالات بھی کچھ الگ نہیں ہیں ۔ گزشتہ سال لاک ڈاؤن کے دوران جمع پونجی ختم ہو گئی ، لاک ڈاؤن کے بعد کاروبار کچھ پٹری پر لوٹتا نظر آرہا تھا کہ اس سال پھر سے کورونا کی دوسری لہر کا خطرہ بڑھنے لگا ۔ محمد اقبال بتاتے ہیں کہ گزشتہ سال لئے قرض کی قسطوں کا بوجھ برقرار ہے ، ایسے میں اگر دوبارہ لاک ڈاون لگا تو دکان اور گھر کا سامان فروخت کرنے کی نوبت آسکتی ہے ۔


گزشتہ 24 گھنٹے میں ایک لاکھ سے زیادہ نئے معاملوں کے سامنے آنے کے بعد کورونا کی دوسری لہر نے پچھلے سال کا بھی ریکارڈ توڑ دیا ہے ۔ ان حالات میں انفیکشن کے بڑھتے خطرے سے نمٹنے کیلئے حکومت سخت فیصلے لے سکتی ہے ۔ ایسے میں دوبارہ لاک ڈاؤن کے خوف نے عام لوگوں کو انفیکشن کے خطرے سے زیادہ روزگار کے ختم ہونے کے خوف سے پریشان کر رکھا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 08, 2021 09:18 PM IST