உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    OMG! میرٹھ کی اس خاتون نے ایک ساتھ تین بچوں کو دیا جنم، اسپتال میں منایا گیا جشن

    OMG! میرٹھ کی اس خاتون نے ایک ساتھ تین بچوں کو دیا جنم، اسپتال میں منایا گیا جشن

    OMG! میرٹھ کی اس خاتون نے ایک ساتھ تین بچوں کو دیا جنم، اسپتال میں منایا گیا جشن

    اترپردیش کے شہر میرٹھ کے ایک میڈیکل کالج اسپتال میں 51 سالہ خاتون نے ایک ساتھ تین صحت مند بچوں کو جنم دیا ہے۔ تین بچوں میں سے پہلے لڑکے کا وزن 2 کلو ہے ، جس کو ماں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    • Share this:
      میرٹھ : اترپردیش کے شہر میرٹھ کے ایک میڈیکل کالج اسپتال میں 51 سالہ خاتون نے ایک ساتھ تین صحت مند بچوں کو جنم دیا ہے۔ تین بچوں میں سے پہلے لڑکے کا وزن 2 کلو ہے ، جس کو ماں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ وہیں دوسرے لڑکے کا وزن 1.9 کلو اور تیسری لڑکی کا وزن 1.5 کلو ہے، جنہیں ابھی این آئی سی یو میں رکھا گیا ہے ۔ ڈاکٹروں کے مطابق دونوں صحت مند ہیں اور جلد ان کی والدہ کے حوالے کر دئے جائیں گے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : CM بھگونت مان کے خلاف پولیس میں شکایت درج، شراب پی کر گرودوارہ میں داخل ہونے کا الزام


      میڈیکل کالج کے میڈیا انچارج ڈاکٹر وی ڈی پانڈے نے بتایا کہ 51 سالہ نینا میرٹھ میں واقع درگا نگر کی رہنے والی ہیں۔ ان کے شوہر کا نام رابن سکسینہ ہے۔ نینا 8 ماہ 3 ہفتے (کل 35 ہفتے) کی حاملہ تھی۔ ان کا علاج ڈاکٹر ارونا ورما کر رہی تھیں۔ ڈاکٹر ارونا اور ان کی ٹیم کی ڈاکٹر راگھوی اور ڈاکٹر پرتشٹھا نے کامیاب آپریشن کیا ۔ پرنسپل ڈاکٹر آر سی گپتا نے کامیاب آپریشن کے لئے ڈاکٹر ارونا اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : کانگریس میں شامل ہوں گے پرشانت کشور؟ دہلی میں Congress ہائی کمان کے ساتھ میٹنگ


      میرٹھ کے لالہ لاجپت رائے میڈیکل کالج میں ایک ساتھ تین بچوں کی پیدائش سے خوشی کا ماحول ہے۔ اسپتال میں جہاں بچوں کے والدین نے جشن منایا تو وہیں ڈاکٹروں کی ٹیم کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے ۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز بہت کم ہوتے ہیں کہ ایک خاتون بیک وقت تین بچوں کو جنم دیتی ہے۔

      وہیں ایک ساتھ تین بچوں کو جنم دینے والی ماں کے بارے میں جو بھی سنتا ہے حیران رہ جاتا ہے اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے کہ کنبہ مکمل ہو گیا ہے۔ بھگوان نے اس جوڑے کو دو لڑکے اور ایک لڑکی کی شکل میں پرساد دیا ہے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: