உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Meerut : ہاشم پورہ کے بعد مليانہ قتل عام کے متاثرین کو 35 برسوں سے انصاف کا انتظار

    Meerut : ہاشم پورہ کے بعد مليانہ قتل عام کے متاثرین کو 35 برسوں سے انصاف کا انتظار

    Meerut : ہاشم پورہ کے بعد مليانہ قتل عام کے متاثرین کو 35 برسوں سے انصاف کا انتظار

    ملیانہ واقعہ کے چشم دید اور متاثرین میں کچھ جہاں ہاشم پورہ معاملے میں آئے کورٹ کے فیصلے اور ملیانہ معاملے میں رٹ پٹیشن سے خود کے لئے بھی ایک انصاف کی امید کرتے ہیں تو وہیں کچھ متاثرین عدالتی کاروائی کی سست رفتاری اور ناکارہ سسٹم کا حوالہ دیکر نا امیدی کا اظہار کرتے ہیں ۔

    • Share this:
    میرٹھ : سن 1987 کے میرٹھ فسادات میں ہاشم پورہ قتل عام کے دوسرے روز ہی تئیس مئی کو میرٹھ کے ملیانہ علاقے میں اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ستّر سے زیادہ افراد کو تشدد کا شکار بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا ۔ اس قتل عام کے پیتیس سال گزر جانے کے بعد بھی آج مالیانہ فسادات کے متاثرین کو انصاف کا انتظار ہے اور ہر سال تئیس مئی کی تاریخ کو برسی کے دن فسادات کے اُس منظر کی یادوں سے ان کے زخم تازہ ہو جاتے ہیں، لیکن معاملہ کو لیکر حکومتوں کی عدم دلچسپی اور عدلیہ کی سست روی سے ان پيتیس برسوں میں متاثرین کو محض مایوسی ہی حاصل ہوئی ہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: ٹوکیو میں PM موی نے کہا : ہمارے درمیان بھروسہ، شفافیت اور وقت کی پابندی ضروری


    بائیس مئی سن اُنیس سو ستاسی کو ہاشم پورہ واقعہ کے اگلے روز تئیس مئی کو ہی میرٹھ کے ملیانہ علاقے میں پی اے سی پولیس اور بلوائیوں نے آگ زنی لوٹ اور خوں ریزی کی وارداتوں کو کھلے عام انجام دیا ۔  ملی جلی آبادی  والے ملیانہ اور آس پاس کے محلہ میں ایک سو پچیس سے زیادہ گھروں کو لوٹنے کے بعد نذر آتش کر دیا گیا۔  چشمدید افراد کے مطابق گھروں کو لوٹنے کے بعد جہاں  فسادی گھروں میں آگ زنی کرکے عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنا رہے تھے تو وہیں جان بچا کر بھاگ رہے لوگوں کو پولیس اور پی اے سی کے جوان اپنی گولیوں کا نشانہ بنا رہے تھے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس قتل عام میں تہتر  افراد قتل کیے گئے جن میں صرف ملیانہ محلہ میں چھتیس افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ۔ اس واقعہ کے شکار افراد میں سے بائیس افراد کی قبریں یہاں کے مقامی قبرستان میں آج بھی اس کی نشانی کے طور پر موجود ہیں ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: شمالی کشمیر کے پٹن میں سرپنچ کے قتل کا معاملہ حل، تین ملی ٹینٹس گرفتار


    ہاشم پورہ معاملہ کی طرح ملیانہ قتل عام معاملہ کو بھی دبانے اور ختم کرنے کی کوشش کی گئی ، لیکن ہاشم پورہ معاملے کو لیکر جہاں متاثرین نے ہر مورچے پر لڑائی کو جاری رکھا تو وہیں ملیانہ کا معاملہ سسٹم کے ستم کے ساتھ متاثرین کی سستی اور ملّت کی لاپروائی کا شکار ہو گیا ۔

    ملیانہ واقعہ کے چشم دید اور متاثرین میں کچھ  جہاں ہاشم پورہ معاملے میں آئے کورٹ کے فیصلے اور ملیانہ معاملے میں رٹ پٹیشن  سے خود کے لئے بھی ایک انصاف کی امید کرتے ہیں تو وہیں کچھ متاثرین عدالتی کاروائی کی سست رفتاری اور ناکارہ سسٹم کا حوالہ دیکر نا امیدی کا اظہار کرتے ہیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: