ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اترپردیش : اقلیتی مسائل اور سیاسی منصوبہ بندی

سماجی کارکن عامر صابری کہتے ہیں کہ بی جے پی کے دور اقتدار میں اقلیتی طبقے کے لوگوں کا استحصال ہر سطح پر کیا گیا ہے ۔ یہ بات آئینے کی طرح صاف ہے کہ موجودہ اقتدار میں اقلیت نوازی کا تعلق صرف بیانات اور کاغذات کی حد تک محدود ہے ۔ عملی طور پر نہ کچھ کیا گیا ہے اور نہ مستقبل میں کچھ کئے جانے کے امکانات ہیں ۔

  • Share this:
اترپردیش : اقلیتی مسائل اور سیاسی منصوبہ بندی
اترپردیش : اقلیتی مسائل اور سیاسی منصوبہ بندی

لکھنئو: برسر اقتدار جماعت اور اس کی حلیف تنظیموں کی جانب سے ترقی اور وکاس کے کتنے ہی دعوے کیوں نہ کئے جائیں ، کتنے ہی نعرے کیوں نہ لگائے جائیں ، لیکن عوامی سطح پر جو رد عمل سامنے آرہا ہے وہ تمام دعووں وعدوں اور نعروں کی نفی کرتا ہے اور اگر بات اقلیتی طبقے کے لوگوں کے رد عمل کی کریں تو منظر نامہ تشویش ناک  حد تک خراب ہے۔ معروف صحافی اور سماجی کارکن عامر صابری کہتے ہیں کہ بی جے پی کے دور اقتدار میں اقلیتی طبقے کے لوگوں کا استحصال ہر سطح پر کیا گیا ہے ۔ یہ بات آئینے کی طرح صاف ہے کہ موجودہ اقتدار میں اقلیت نوازی کا تعلق صرف بیانات اور کاغذات کی حد تک محدود ہے ۔ عملی طور پر نہ کچھ کیا گیا ہے اور نہ مستقبل میں کچھ کئے جانے کے امکانات ہیں ۔


معروف سیاسی لیڈر صلاح الدین مسّن کے مطابق موجودہ حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں سے لوگ پوری طرح واقف ہو گئے ہیں اور بہوجن سماج پارٹی کی جانب حسرت و امید کی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ غریب دلت مسلم اور سبھی ذاتوں کے پسماندہ لوگوں کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ بہوجن کو ساتھ لئے بغیر نہ ملک کی ترقی ممکن ہے اور نہ یکجہتی اور تحفظ  کا قیام ۔


مسلم مت داتا جاگروک سنگھ کے سکریٹری شعیب ایڈوکیٹ کے مطابق موجودہ عہد امن پسند اور جمہوریت میں یقین رکھنے والے شہریوں کے لئے تازیانہ عبرت ہے ۔ نہ روزگار ہے نہ زندگی کی بنیادی سہولیات جب اتر پردیش کی راجدھانی میں ہی لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں تو دوسرے شہروں اور قصبوں کی تو بات ہی کیا ۔ گزشتہ  کئی ماہ سے لکھنئو کی  بیشتر سڑکوں پر چلنا دشوار ہے ۔ دس منٹ کا راستہ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے ۔ مہینوں سڑکیں کھدی پڑی رہتی ہیں ، لیکن تعمیر کے نام پر کیا جانے والا کام وبالِ جان بن گیا ہے۔


مسلم راشٹریہ منچ سے تعلق رکھنے والے اسلم ہارون کہتے ہیں کہ یوگی راج میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے ۔ بس اتر پردیش کے مسلمانوں کو سماج وادی پارٹی گمراہ کررہی ہے ۔ جب موصوف سے ہم نے یہ دریافت کیا کہ کوئی چار ایسے کام بتائیے جو موجودہ عہد میں اقلیتی بہبود کے پیش نظر کئے گئے ہوں ، تو وہ خاموش ہوگئے ۔ لیکن سیاسی لوگوں کی اپنی مصلحتیں اور مجبوریاں ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 13, 2021 09:23 PM IST