ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

محرم کے عشرے میں سونے پڑے ہیں لکھنئو کے شاہی عزا خانے ، حکومت کے ساتھ علما بھی ذمہ دار

رایل فیملی آف اودھ کے نائب صدر نواب میر جعفر عبد اللہ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ جب لکھنئو کے شاہی عزا خانے محرم کے دوران سونے پڑے ہیں اور اس کے لئے حکومت اور حسین آباد ٹرسٹ کے لوگ تو ذمہ دار ہیں ہی ساتھ وہ مولوی حضرات بھی کم ذمہ دار نہیں ہیں ، جنہوں نے انتظامیہ سے اپنے ذریعہ پڑھی جانے والی مجالس کی اجازت تو حاصل کرلی لیکن تاریخی شاہی عزا خانوں کی مجالس اور عزاداری پرمشتمل دیگر امور کے لئے لب کشائی نہیں کی ۔

  • Share this:
محرم کے عشرے میں سونے پڑے ہیں لکھنئو کے شاہی عزا خانے ، حکومت کے ساتھ علما بھی ذمہ دار
محرم کے عشرے میں سونے پڑے ہیں لکھنئو کے شاہی عزا خانے ، حکومت کے ساتھ علما بھی ذمہ دار

لکھنئو : محرم کے عشرے میں اگرلکھنئو کے شاہی عزا خانوں میں ذکر اہل بیت نہ  ہو، چراغاں نہ کیا جائے، مجالس کا اہتمام نہ ہو سکے ، تبرکات کے تقسیم کو یقینی نہ بنایا جائے اور ان تمام عوامل پر معاشرے کا سنجیدہ طبقہ خاموش رہے ، بالخصوص منبروں پر بیٹھ کر عزاداری و شریعت کے تحفظ کی بات کرنے اور ذکر حسین کے نام پر دولت جمع کرنے والے لوگ خاموش رہیں تو سمجھا جا سکتا ہے کہ ملت و معاشرے پر کس حد تک بے حسی طاری ہے ۔


رایل فیملی آف اودھ کے نائب صدر نواب میر جعفر عبد اللہ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ جب لکھنئو کے شاہی عزا خانے محرم کے دوران سونے پڑے ہیں اور اس کے لئے حکومت اور حسین آباد ٹرسٹ کے لوگ تو ذمہ دار ہیں ہی ساتھ وہ مولوی حضرات بھی کم ذمہ دار نہیں ہیں ، جنہوں نے انتظامیہ  سے اپنے ذریعہ پڑھی جانے والی مجالس کی اجازت تو حاصل کرلی لیکن تاریخی شاہی عزا خانوں کی مجالس اور عزاداری پرمشتمل دیگر امور کے لئے لب کشائی نہیں کی ۔ نتیجہ سامنے ہے کہ صدیوں سے مذہبی روایتوں کے روشن چراغ گل ہوگئے اور شاہی عزا خانے مجالس و ماتم کے بغیر سونے ہوگئے ۔


نواب مسعود عبداللہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے طور پر بہت کوشش کی اور حسین آباد ٹرسٹ کے ذمہ دار ، لکھنئو کے موجودہ ڈی ایم سے  یہ درخواست بھی کی کہ ہمیں سوشل ڈسٹنسنگ اور لازمی ضابطوں کے ساتھ مجالس منظم کرنے کی اجازت دی جائے ، لیکن اجازت نہیں دی گئی ۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مشہور ومعروف علما سے لے کر نام نہاد مولویوں تک کے ہونٹوں پر مصلحت اور خوف کے تالے پڑے رہے اور شاہی عزا خانوں میں عزاداری کے روایتی چراغ روشن نہ ہوسکے ۔ وہ تبرک بھی تقسیم نہ ہوسکا جسے شاہی رسوئی میں تیار کرا کر غریبوں میں تقسیم کیا جاتا تھا ۔


رایل فیملی آف اودھ کے نائب صدر نواب میر جعفر عبد اللہ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ جب لکھنئو کے شاہی عزا خانے محرم کے دوران سونے پڑے ہیں ۔
رایل فیملی آف اودھ کے نائب صدر نواب میر جعفر عبد اللہ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ جب لکھنئو کے شاہی عزا خانے محرم کے دوران سونے پڑے ہیں ۔


نواب مسعود عبداللہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ اب  لوگ عزاداری کے نام پر عقیدت سے دور اور نمائش کے قریب ہوتے جارہے ہیں ۔ جب مجالس میں خواتین شادیوں کے لئے لڑکیاں منتخب کرنے لگیں ، رشتے طے ہونے لگے تو سمجھا جاسکتا ہے کہ لوگ کس حد تک اپنے محور و مرکز سے بھٹک گئے ہیں ۔

معروف دانشور ادیب و ناقد شارب ردولوی کہتے ہیں ماضی سے حال تک بڑے  پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ۔ اہم بات یہ ہے کہ اب اہل بیت سے محبت و عقیدت کے اظہار میں صداقت کم اور خود نمائی زیادہ نظر آتی ہے ۔ پہلے لوگ اہل بیت کا غم بالکل اس طرح مناتے تھے جیسے ان کے اپنے گھر میں کوئی شہادت ہوئی ہے ۔ عشرے کے دوران فرش پر سونا ، نہایت معمولی غذائیں کھانا ، چنے اور مونگ پھلی پر مشتمل تبرکات کے حصول کے لئے دستِ طلب دراز کئے ہوئے قطاروں میں کھڑے رہنا ، نواب آصف الدولہ کا خود حسینی فقیر بن کر باقاعدہ بھیک مانگنا اور بھیک کے اس جمع پیسوں سے مولیٰ کی نذر و نیاز ہونا، کیسی روشن اور خوش عقیدہ روایتیں تھیں اور کیسی خود نمائی اور نمائش میں تبدیل ہو گئیں ۔ آج کے اس ماحول کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔

ذمہ داری ان لوگوں پر زیادہ عائد ہوتی ہے ، جنہوں نے نذرانوں ، عماموں اور شیروانیوں پر زیادہ توجہ دی اور ذکر اہل بیت کے بنیادی مقاصد کو فراموش کردیا ۔ کورونا میں احتیاط لازمی ہے، حکومت کے احکامات کی پابندی بھی ضروری ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب پانچ لوگوں کی اجازت ہے تو پانچ لوگوں کے ساتھ ہی شاہی عزاخانوں میں مجالس ہونا چاہئے تھیں ۔ لیکن شاہی عزاخانوں میں مجالس کا نہ ہونا ۔ایک ایسا عمل ہے جو اہل بیت سے عقیدت و محبت کا دعویٰ کرنے والے ہر شخص کو اپنے محاسبے کی دعوت دیتا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 29, 2020 05:19 PM IST