ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

میرٹھ : کیا حکومت کے اس بڑے قدم سے بدلے گی ہستینہ پور کی تقدیر ؟

میرٹھ ضلع میں شہر سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہستینہ پور قصبہ مہابھارت کی قدیم ترین تاریخ کو سنجوئے ہوئے ہے ۔ اس مقام کی تاریخی اہمیت کا ذکر پران کے علاوہ جین گرنتھوں میں بھی ملتا ہے ۔

  • Share this:
میرٹھ : کیا حکومت کے اس بڑے قدم سے بدلے گی ہستینہ پور کی تقدیر ؟
میرٹھ : کیا حکومت کے اس بڑے قدم سے بدلے گی ہستینہ پور کی تقدیر ؟

مغربی اتر پردیش میں میرٹھ ضلع کی تاریخی اہمیت محض 1857 کی پہلی جنگ آزادی سے ہی منسوب نہیں ہے ۔ بلکہ پانچ ہزار سال پرانی مہابھارت کی تاریخ کے اہم مقام ہستینہ پور سے بھی منسوب ہے ۔ ہستینہ پور کی تاریخی اہمیت کو محفوظ کرنے کے لئے مرکزی حکومت نے اس سال بجٹ میں خاص رقم مختص کرتے ہوئے قومی میوزیم کی تعمیر کا منصوبہ تو پیش کر دیا ہے ، لیکن میرٹھ ہستینہ پور ریل لائن کو منسوخ کیے جانے سے لوگوں میں مایوسی بھی ہے ۔


میرٹھ ضلع میں شہر سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہستینہ پور قصبہ مہابھارت کی قدیم ترین تاریخ کو سنجوئے ہوئے ہے ۔ اس مقام کی تاریخی اہمیت کا ذکر پران کے علاوہ جین گرنتھوں میں بھی ملتا ہے ۔ ہندو اور جین مذہب کے ماننے والوں کے نزدیک  اس مقام کی خاص مذہبی اہمیت رہی ہے ۔ 1950 میں اس جگہ کی کھدائی کے بعد آثار قدیمہ کے ذریعہ بھی اس مقام کی قدیم تاریخی اہمیت ثابت ہوئی ، لیکن گزشتہ پچاس برسوں میں اس علاقے کی تعمیر اور ترقی اور تاریخی اہمیت کو برقر رکھنے کے لئے کوئی خاص پیش رفت نہیں کی گئی ۔ تاہم ہستینہ پور کو سیاحتی مقام کے طور پر مقبول کرنے کے لئے اس سال بجٹ میں الگ سے اعلان کیا گیا ۔


قومی میوزیم کی تعمیر اور ترقیاتی کاموں کے اعلان سے قبل گزشتہ سالوں میں ریل بجٹ کی پنک کتاب میں میرٹھ ہستینہ پور لنک ریل لائن کی تعمیر کا منصوبہ پیش کیا جاتا رہا ہے ، لیکن اس سال اس پروجیکٹ کو منسوخ کر دیا گیا ۔ تاریخ کے جانکاروں کے مطابق ہستینہ پور کے لئے مرکزی حکومت کی پیش رفت ایک بہتر قدم ضرور ہے ، تاہم ریل لنک کے منصوبے کے  منسوخ ہونے سے اس علاقے کی تعمیر اور ترقی کی رفتار دھیمی ضرور ہو جائے گی ۔


میرٹھ کی موانہ تحصیل کا ہستینہ پور قصبہ قدیم تاریخی نشانیوں کا اہم مقام ہے ، لیکن تاریخی اہمیت کا حامل یہ مقام  ہمیشہ سے حکومتوں کی عدم توجہی کا شکار رہا ہے ۔ ایسے میں ہستینہ پورعلاقے کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنے کی مرکزی حکومت کی پیش رفت کی جہاں ستائش کی جا رہی ہے ، وہیں ریل لنک کے منصوبے کو منسوخ کرنے پر افسوس بھی ظاہر کیاجا رہا ہے ۔
First published: Feb 13, 2020 11:03 PM IST