ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کورونا وائرس : لکھنو کی آصفی مسجد میں نہیں ہوئی جمعہ کی نماز ، دیگر مساجد میں بھی تعداد کافی کم

کورونا وائرس کو لے کر وزیر اعظم کی جانب سے کی جانے والی اپیل کو لے کر بھی لوگوں میں مثبت رجحانات دیکھنے کو ملے ہیں ۔

  • Share this:
کورونا وائرس : لکھنو کی آصفی مسجد میں نہیں ہوئی جمعہ کی نماز ، دیگر مساجد میں بھی تعداد کافی کم
کورونا وائرس: لکھنو کی آصفی مسجد میں نہیں ہوئی جمعہ کی نماز ، دیگر مساجد میں تعداد کافی کم

کورونا وائرس سے تحفظ کے لئے دی جانے والی ہدایات کا اثر آج لکھنئو کی بیشتر مساجد میں دیکھا گیا ۔ احتیاطی تدابیر کے تحت امام باڑے کے صدر دروازے پر تالا ڈال دیا گیا ہے اور آصفی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا نہیں کی گئی ۔ لیکن عیش باغ میں واقع مسجد میں مولانا خالد رشید فرنگی محلی کی امامت میں با جماعت نماز ادا کی گئی ۔ تاہم نماز میں صرف چالیس ، پچاس شریک ہوئے ۔ تاہم نمازیوں کے مسجد میں داخلہ سے قبل سنیٹائزر کے استعمال کو یقینی بنایا گیا اور اس کے بعد ہی مساجد میں داخلے کی اجازت دی گئی ۔


مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے اپنے خطبے میں واضح طور پر لوگوں کو کورونا سے بچنے کے لئے ضروری ہدایات جاری کیں ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ملک جن حالات سے گزر رہا ہے ، اس میں وبا سے بچنے کیلئے حکومت اور ایک دوسرے کا تعاون بہت ضروری ہے ۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ گزشتہ روز کی گئی اپیلوں کا اثر اس صورت میں بھی دیکھنے کو ملا کہ بیشتر نمازی گھر سے ہی وضو کرکے مسجد آئے تھے ۔ مولانا نے اس بات کا بھی خیال رکھا کہ لوگ کم سے کم وقت مسجد میں رکیں اور ایک دوسرے سے مصافحہ اور معانقہ  نہ کریں ۔


وزیر اعظم کی جانب سے اس ضمن میں کی جانے والی اپیل کو لے کر بھی لوگوں میں مثبت رجحانات دیکھنے کو ملے ہیں ۔ کورونا کی وبا سے بچنے کیلئے گھروں میں رہنا زیادہ بہتر ہے لہٰذا جو کچھ بھی احکامات کورونا سے تحفظ کیلئے دئے جارہے ہیں ، انہیں ماننا سبھی کے لئے بہتر ہے ۔


سیاسی ، سماجی اور مذہبی سطح  پر لوگوں سے مسلسل اپیل کی جارہی ہے کہ وہ تحفظ کے ہر ممکن اقدامات کریں اور ان اپیلوں کا اثر آج لکھنئو کی مختلف مساجد میں بھی دیکھنے کو ملا ہے ۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے مریضوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے اور ساتھ ہی ہدایات واحکامات  بھی جاری کئے جارہے ہیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ اس مہلک وائرس سے نجات کا بہتر طریقہ اپنا تحفظ خود کرنا ہے ۔
First published: Mar 20, 2020 10:08 PM IST