உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Prayagraj Violence: جے این یو کی طالبہ آفرین فاطمہ کے والد جاوید کے گھر پر چلا بلڈوزر، کثیر تعداد میں پولیس اہلکار تعینات

    Prayagraj Violence: جے این یو کی طالبہ آفرین فاطمہ کے والد جاوید کے گھر پر چلا بلڈوزر، کثیر تعداد میں پولیس اہلکار تعینات ۔ تصویر : ANI

    Prayagraj Violence: جے این یو کی طالبہ آفرین فاطمہ کے والد جاوید کے گھر پر چلا بلڈوزر، کثیر تعداد میں پولیس اہلکار تعینات ۔ تصویر : ANI

    Prayagraj Violence: اترپردیش کے پریاگ راج میں جمعہ کو نماز کے بعد بھڑکے تشدد کے معاملہ میں اہم ملزم بتائے جارہے محمد جاوید عرف جاوید پمپ کے گھر پر اتوار دوپہر کو بلڈوزر چلایا گیا ۔

    • Share this:
      پریاگ راج : اترپردیش کے پریاگ راج میں جمعہ کو نماز کے بعد بھڑکے تشدد کے معاملہ میں اہم ملزم بتائے جارہے محمد جاوید عرف جاوید پمپ کے گھر پر اتوار دوپہر کو بلڈوزر چلایا گیا ۔ اس دوران وہاں کثیر تعداد میں پولیس اہلکار موجود رہے ۔ وہاں سے پولیس اہلکاروں نے احتجاج کی اپیل والے پوسٹر بینر بھی ہٹائے۔

       

      یہ بھی پڑھئے: UP Violence: جمعہ کی نمازکے بعد ہوئے تشدد میں اب تک 306 افراد گرفتار


      دراصل پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے کریلی کے جے کے آشیانہ کالونی میں واقعہ 1500 مربع فٹ میں بنے جاوید کے دو منزلہ عالیشان گھر پر نوٹس چسپاں کرکے اتوار کی صبح گیارہ بجے تک اس عمارت کو خالی کرنے کیلئے کہا تھا ۔ جاوید پر پی ڈی پی سے نقشہ پاس کرائے بغیر گھر بنانے کا الزام ہے ۔ اتھاریٹی نے 10 مئی کو اس سلسلہ میں نوٹس جاری کیا تھا، جس کے بعد 24 مئی تک ریکارڈ پیش نہ کرنے پر منہدم کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا ۔


      یہ بھی پڑھئے: Gujarat: بورسد شہر میں تشدد، چار پولیس اہلکار زخمی، کثیر تعداد میں سیکورٹی اہلکار تعینات


      بتادیں کہ محمد جاوید جے این یو میں زیر تعلیم آفرین فاطمہ کے والد ہیں ۔ آفرین نے سی اے اے مخالف مظاہرہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ۔ آفرین حجاب پر پابندی کے دوران بھی کافے بے باک رہی تھیں ۔ جے این یو طالبہ نے حجاب پر پابندی کے دوران جنوبی ہندوستان میں کئی شہروں کا دورہ کیا تھا اور مظاہروں میں حصہ لیا تھا ۔

      آفرین کے والد کے گھر پر بلڈوزر چلائے جانے کے بعد ٹویٹر پر بھی لوگ اپنے رد عمل کا اظہار کررہے ہیں ۔ اسد الدین اویسی اور ششی تھرور سمیت کئی لیڈروں نے آفرین کی حمایت میں ٹویٹ کیا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: