ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

عام انسان کی جیت ہی ہندوستان کی جیت ، ترقیاتی کاموں کی بنیادوں پر ہونی چاہئے سیاست : دانشوران

معروف عالم دین اور آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا صائم مہدی کہتے ہیں کہ جب جب ملک میں فرقہ پرستی اور بدعنوانیاں بڑھی ہیں ، عوام کو خسارہ ہوا ہے اور لوگ پریشانیوں سے دوچار ہوئے ہیں ۔

  • Share this:
عام انسان کی جیت ہی ہندوستان کی جیت ، ترقیاتی کاموں کی بنیادوں پر ہونی چاہئے سیاست : دانشوران
عام انسان کی جیت ہی ہندوستان کی جیت،ترقیاتی کاموں کی بنیادوں پر ہونی چاہئے سیاست:دانشوران

لکھنئو : جب جب دہلی میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوتی ہیں تو ان سرگرمیوں کا اثر پورے ملک میں محسوس کیا جاتا ہے ، لیکن اتر پردیش میں یہ تبدیلی کچھ زیادہ اثر انگیز ہوتی ہے۔ دہلی کے حالیہ اسمبلی الیکشن کے نتائج جو منظر نامہ لے کر سامنے آئے ہیں ، اس کے پس منظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اب عوام صرف اور صرف ترقی کی بنیادوں پر حکومتوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اب لوگوں کا یقین مذہبی بنیادوں پر لڑے جانے والے انتخابات سے اٹھنے لگا ہے ۔ گزشتہ پانچ سال میں سیاسی اثرات کے نتیجے میں جو سماجی تبدیلیاں ہوئی ہیں ، وہ ان لوگوں کے کے لئے حیران کن ضرور ہیں ، جو یہ ہندوستان کی جمہوریت اور سیکولرزم میں اٹوٹ یقین رکھتے ہیں ۔

سیاست اور سماج کو ایک دوسرے سے الگ کرکے اب دیکھا ہی نہیں جاسکتا ہے ۔ سیاسی تبدیلیاں ہی سماج کا رخ اور معیار تبدیل کرتی ہیں ۔ معروف عالم دین اور آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا صائم مہدی کہتے ہیں کہ جب جب ملک میں فرقہ پرستی اور بدعنوانیاں بڑھی ہیں ، عوام کو خسارہ ہوا ہے اور لوگ پریشانیوں سے دوچار ہوئے ہیں ۔ کیونکہ ہمارا ملک نفرتوں اور مذہبی شدتوں کی بنیاد پر ہونے والے فاصلوں اور فسادوں کو برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہے ۔ اس ملک میں جتنی یکجہتی اور قومی اتحاد بڑھے گا ، اسی تناسب میں ملک کی ترقی بھی ہوگی اور عوام کا  مستقبل بھی خوشگوار ہوسکے گا ۔ معروف دانشور اور جمعیت العلما لکھنئو یونٹ کے کارگزار صدر ڈاکٹر سلمان خالد کہتے ہیں کہ بی جے پی کی حالیہ شکست نے یہ صاف کردیا ہے کہ اس ملک میں منفی اور مذہبی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ بی جے ہی کے ذریعے پوری طاقت جھونک دینے کے بعد بھی ناکامی اس لئے مقدر بنی کہ اب لوگوں کو طے کرنا ہے کہ انہیں اپنی نسلوں کو مذہبی آگ میں جھونکنا ہے ، یا پھر زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کرتے ہوئے خوبصورت مستقبل کی تعمیر کو یقینی بناناہے ۔

مسلم لیگ کے ریاستی صدر ڈاکٹر متین کہتے ہیں کہ عام آدمی پارٹی کی جیت واقعی عام آدمی کی جیت ہے ، اس غریب مزدور کی جیت ہے ، جسے دال روٹی اور بجلی و پانی جیسے بنیادی سہولیات مناسب قیمتوں پر نہیں مل پارہی تھیں ۔ اب لوگ مندر - مسجد اور مذہبی بنیادوں پر پھیلائی جارہی نفرتوں کو نہیں بلکہ زندگی کے بنیادی مسائل پر ووٹنگ کررہے ہیں ، جس کی ایک مثال دہلی اسمبلی الیکشن کے حالیہ نتائج ہیں ۔ معروف سماجی کارکن اور رہائی منچ کے صدر شعیب ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ بات اقلیت یا اکثریت اور ہندو مسلمان کی نہیں ، بلکہ ہندوستان کی ہے ۔ دہلی کے الیکشن نے بتادیا ہے کہ ابھی ہندوستان میں سیکولرزم اور اتفاق واتحاد میں یقین رکھنے والے لوگوں کی تعداد بہت ہے ، ایسے لوگ اکثرریت میں ہیں جو ملک کے دستور اور جمہور کے تحفظ کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے ۔ عام آدمی پارٹکی کی جیت ہندو یا مسلمان کی جیت نہیں ، بلکہ ہندوستان کی جیت ہے ۔ گاندھی کے اس نظریے کی جیت ہے جس نے سبھی مذاہب اور طبقوں کے لوگوں کو ملک میں رہنے اور اسے سجانے و سنوارنے کے حقوق فراہم کئے ہیں ۔

پروفیسر روپ ریکھا ورما اور پروفیسر رمیش دیکشت کے مطابق دہلی اسمبلی الیکشن کے اثرات پورے ملک کو متاثر کریں گے اور لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کریں گے کہ اس ملک کو مذہبی شدت کی نہیں ، بلکہ ترقی اور سہولت کی ضرورت ہے۔ یہ ملک نفرت  سے نہیں محبت سے چلے گا ۔ پروفیسر رمیش دیکشت یہ بھی کہتے ہیں کہ بی جے پی کی ہار فرقہ پرست طاقتوں کی ہار ہے ۔ گزشتہ چار پانچ سالوں میں بی جے پی نے جس انداز سے ملک کو مذہب کے نام پر خانوں میں باٹنے کی کوشش کی ہے ، وہ امن پسند شہریوں اور سیکولرزم میں یقین رکھنے والے ہندوستانیوں کے لئے تکلیف کا باعث ہے ۔

کانگریس کی شرمناک شکست اور وجود کے تعلق سے بھی سیاسی مبصرین اور اقلیتی طبقے کے دانشور یی اظہار خیال کررہے ہیں کہ کانگریس کو خاندان پر مبنی یعنی وراثت کی سیاست سے باہر آنا پڑے گا ۔ کانگریس کی ناکامی کا بڑا سبب اعلیٰ سطح پر مناسب لیڈر شپ کا فقدان ہے ۔ ساتھ ہی زمینی سطح پر کام کرنے والے لوگ بھی اب کانگریس کے پاس نہیں ہیں ، اس صورت حال کو بدلے بغیر موجوجدہ سیاسی نظام میں عوام کو متاثر کرکے ان کے جمہوری حق یعنی ووٹ حاصل کرنا بہت مشکل ہے ۔ لہٰذا کانگریس کے لئے ابھی دلی بہت دور ہے ۔

First published: Feb 11, 2020 11:46 PM IST