உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP : مہنت بجرنگ منی کو پولیس نے کیا گرفتار، مسلم خواتین کو دی تھی آبروریزی کی دھمکی

    Mahant Bajrang Muni Arrested : اتر پردیش کے سیتا پور سے بڑی خبر سامنے آرہی ہے ۔ مہنت بجرنگ منی داس کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ مہنت نے کچھ دنوں پہلے مسلم خواتین کے بارے میں قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔

    Mahant Bajrang Muni Arrested : اتر پردیش کے سیتا پور سے بڑی خبر سامنے آرہی ہے ۔ مہنت بجرنگ منی داس کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ مہنت نے کچھ دنوں پہلے مسلم خواتین کے بارے میں قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔

    Mahant Bajrang Muni Arrested : اتر پردیش کے سیتا پور سے بڑی خبر سامنے آرہی ہے ۔ مہنت بجرنگ منی داس کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ مہنت نے کچھ دنوں پہلے مسلم خواتین کے بارے میں قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔

    • Share this:
      لکھنؤ : اتر پردیش کے سیتا پور سے بڑی خبر سامنے آرہی ہے ۔ مہنت بجرنگ منی داس کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ مہنت نے کچھ دنوں پہلے مسلم خواتین کے بارے میں قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔ خواتین کو آبروریزی کی دھمکی دے رہے مہنت بجرنگ منی کا ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوا تھا ، جس کے بعد اس کی گرفتاری نہیں ہونے پر کئی لوگوں نے یوپی پولس پر سوالات اٹھائے تھے ۔

      مہنت بجرنگ منی داس نے خیرآباد میں واقع بڑی سنگت میں مسلمانوں کے بارے میں انتہائی متنازعہ اور اشتعال انگیز بیان دیا تھا۔ اس ویڈیو میں سیتا پور ضلع میں واقع ایک مسجد کے باہر ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وہ مسلم کمیونٹی کی خواتین اور بیٹیوں کو گھر سے اٹھاکر عصمت دری کی بات کر رہا تھا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : اکبر الدین اویسی کو بڑی راحت، عدالت نے دو معاملات میں کیا بری


      اس ویڈیو میں منی کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی کسی مسلم علاقے میں کسی لڑکی کو پریشان کرتا ہے تو وہ مسلم خواتین کا اغوا کر کے سرعام ان کی عصمت دری کرے گا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : اسکول کھلنے کے بعد چھوٹے بچوں کے بیمار پڑنے کے معاملات 15 فیصد تک بڑھے، Covid-19 نہیں، یہ ہے وجہ


      قومی کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن ریکھا شرما نے بھی مہنت بجرنگ منی داس کے اس قابل اعتراض ویڈیو کا نوٹس لیا تھا۔ یوپی پولیس کو جاری کیے گئے نوٹس کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے ریکھا شرما نے کہا تھا کہ ایک خاص کمیونٹی کی خواتین کی سرعام آبروریزی کرنے اور اس طرح کی باتیں کرنے والے لوگ قابل قبول نہیں ہیں ۔

      انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے آج اس سلسلے میں یوپی کے ڈی جی پی کو مطلع کیا ہے اور میں ذاتی طور پر ان سے اس معاملہ پر بات کروں گی ۔ چاہے وہ مذہبی سنت ہوں یا کوئی بھی ہوں، ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: