உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اترپردیش : سماج وادی پارٹی کو اقتدار میں لانے کے لئے خصوصی تحریک

    اترپردیش : سماج وادی پارٹی کو اقتدار میں لانے کے لئے خصوصی تحریک

    اترپردیش : سماج وادی پارٹی کو اقتدار میں لانے کے لئے خصوصی تحریک

    سید بلال نورانی کہتے ہیں کہ ڈیموکریٹک فرنٹ کے اراکین کو ضروری ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ آنے والے وقت میں کیا کرناہے اور کیسے کرنا ہے ، جمہوری و دستوری قدروں کی پاسداری کے ساتھ ہم نظام کی تبدیلی کو یقینی بنائیں گے ۔

    • Share this:
    لکھنئو : اترپردیش میں الیکشن کی سرگرمیاں تیز ہوتی جارہی ہیں ۔ دوسری سیاسی جماعتوں کے ممبران و اراکین کو اپنی طرف راغب کرنا اور پھر اپنی جماعت میں شامل کرنا ایک عام سی بات ہے اس حوالے سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران اتر پردیش میں بر سر اقتدار بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے مابین جو رسّہ کشی چل رہی ہے اس کا پس منظر سمجھنا سیاست میں دلچسپی رکھنے والے کسی بھی شخص کے لئے مشکل نہیں ، حال ہی میں ڈیموکریٹک فرنٹ کے جنرل سکرٹری ، معروف سماجی سیاسی و ملی رہنما سید بلال نورانی اور ان کے ہمنوائوں کا سماج وادی پارٹی میں شامل ہونا سماج وادی پارٹی کے لئے مفید ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ بلال نورانی مغربی اتر پردیش کے علاقوں میں تو اثر انداز ہو ہی سکتے ہیں ۔ ساتھ ہی مشرقی اتر پردیش کے تین سے چار اضلاع ایسے ہیں ، جہاں  بشمول دلت سماج کے دبے کچلے لوگوں پران کی اپیلوں کا بڑا اثر ہوسکتا ہے ۔ اسی پس منظر میں سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بھی بلال نورانی کی جوائننگ پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اس آمد اور شمولیت کو سماج وادی پارٹی کے لئے بہتر قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی بلال نورانی کو بڑی ذمہ داری سونپنے کے اشارے بھی دئے ہیں ۔ بلال نورانی کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ ڈیموکریٹک فرنٹ سے جڑے ہزاروں لوگوں کا فیصلہ ہے اور اب فرنٹ اکھلیش یادو۔ کو وزیر اعلیٰ بناکر ہی اپنا مشن پورا کرے گا بلال نورانی نے

    واضح طور پر کہا کہ بی جے پی بالخصوص اتر پردیش سرکار کے پاس ایسا کوئی کام نہیں جس کو لے کر عوام کے درمیان جا سکے اس لئے  بی جے پی ماضی میں سماج وادی سرکار کے ذریعے کرائے گئے کاموں کا افتتاح کرکے اپنی شبہیہ سدھارنے کی کوشش کر رہی ہے۔۔یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مجلس اتحاد المسلمین اور اسی طرح کی دوسری  چھوٹی جماعتیں صرف اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لئے سیاسی میدان میں اتر رہی ہیں باقی ان جماعتوں سے اتر پردیش کے الیکشن پر زیادہ اثر نہیں  پڑے گا لیکن اویسی کی بڑھتی مقبولیت اور ان کے لئے بی جے پی کی معتدل حکمت عملی یہ اشارے ضرور دے رہی ہے کہ وہ اقلیتی ووٹ بنک کی تقسیم کے راستے ہموار کرسکتے ہیں ۔

    یوں تو سماج وادی  پارٹی سربراہ اکھلیش یادو کی جانب سے بار بار یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ ان کے اوع سماج وادی پارٹی کے راستے سب  تنظیموں کے لئے کھلے  لیکن ابھی تک اویسی اور اکھلیش کے مابین سیاسی گٹھ جوڑ پر بات نہیں ہوسکی ہے

    یہاں بات صرف انجمن اتحاد المسلمین کی نہیں ۔ بلکہ پرگتی شیل سماج وادی پارٹی کی یعنی شیوپال کی بھی ہے ۔ سیاسی شعور رکھنے والے لوگ یہ اظہار بھی کرتے ہیں کہ اگر اس بار بھی بار بھی یادو خاندان نے انا اور ذاتی مفاد کو پس پشت نہیں کیا گیا تو سیاست کی جنگ میں شکست تقدیر بن جائے گی ۔

    بلال نورانی نے آئندہ الیکشن کے پیش نظر عوامی بیداری کے لئے ایک خصوصی مہم چلانے کے بھی فیصلہ کیا ہے ، جس کے تحت فرنٹ کے سیکڑوں اراکین سماج وادی پارٹی کے اراکین کے ساتھ مل کر گھر گھر جائیں گے اور لوگوں کو ان کے ووٹ کی اہمیت اور طاقت کا احساس دلائیں گے ۔

    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔

    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: