ایودھیا معاملہ: سنی وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میں دیا حلف نامہ، واپس لینا چاہتا ہے کیس

دہائیوں سے چلے آرہے رام جنم بھومی۔ بابری مسجد تنازعہ میں نیا موڑ آگیا ہے۔ یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ نے اس معاملے میں دائر کیس کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

Oct 16, 2019 11:32 AM IST | Updated on: Oct 16, 2019 11:45 AM IST
ایودھیا معاملہ: سنی وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میں دیا حلف نامہ، واپس لینا چاہتا ہے کیس

علامتی تصویر

دہائیوں سے چلے آرہے رام جنم بھومی۔ بابری مسجد تنازعہ میں نیا موڑ آگیا ہے۔ یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ نے اس معاملے میں دائر کیس کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وقف بورڈ نے ثالثی پینل کے ذریعے اس بابت سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرنے سے پہلے اپنے وکیلوں سے صلاح۔مشورہ بھی نہیں کیا۔ حلف نامے میں سنی وقف بورڈ نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ وہ اپنا کیس واپس لینا چاہتا ہے۔ حلف نامہ شری رام پنچو کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل کیا گیاہے۔

وقف بورڈ کے وکیل بولے: مجھے جانکاری نہیں

یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے کیس واپس لینے کے بورڈ کے فیصلے کی جانکاری سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔  انہوں نے بتایا کہ انہیں وقف بورڈ نے کیس واپس لینے کی اطلاع نہیں دی ہے۔ ایودھیا میں رام جنم بھومی۔بابری مسجد تنازعہ میں 8 مسلم فریقوں نے کیس دائر کئے ہیں۔ اہم فریق سنی وقف بورڈ کی جانب سے دائر کئے گئے ہیں۔

اقبال انصاری نے کہا : مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے

رام جنم بھومی تنازعہ معاملے میں ایک اور فریق اقبال انصاری نے سنی وقف بورڈ کے فیصلے پر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کے فیصلے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کے لئے سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل قبول ہوگا۔ وہیں اقبال انصاری کے  وکیل سینئر وکیل ایم آر شمشاد  نے  بتایا کہ گزشتہ دو مہینوں میں سنی وقف بورڈ کے رویے میں تبدیلی آئی تھی۔ انہوں نبتایا کہ اس معاملےمیں کل 6 مسلم فریق ہیں جن میں سے سنی وقف بورڈ بھی ایک تھا۔

اس اسٹیج پر کبو واپس لینا ممکن نہیں

۔ اقبال انصاری کے وکیل شمشاد کا کہنا ہے کہ ایودھیا تنازعہ کیس کی سماعت فیصلہ کن مرحلے میں ہے ، ایسے میں متعلقہ برادری کو نوٹس دیئے بغیر اس مرحلے پر کیس واپس نہیں لیا جاسکتا۔ تاہم  انہوں نے واضح کیا کہ سنی وقف بورڈ کے ذریعہ معاملے کو واپس لینے کی صورت میں معاملہ پر زیادہ فرق نہیں پڑنے والا ہے۔ کیوں کہ اس معاملے میں شامل دیگر فریق بھی قانونی عمل کا حصہ بنے رہیں گے۔

Loading...