உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اعظم خان کے معاملے پر سپریم کورٹ نے ظاہر کی ناراضگی، یوپی حکومت سے پوچھا، ایک ہی شخص پر 89مقدمے کیسے؟

    Youtube Video

    یوپی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں 88 ویں کیس میں ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی ہے، لیکن ان کے خلاف نیا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس لیے انہیں جیل سے رہا نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹرینڈ بن گیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔ سپریم کورٹ Supreme Court منگل کو سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان Samajwadi Party leader Azam Khan کی درخواست ضمانت پر سماعت کر رہی ہے۔ یوپی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں 88 ویں کیس میں ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی ہے، لیکن ان کے خلاف نیا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس لیے انہیں جیل سے رہا نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹرینڈ بن گیا ہے۔ ایک ہی شخص کے خلاف 89 ​​مقدمات درج ہیں۔ جب ضمانت مل جاتی ہے تو نیا کیس سامنے آتا ہے۔ یہ کیسے ہو رہا ہے؟

      ساتھ ہی یوپی حکومت کے وکیل نے کہا کہ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ ہر معاملہ اپنے آپ میں مختلف ہے۔ ریاستی حکومت حلف نامہ کے ذریعے عدالت کو یہ سمجھانا چاہتی ہے۔
      سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کو اس پر حلف نامہ داخل کرنے کی اجازت دے دی۔ ساتھ ہی، اگلی سماعت اگلے ہفتے منگل کو مقرر کی گئی ہے۔

      اس سے پہلے سپریم کورٹ Supreme Court نے سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور رام پور سیٹ سے ایم ایل اے محمد اعظم خان کی ضمانت Azam Khan Bail Plea پر فیصلہ نہ آنے پر ناراضگی ظاہر کی تھی۔ جسٹس ایل ناگیشور راؤ اور جسٹس بی آر گاوائی کی بنچ نے الہ آباد ہائی کورٹ Allahabad High Court سے پوچھا کہ 87 میں سے 86 مقدمات میں اعظم خان کو ضمانت مل چکی ہے، صرف ایک کیس میں اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے؟

      یہ بھی پڑھیں: محمد اعظم خان کی ضمانت پر فیصلہ نہیں ہونے پر Supreme Court ناراض، کہا! ہائی کورٹ نہیں کرتا تو ہمیں مداخلت کرنی پڑے گی

      سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ 137 دن بعد بھی فیصلہ کیوں نہیں ہو پایا ہے؟ یہ انصاف کا مذاق اڑانا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر الہ آباد ہائی کورٹ اس معاملے میں فیصلہ نہیں کرتی ہے تو ہم مداخلت کرنے پر مجبور ہوں گے۔ سپریم کورٹ اس معاملے کی دوبارہ سماعت 11 مئی کو کرے گی۔ عدالت اس معاملے کی اگلی سماعت 11 مئی کو کرے گی۔ آپ کو بتا دیں کہ محمد اعظم خان گزشتہ دو سال سے سیتا پور جیل میں بند ہیں۔

      یہ بھی پڑھئے: Supreme Courکاغداری قانون پر بڑا فیصلہ، 124Aکے تحت جیل میں بند لوگ ضمانت کیلئے عدالت جائیں

      قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل 5 مئی کو الہ آباد ہائی کورٹ میں دشمن جائیداد کے معاملے میں اعظم خان کی ضمانت پر 3 گھنٹے تک بحث ہوئی تھی۔ 3.50 بجے سے شام 6.42 بجے تک جاری بحث میں دونوں فریقوں کو سننے کے بعد جسٹس راہل چترویدی کی عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ اعظم خان کے خلاف رام پور کے عظیم نگر پولس تھانہ میں فرضی وقف بنانے اور دشمن کی جائیداد پر ناجائز قبضہ کر کے باؤنڈری وال کھڑی کرنے کا مقدمہ درج ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: OMG سہیلی کریگی سہیلی سے شادی! غصے میں گھر والے مگر پھر بھی ضد پر اڑیں اور اٹھا لیا یہ قدم

      کیا تھا پورا معاملہ
      معاملے کے مطابق، اعظم خان پر عظیم نگر تھانے میں شترو جائیداد پر ناجائز قبضہ کرکے باونڈری وال سے گھیر لینے کا الزام ہے، جسے مولانا جوہر علی ٹرسٹ رامپور کے ذریعہ قائم یونیورسٹی میں شامل کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ پولیس نے چارج شیٹ داخل کی ہے اور عدالت نے نوٹس بھی لے لیا ہے۔ معاملے کی 4 دسمبر 2021 کو ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی تھی۔

      مزید پڑھئے: FCRA Violations Case:ملک میں 40مقامات پرCBIکا چھاپہ، کئیNGO اور وزارت داخلہ کے اہلکاررڈارپر
      عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ 29 اپریل کو ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ میں داخل جوابی حلف نامہ داخل کرکے کچھ اور نئے ثبوت پیش کئے۔ اس کے بعد سماعت پانچ مئی کو ہوئی۔ عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے ضمانت پر فیصلہ سنانے میں تاخیر کو لے کر تلخ تبصرہ کیا ہے، جس پر منگل کو فیصلہ سنایا گیا۔

      Published by:Sana Naeem
      First published: