உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Gyanvapi Masjid Case: یکم جون سے گرمی کی چھٹیاں، اب چار جولائی کو ہوگی سماعت

    Gyanvapi Masjid Case: یکم جون سے گرمی کی چھٹیاں، اب چار جولائی کو ہوگی سماعت

    Gyanvapi Masjid Case: یکم جون سے گرمی کی چھٹیاں، اب چار جولائی کو ہوگی سماعت

    Gyanvapi Masjid Case: گیانواپی مسجد معاملہ سے وابستہ بڑی خبر ہے ۔ وارانسی سول کورٹ میں چل رہی سماعت اب چار جولائی کو ہوگی ۔ یکم جون سے عدالتوں میں گرمی کی چھٹیوں کے پیش نظر سماعت کی اگلی تاریخ چار جولائی دی گئی ہے ۔

    • Share this:
      وارانسی : گیانواپی مسجد معاملہ سے وابستہ بڑی خبر ہے ۔ وارانسی سول کورٹ میں چل رہی سماعت اب چار جولائی کو ہوگی ۔ یکم جون سے عدالتوں میں گرمی کی چھٹیوں کے پیش نظر سماعت کی اگلی تاریخ چار جولائی دی گئی ہے ۔ وہیں سروے رپورٹ دینے کے بعد اب کچھ ہی دیر میں ضلع اپنا فیصلہ جاری کریں گے ۔ غور طلب ہے کہ پیر کو کورٹ میں مسلم فریق نے اپنی دلیلیں پیش کی تھیں ۔ اس سلسلہ میں ہندو فریق کے وکیل وشنو جین نے جانکاری دی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : PM مودی نے کہا : جس چکر میں ملک 2014 سے پہلے پھنسا تھا، اس سے باہر نکل رہا ہے


      وہیں ہندو فریق کے وکیل نے سماعت کے بعد جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ مسجد کے سروے سے متعلق ویڈیو گرافی کی سی ڈی دونوں فریقوں کو تفصیلی آرڈر کے بعد دے دی جائے گی ۔ وہیں مسلم فریق کا بحث کے دوران کہنا تھا کہ شرنگار گوری سے وابستہ معاملہ سماعت کے قابل نہیں ہے ۔ مسلم فریق کے وکیل ابھے یادو نے اس دوران دلیلیں پیش کیں اور کافی دیر تک کورٹ میں دونوں فریقوں کے درمیان زودار بحث ہوئی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : سدھو موسے والا کے اہل خانہ کا پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار، کیا NIA جانچ کا مطالبہ


      یادو نے اس دوران دعوی کیا کہ شرنگار گوری کا مقدمہ عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کے ایکٹ کی پوری طرح سے خلاف ورزی ہے ۔ مسلم فریق نے 1937 دین محمد بنام ریاستی سکریٹری کے مقدمہ کا فیصلہ بھی پڑھا ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے زبانی گواہی اور دستاویزات کی بنیاد پر فیصلہ کیا تھا یہ پورا احاطہ مسلم وقف کا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندو فریق کا دعوی کہ یہ جائیداد وقف کی نہیں ہے ، غلط ہے ۔ یہ جائیداد وقف کی ہی ہے ۔

      اس دوران کئی مرتبہ دونوں فریقوں میں تیکھی بحث ہوئی اور آواز کورٹ کے باہر تک سنائی دی ۔ اس دوران شروعات میں ضلع جج نے دونوں ہی فریقوں کو پرسکون رہنے کی اپیل کی، لیکن معاملہ بڑھتا گیا اور دونوں فریقوں کی آواز تیز ہوتی گئی ۔ اس کے بعد جج غصہ ہوگئے اور دونوں فریقوں کو تیز آواز میں بات نہ کرنے کیلئے ، جس کے بعد کورٹ میں آواز کم ہوئی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: