உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Viral Video: سیتا پور میں نفرت آمیز اسپیچ دیتے ہوئے مہنت کا ویڈیو وائرل، مسلم خواتین-بیٹیوں کو دے رہا ہے آبروریزی کی دھمکی

    سیتا پور میں نفرت آمیز اسپیچ دیتے ہوئے مہنت کا ویڈیو وائرل

    سیتا پور میں نفرت آمیز اسپیچ دیتے ہوئے مہنت کا ویڈیو وائرل

    وائرل ویڈیو میں واضح طور پر سنا جاسکتا ہے کہ مہنت بھیڑ کے سامنے ایک خاص مذہب کی خواتین اور بیٹیوں کو گھرسے نکال کر آبروریزی کرنے کی بات کہہ رہا ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی آر درج کیا۔

    • Share this:
      اترپردیش کے سیتا پور ضلع میں ہیٹ اسپیچ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ وائرل ویڈیو ضلع کے خیرآبادی واقع بڑی سنگت کے مہنت بجرنگ منی داس کا ہے۔ اس میں بجرنگ منی داس ایک خاص مذہب کی خواتین اور بیٹیوں کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کر رہا ہے۔ جانکاری کے مطابق، وائرل ویڈیو دو اپریل کا بتایا جا رہا ہے۔ بجرنگ منی کا یہ ہیٹ اسپیچ نو سنوتسر کے دوران نکالے گئے جلوس کا ہے۔ اب پولیس نے بجرنگ منی کے خلاف ایف آئی آر درج کرلیا ہے۔

      مسلم خواتین-بیٹیوں کو دے رہا ہے آبروریزی کی دھمکی

      وائرل ویڈیو میں واضح طور پر سنا جاسکتا ہے کہ وہ بھیڑ کے سامنے ایک مخصوص مذہب کی خواتین اور بیٹیوں کو گھر سے نکال کر آبروریزی کرنے کی بات کہہ رہا ہے۔ اس ویڈیو کو ’جو بیئر‘ نام کے ٹوئٹر ہینڈل نے ٹوئٹ کیا ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی آر درج کیا۔



      اے ایس پی سیتا پور کو کیس کی جانچ سونپی گئی

      فی الحال ابھی اے ایس پی سیتا پور پولیس کو معاملے کی جانچ سونپی گئی ہے۔ وائرل ویڈیو پر سیتا پور پولیس نے رپلائی کرتے ہوئے لکھا، ’ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ شمالی کے ذریعہ جانچ کی جارہی ہے۔ موصولہ حقائق اور ثبوتوں کی بنیاد پر ضابطے کے مطابق قانونی کارروائی یقینی طور پر کی جائے گی‘۔



      ساتھ ہی پولیس نے بتایا کہ تھانہ خیرآباد میں مہنت بجرنگ منی داس کے خلاف تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کرلیا گیا ہے۔ ہمارے پاس جو بھی ثبوت موجود ہیں، اس کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔



      خواتین کمیشن کی چیئرپرسن ریکھا شرما نے لیا نوٹس

      اس کے علاوہ یوپی کے سیتا پور میں مہنت کے قابل اعتراض زبان کے وائرل ویڈیو پر قومی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن ریکھا شرما نے نوٹس لے لیا ہے۔ ریکھا شرما نے کہا کہ ’ایک خاص برادری کی خواتین کے ساتھ عوامی طور پر آبروریزی کرنے اور اس طرح کی بات کرنے والے لوگ قابل قبول نہیں ہیں۔ ہم نے آج ہی یوپی کے ڈی جی پی کو اس ضمن میں واقف کرایا ہے اور میں اس معاملے پر ذاتی طور پر ان سے بات کروں گی۔ چاہے وہ مذہبی سنت ہوں یا کوئی بھی ہوں، ان پر کارروائی کی جانی چاہئے‘۔

      مہنت کے قابل اعتراض زبان کے وائرل ویڈیو پر این سی ڈبلیو چیئرپرسن نے مزید کہا، ’خواتین ان کے نشانے پر ہیں، وہ چاہے جس بھی مذہب کو دھمکی دے رہے ہوں۔ ایسی شکایتوں پر خطرناک سزا ہے اور انہیں پولیس تک پہنچایا جا رہا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس طرح کے معاملے کم نہیں ہو رہے ہیں‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: