ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شاہین باغ کے طرز پر دیوبند کے عیدگاہ میدان میں بھی خواتین کا دھرنا ، کیا یہ بڑا مطالبہ

گزشتہ پانچ دنوں سے دیوبند کے عید گاہ میدان میں خواتین کا دھرنا جاری ہے اور ایک تحریک کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے ۔

  • Share this:
شاہین باغ کے طرز پر دیوبند کے عیدگاہ میدان میں بھی خواتین کا دھرنا ، کیا یہ بڑا مطالبہ
شاہین باغ کے طرز پر دیوبند کے عیدگاہ میدان میں بھی خواتین کا دھرنا ، کیا یہ بڑا مطالبہ

شاہین باغ احتجاجی مظاہرے کے طرز پر مغربی اتر پردیش سے بھی غیر معینہ مدت کے مستقل دھرنے کی شروعات دیوبند سے ہو گئی ہے ۔ جمعیت علماء ہند اور خواتین ایکشن کمیٹی کی جانب سے دیوبند میں پہلے عارضی احتجاجی مظاہروں کا دور جاری تھا ، لیکن گزشتہ پانچ دنوں سے دیوبند کے عید گاہ میدان میں خواتین کا دھرنا جاری ہے اور ایک تحریک کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے ۔


سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف خواتین کےغیر معینہ مدت کے مستقل احتجاجی دھرنے کی شروعات دہلی کے شاہین باغ سے ہوئی تھی ، لیکن دھیرے دھیرے یہ سلسلہ ملک کے دیگر شہروں اور صوبوں میں بھی شروع ہو گیا ہے ۔ وہیں اتر پردیش میں لکھنؤ اور کانپور کے بعد مغربی یو پی کا دیوبند بھی اس تحریک کا حصہ بن گیا ہے اور شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف تقریبا پانچ ہزار خواتین عید گاہ میدان میں مستقل دھرنے پر بیٹھ گئی ہیں ۔


وہیں سماجی اور ملی تنظیموں کے ذمہ داران کا بھی ماننا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کا یہ سلسلہ اب ایک تحریک کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے اور مغربی اتر پردیش میں دیوبند سے اس کی شروعات ہو گئی ہے ۔ دانشوروں کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر ہو رہے احتجاجی مظاہروں سے سبق لیتے ہوئے حکومت کو بھی اس معاملہ کے حل کا راستہ تلاش کرنا چاہئے ۔


شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف تقریبا پانچ ہزار خواتین عید گاہ میدان میں مستقل دھرنے پر بیٹھ گئی ہیں ۔ تصویر : تنظیر انصار ۔
شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف تقریبا پانچ ہزار خواتین عید گاہ میدان میں مستقل دھرنے پر بیٹھ گئی ہیں ۔ تصویر : تنظیر انصار ۔


شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف اتر پردیش میں زبردست احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا گیا ، لیکن لکھنؤ کے بعد دیوبند میں خواتین کے مستقل دھرنے پر بیٹھنے کی شروعات کے بعد اب اس سلسلے میں دیگر شہروں کی خواتین کے بھی شامل ہوجانے سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے ۔
First published: Jan 30, 2020 10:33 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading