உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Uttarakhand Assembly Election : اتراکھنڈ میں مسلم یونیورسٹی کو لے کر بڑھی سیاسی گرمی، بی جے پی فرنٹ فٹ پر آئی تو کانگریس نے بتایا سوچی سمجھی سازش

    اُتراکھنڈ میں مسلم یونیورسٹی کو لے کر بڑھی سیاسی گرمی۔

    اُتراکھنڈ میں مسلم یونیورسٹی کو لے کر بڑھی سیاسی گرمی۔

    عقیل احمد کا بیان سامنے آنے کے بعد کانگریس بیک فٹ پر آ گئی ہے۔ اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے ہریش راوت نے کہا ہے کہ جب میں نے سنسکرت یونیورسٹی کی بات کی تو کسی نے توجہ نہیں دی۔ ہریش راوت نے مزید کہا کہ اب اگر کسی نے مسلم یونیورسٹی کے بارے میں کچھ کہا ہے تو بی جے پی کے لوگ سوچی سمجھی سازش کے تحت اس بیان کو طول دے رہے ہیں۔

    • Share this:
      دہرادون:اتراکھنڈ اسمبلی الیکشن 2022(Uttarakhand Assembly Election) اپنے عروج پر ہے۔ کاغذات نامزدگی کا عمل ختم ہونے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی پوری طاقت انتخابی مہم میں لگا دی ہے۔ یوں تو پہاڑی ریاست میں سردی سیاسی پارٹیوں کی تشہیر میں مشکلات پیدا کر رہی ہے لیکن اس درمیان ’اتراکھنڈ میں مسلم یونیورسٹی‘ نے اس سردی میں بھی پہاڑی ریاست کا انتخابی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ جب سے یہ معاملہ سامنے آیا ہے، ایک طرف جہاں بی جے پی اس معاملے کو لے کر فرنٹ فٹ پر آئی ہے، وہیں کانگریس بیک فٹ پر بلے بازی کرنے پر مجبور ہے۔ ڈیمیج کنٹرول میں کانگریس کی جانب سے اتراکھنڈ کانگریس کے سینئر لیڈر ہریش راوت نے اسے ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔

      کیا ہے معاملہ
      دراصل دہرادون کے سہسپور کے رہنے والے اور کانگریس لیڈر عقیل احمد کے ایک بیان کے بعد ’اتراکھنڈ میں مسلم یونیورسٹی‘ کی سیاست گرم ہو گئی ہے۔ ان دنوں سوشل میڈیا پر عقیل احمد کا ایک بیان گردش کر رہا ہے، جس میں وہ یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ ہریش راوت نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ اتراکھنڈ میں مسلم یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔ ویڈیو میں عقیل احمد کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ہریش راوت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے کہ ریاست میں ایک مسلم یونیورسٹی بنائی جائے گی، جس میں مسلم بچے پڑھ سکیں گے اور تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ عقیل نے ویڈیو میں کہا ہے کہ ہریش راوت نے انہیں کہا ہے کہ اگر وہ وزیر اعلیٰ بنے تو سارے کام ہو جائیں گے۔

      بی جے پی نے عقیل احمد کی کانگریس میں تقرری والا خط کیا وائرل، دھامی نے کہا، بسیہیں کام رہ گئے ہیں
      عقیل احمد کے بیان کے وائرل ہونے کے بعد بی جے پی اس معاملے کو لے کر فرنٹ فٹ پر آگئی ہے۔ بی جے پی نے اپنے سوشل میڈیا پیج پر عقیل احمد کو کانگریس کا ریاستی نائب صدر بنانے کے لیے ایک خط اپ لوڈ کیا ہے۔ وہیں اس معاملے کو لے کر اتراکھنڈ کے وزیر اعلی پشکر سنگھ دھامی کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ دھامی نے کہا ہے کہ اتراکھنڈ میں مسلم یونیورسٹی بنانے کے لیے کانگریس کا ’چار دھام-چار کام‘ بس یہی رہ گئے ہیں۔ بی جے پی نے اس معاملے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جن لوگوں نے دیو پریاگ میں سنسکرت یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت کی تھی، وہ اتراکھنڈ میں مسلم یونیورسٹی قائم کرنا چاہتے ہیں۔

      ہریش راوت نے بتایا سازش
      عقیل احمد کا بیان سامنے آنے کے بعد کانگریس بیک فٹ پر آ گئی ہے۔ اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے ہریش راوت نے کہا ہے کہ جب میں نے سنسکرت یونیورسٹی کی بات کی تو کسی نے توجہ نہیں دی۔ ہریش راوت نے مزید کہا کہ اب اگر کسی نے مسلم یونیورسٹی کے بارے میں کچھ کہا ہے تو بی جے پی کے لوگ سوچی سمجھی سازش کے تحت اس بیان کو طول دے رہے ہیں۔

      کون ہے عقیل احمد؟
      عقیل احمد سہسپور، دہرادون کے رہنے والے ہیں۔ وہ اس سیٹ پر کانگریس سے ٹکٹ مانگ رہے تھے، لیکن کانگریس نے اس سیٹ پر ہریندر شرما کو ٹکٹ دیا ہے۔ اس کے بعد عقیل احمد آزاد امیدوان کے طور پرمیدان میں آئے تھے اور انہوں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔ تاہم بعد میں عقیل نے کانگریس کے اعلیٰ لیڈروں کو راضی کرنے کے بعد اپنا نامزدگی واپس لے لیا۔ عقیل احمد نے کہا ہے کہ انہوں نے صرف ان شرائط پر کاغذات نامزدگی واپس لیے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: