உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اتراکھنڈ میں بڑا حادثہ، کھائی میں گری باراتیوں سے بھری بس، کم از کم 30 اموات کا اندیشہ

    اتراکھنڈ میں بڑا حادثہ، کھائی میں گری باراتیوں سے بھری بس، کم از کم 30 اموات کا اندیشہ (Twitter)

    اتراکھنڈ میں بڑا حادثہ، کھائی میں گری باراتیوں سے بھری بس، کم از کم 30 اموات کا اندیشہ (Twitter)

    اتراکھنڈ کے پوڑی گڑھوال ضلع کے سمری گاوں کے پاس رکھنی کھال ۔ بروکھل شاہراہ پر تقریبا 45 سے 50 لوگوں کو لے کر جارہی ایک بس کھائی میں گر گئی ۔ حادثہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے واقعہ پر پہنچ کر راحت اور بچاو کے کاموں میں مصروف ہوگئی ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Uttarakhand (Uttaranchal) | Pauri | Dehradun
    • Share this:
      دہرادون : اتراکھنڈ کے پوڑی گڑھوال ضلع کے سمری گاوں کے پاس رکھنی کھال ۔ بروکھل شاہراہ پر تقریبا 45 سے 50  لوگوں کو لے کر جارہی ایک بس کھائی میں گر گئی ۔ حادثہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے واقعہ پر پہنچ کر راحت اور بچاو کے کاموں میں مصروف ہوگئی ہے ۔ اس واقعہ میں کم سے کم 30 لوگوں کی موت کی خبر ہے ۔ موصولہ جانکاری کے مطابق باراتیوں سے بھری یہ بس لال ڈھانگ سے کاڑا تلا جارہی تھی ، تبھی راستے میں بیروکھال کے سیمڈی بینڈ کے پاس بے قابو ہوکر کھائی میں جاگری۔ اس بس میں 40 سے 50 باراتیوں کے سوار ہونے کی اطلاع ہے ۔ ان میں سے چھ باراتیوں کی لاشیں کھائی سے باہر نکالی جاچکی ہیں ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: وزیر اعظم مودی نے یوکرین کے صدر سے کی بات، روس سے جنگ ختم کرانے میں مدد کا دیا آفر


      اس حادثہ میں مرنے والوں کی تعداد برھنے کا اندیشہ ہے۔ فی الحال مقامی لوگ اور انتظامیہ کے اہلکار کھائی میں لوگوں کو تلاش کرنے کا کام کررہے ہیں ۔ حالانکہ اندھیرا ہونے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں پریشانی آرہی ہے ۔



       

      یہ بھی پڑھئے: گجرات میں درگاہوں سمیت 35 غیر قانونی تعمیرات کو کیا گیا مسمار، کیا ہے اصل معاملہ؟


      پوڑی گڑھوال ضلع میں پیش آئے اس بھیانک بس حادثہ کی خبر ملتے ہی وزیر اعلی پشکر سنگھ دھامی اسٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ سینٹر پر پہنچ گئے ۔ انہوں نے میڈیا سے بات چیت میں بتایا کہ جائے واقعہ پر ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں راحت اور بچاو کے کاموں میں مصروف ہیں ۔

      وزیر اعلی نے مزید کہا کہ ہم سبھی سہولیات جائے واقعہ تک پہنچانے کی پوری کوشش کررہے ہیں ۔ بچاو مہم میں مقامی لوگ بھی مدد کررہے ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: