உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اتراکھنڈ : تبدیلی مذہب کے شک میں ہنگامہ ، جوڑے کو پولیس نے حراست میں لیا

    اتراکھنڈ : تبدیلی مذہب کے شک میں ہنگامہ ، جوڑے کو پولیس نے حراست میں لیا

    اتراکھنڈ : تبدیلی مذہب کے شک میں ہنگامہ ، جوڑے کو پولیس نے حراست میں لیا

    Religion Change: بتایا جا رہا ہے کہ نندن سنگھ بشٹ ، جنہوں نے مذہب تبدیل کرنے کے بعد عیسائی مذہب اختیار کر لیا ہے ، گزشتہ 10 ماہ سے کرائے پر ایک مکان میں رہتے ہیں ۔ وہاں پر صبح و شام پریئر کی جاتی ہے ۔ محلے کے کچھ لوگ بھی اس میں شریک ہوتے ہیں ، لیکن جوڑے نے انہیں کبھی مدعو نہیں کیا ، پھر بھی کچھ کچھ لوگ اس پریئر میں شامل ہوتے ہیں ۔

    • Share this:
      رام نگر: رام نگر کے بیڈاجھال میں ہفتہ کو مذہب تبدیل کرنے کے الزام کو لے کر ہنگامہ ہوگیا ۔ معاملہ اس وقت گرمایا جب کرائے پر رہنے والے ایک جوڑے پر لوگوں کو تبدیلی مذہب کیلئے راغب کرنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ۔ تاہم ابھی تک اس طرح کی کوئی آفیشیل جانکاری نہیں ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ نندن سنگھ بشٹ ، جنہوں نے مذہب تبدیل کرنے کے بعد عیسائی مذہب اختیار کر لیا ہے ، گزشتہ 10 ماہ سے کرائے پر ایک مکان میں رہتے ہیں ۔ وہاں پر صبح و شام پریئر کی جاتی ہے ۔ محلے کے کچھ لوگ بھی اس میں شریک ہوتے ہیں ، لیکن جوڑے نے انہیں کبھی مدعو نہیں کیا ، پھر بھی کچھ کچھ لوگ اس پریئر میں شامل ہوتے ہیں ۔

      جب بجرنگ دل کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے اس پر اعتراض کیا اور پھر اس کو تبدیلی مذہب کے معاملہ سے جوڑ کر دیکھا جانے لگا ۔ یہ اطلاع پولیس کو دی گئی جس کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر جوڑے کو اپنی تحویل میں لے لیا ۔ اب پولیس معاملہ کی تفتیش میں مصروف ہوگئی ہے ۔

      بتایا جا رہا ہے کہ نندن سنگھ بشٹ کو کسی عیسائی فاؤنڈیشن سے ہر ماہ کچھ رقم ملتی ہے ۔ اس پورے معاملہ میں رام نگر کوتوال آشوتوش سنگھ نے بتایا کہ جیسے ہی انہیں اس معاملہ کا علم ہوا تو انہوں نے جوڑے کو اپنی تحویل میں لے لیا ۔ ان کے خلاف تبدیلی مذہب کے لیے کام کرنے کے الزامات کی جانچ کی جا رہی ہے ۔ اس معاملہ میں جانچ کے بعد ہی کچھ پتہ چل پائے گا ۔

      ادھر دوسری جانب پولیس کرایہ دار کو پولیس ویریفیکیشن کے بغیر رکھنے پر مالک مکان کے خلاف مقدمہ درج کر سکتی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ مالک مکان نے کرایہ دار کا پولیس ویریفیکیشن نہیں کرایا ہے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: