ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہری دوار : کمبھ ختم کرنے کا اعلان کرچکے نرنجنی اکھاڑے کے 17 سنت کورونا پازیٹیو

محکمہ صحت کی ٹیم مسلسل وہاں بنی ہوئی ہے اور وہ اکھاڑوں میں رہ رہے سادھو سنتوں کے نمونے لے رہی ہے ۔ فی الحال کورونا کی زد میں آئے سنتوں کو ان کے ہی اکھاڑے میں آئیسولیٹ کرنے کا بندوبست کیا جارہا ہے ۔

  • Share this:
ہری دوار : کمبھ ختم کرنے کا اعلان کرچکے نرنجنی اکھاڑے کے 17 سنت کورونا پازیٹیو
ہری دوار : کمبھ ختم کرنے کا اعلان کرچکے نرنجنی اکھاڑے کے 17 سنت کورونا پازیٹیو

ہری دوار : ہری دوار میں چل رہے مہاکمبھ میں مسلسل کورونا وائرس کی خبریں سامنے آرہی ہیں ۔ فی الحال نرنجنی اکھاڑے سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے ۔ اس اکھاڑے کے 17 سنتوں کی کورونا ٹیسٹ رپورٹ پازیٹیو آئی ہے ۔ ان سنتوں کا ریپٹ اینٹیجن ٹیسٹ کیا گیا تھا ۔ محکمہ صحت کی ٹیم مسلسل وہاں بنی ہوئی ہے اور وہ اکھاڑوں میں رہ رہے سادھو سنتوں کے نمونے لے رہی ہے ۔ فی الحال کورونا کی زد میں آئے سنتوں کو ان کے ہی اکھاڑے میں آئیسولیٹ کرنے کا بندوبست کیا جارہا ہے ۔


نرنجنی اکھاڑے کے سکریٹری مہنت رویندر پوری کی کورونا رپورٹ بھی پازیٹیو آئی ہے ۔ انہیں بھی اکھاڑے میں ہی آئیسولیٹ کیا گیا ہے ۔ مہنت رویندر پوری کل شامل پٹٹا ابھیشیک پروگرام میں شامل رہے تھے ۔ مہنت رویندر پوری نے خود ہی کورونا سے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے ۔


آپ کو بتادیں کہ ہری دوار مہاکمبھ میں 13 اکھاڑے آئے ہیں ۔ ان میں سے نرنجنی اور آنند اکھاڑے نے اپنی طرف سے مہاکمبھ ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔ نرنجنی اکھاڑے کی سکریٹری مہنت رویندر پوری نے کمبھ کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کے بڑھتے قہر کے پیش نظر اکھاڑے نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ 17 اپریل کو ہونے والے شاہی اشنان کے بعد کمبھ ختم کردیا جائے گا ۔


ادھر آنند اکھاڑے نے بھی اپنی طرف سے جمعرات کو اعلان کیا کہ 17 اپریل کو ہونے والے شاہی اشنان کے بعد کمبھ میلہ ختم ہوجائے گا ، لیکن اس معاملہ پر بیراگی سنتوں اور کئی دیگر اکھاڑوں کی الگ رائے ہے ۔ بیراگی اکھاڑوں کے سنت نرنجنی اور آنند اکھاڑے کے اس فیصلہ کے خلاف کھڑے ہوگئے ہیں اور باقاعدہ معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کررہے ہیں ۔

انہوں نے وارننگ دی ہے کہ اگر دونوں اکھاڑوں نے معافی نہیں مانگی تو اکھاڑا پریشد سے نرموہی انی ، نروانی انی اور دگمبر انی الگ ہوجائیں گے ۔ بیراگی اکھاڑا 30 اپریل سے پہلے کمبھ ختم نہیں کرنا چاہتا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 16, 2021 04:40 PM IST