உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Uttarkashi Avalanche : 'چند سیکینڈ میں سب کچھ برف سے ڈھک گیا'، اترکاشی میں زندہ بچے ٹرنیر نے سنائی آنکھوں دیکھی

    Uttarkashi Avalanche : 'چند سیکینڈ میں سب کچھ تباہ'، اترکاشی میں زندہ بچے ٹرنیر نے سنائی آنکھوں دیکھی

    Uttarkashi Avalanche : 'چند سیکینڈ میں سب کچھ تباہ'، اترکاشی میں زندہ بچے ٹرنیر نے سنائی آنکھوں دیکھی

    Uttarkashi Avalanche Latest Update: اتراکھنڈ کے اترکاشی میں منگل کو برفانی تودہ گرنے کے واقعہ میں زندہ بچ جانے والے این آئی ایم کے ٹرینر انل کمار کی آنکھیں اس دن کے منظر کو یاد کرکے نم ہوگئیں ۔ انہوں نے کہا کہ چند سیکینڈ میں سب کچھ برف کی موٹی چادر میں ڈھک گیا ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Uttarakhand (Uttaranchal) | Uttarkashi | Dehradun
    • Share this:
      اترکاشی: اتراکھنڈ کے اترکاشی میں منگل کو برفانی تودہ گرنے کے واقعہ میں زندہ بچ جانے والے این آئی ایم کے ٹرینر انل کمار کی آنکھیں اس دن کے منظر کو یاد کرکے نم ہوگئیں ۔ انہوں نے کہا کہ چند سیکینڈ میں سب کچھ برف کی موٹی چادر میں ڈھک گیا ۔ این آئی ایم کے کوہ پیما چڑھائی کے بعد لوٹتے وقت 17 ہزار فٹ کی اونچائی پر دروپدی کا ڈنڈہ دوئم چوٹی پر برفانی تودہ کی زد میں آگئے تھے ۔ اس حادثہ کے بعد اب تک 16 لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں ۔ انل کمار ان 14 زخمی کوہ پیماوں میں ہیں، جنہیں ریسکیو ٹیم نے ریسکیو کی تھا ۔ زخمیوں کو بدھ کو ضلع اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ۔

      انل کمار نے کہا کہ ٹیم میں 34 ٹرینی سمیت 42 کوہ پیما تھے ، میں ان کی قیادت کررہا تھا ۔ ٹرینرز سویتا کنسوال اور نومی راوت میرے پیچھے تھے جبکہ باقی ان کے پیچھے چل رہے تھے ، تبھی برفانی تودہ گرا اور کچھ ہی سیکینڈ میں سب کچھ برف کی موٹی چادر کے نیچے دب گیا ۔ انہوں نے کہا کہ برفادنی تودہ گرنے کے دوران 33 کوہ پیما ہمکھنڈ کے درمیان بنی درار میں چھپ گئے تھے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: مدھیہ پردیش : بھوپال کی شاہی مسجد سے سونے کا کلس چوری، پولیس نے شروع کی تفتیش


      این آئی ایم کے ٹرینر انل کمار نے کہا کہ جیسا کہ میں باقی سے آگے تھا، میں درار کی بائیں جانب پھنسا ہوا تھا جبکہ برف بیٹھنے لگی تو میں نے رسیوں کو کھول دیا اور اپنے ساتھیوں کو نکالنا شروع کیا ۔ دیگر ٹرینرز بھی اس کام میں لگ گئے ۔ مناسب آلات کے دستیاب نہیں ہونے کی صورت میں انہیں برف کو ہٹانے میں دو گھنٹے لگے ۔ کمار نے کہا کہ جو لوگ بھی نظر آئے ، انہیں نکال لیا گیا اور کافی کوشش کے باوجود ٹیم کے 29 اراکین درار میں پھنس گئے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: ملائم سنگھ یادو کی حالت ابھی بھی نازک، میدانتا اسپتال نے جاری کیا ہیلتھ بلیٹن


      گزشتہ 12 سالوں میں دوسری مرتبہ کمار ایسے حادثہ میں بال بچے ہیں ۔ وہ 2010 میں جواہر انسٹی ٹیوٹ آف ماونٹینئرنگ اینڈ ونٹر اسپورٹس کی گلمرگ برانچ میں عہدے پر تھے، تب وہ 250 اراکین پر مشتمل کوہ پیما ٹیم کا حصہ تھے اور اسی طرح برفانی تودے میں پھنس گئے تھے ۔

      کمار تو بال بال بچ گئے تھے، لیکن ان کے 18 ٹرینی کوہ پیما اس حادثہ میں مارے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ دروپدی کا ڈندہ دوئم پر جو برفانی تودہ گرا وہ زیادہ خوفناک تھا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: