مندروں اور مسجدوں میں بغیر اجازت لاؤڈ اسپیکروں کا استعمال نہ ہو: ہائی کورٹ

نینی تال۔ اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں حکومت کو ریاست میں پھیلنے والی صنعتی آلودگی اور صوتی آلودگی پر روک لگانے کا حکم دیا ہے۔

Jun 27, 2018 10:25 AM IST | Updated on: Jun 27, 2018 10:25 AM IST
مندروں اور مسجدوں میں بغیر اجازت لاؤڈ اسپیکروں کا استعمال نہ ہو: ہائی کورٹ

علامتی تصویر

نینی تال۔ اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں حکومت کو ریاست میں پھیلنے والی صنعتی آلودگی اور صوتی آلودگی پر روک لگانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے اجازت کے بغیر ریاست کے مذہبی اداروں میں لاؤڈ اسپیکر بجانے پر بھی روک لگا دی ہے۔  کورٹ نے تيرتھ نگري ہری دوار میں ایک صنعتی یونٹ کی طرف سے پھیلائی جانے والی آلودگی کے معاملے کو بھی سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس پر پانچ کروڑ کا جرمانہ لگایا ہے۔

جج راجیو شرما اور جسٹس لوک پال سنگھ کی بینچ نے عرضی گزار مہندر سنگھ کی آلودگی سے متعلق مفاد عامہ کی عرضی کی سماعت کے بعد یہ حکم جاری کیا ۔ درخواست گزار نے کہا کہ ہری دوار میں ایک صنعتی یونٹ کی طرف سے صنعتی فضلہ کو کھلے میں پھینکا جا رہا ہے۔ اس سے علاقے میں آلودگی پھیل رہی ہے۔ ارد گرد کے رہائشی علاقے میں پینے کا پانی آلودہ ہو رہا ہے اور اس سے لوگوں کی صحت پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ عدالت نے 19 جون کو ہونے والی سماعت کے بعد منگل کو یہ اہم حکم جاری کیا۔

عدالت نے ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈ کو ریاست بھر کی تمام صنعتی یونٹوں کی جانچ پڑتال اور ان میں آلودگی کنٹرول سے متعلق اقدامات کی بھی سختی سے جانچ کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ تحقیقاتی ٹیم میں متعلقہ علاقے کا ایس ڈی ایم بھی ساتھ میں رہے۔ عدالت نے ریاست میں صوتی آلودگی کے سلسلے میں بھی اہم حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ مندر، مسجد اور گرودواروں میں بغیر اجازت کے لاؤڈ اسپیکر نہ بجائے جائیں۔

Loading...

Loading...