ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Sanjeevani Campaign:ویکسین نے ہمیں قریب لایا، ایک عالمی جائزہ

عالمی ویکسینیشن رابطہ کا مطلب یہ ہے کہ اب ممالک اپنے ویکسینیشن پروگرامز کی اثر پذیری سے متلعق ڈیٹا کا ریئل ٹائم میں اشتراک کر سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھ سکتے ہیں۔

  • Share this:
Sanjeevani Campaign:ویکسین نے ہمیں قریب لایا، ایک عالمی جائزہ
ویکسین کی یکساں تقسیم کا اہتمام کرنے کیلئے ماہرین اور پالیسی سازوں کی خدمات حاصل کی ہیں۔

برازیل اور ہندوستان  حقیقی معنوں میں دنیا کے دو مخالف کناروں پر واقع ہیں۔ تاریخی اعتبار سے، ان دو بڑے ممالک کے مابین تجارتی اور عوام کے شخصی تعلقات کم رہے ہیں۔ اسلئے، جب اس سال کے اوائل میں Covishield ویکسینز کی 2 ملین خوراکیں ملنے کے بعد جب برازیلیائی صدر جیر بولسونارو نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ’دھنیہ واد‘ کہتے ہوئے ٹویٹ کیا تو اسے عالمی تعاون کے ایک نئے عہد کے آغاز سے تعبیر کیا گیا اور اس نے Covid-19 کے خلاف جاری لڑائی کو جِلا بخشی۔ اس وقت جبکہ ہر ملک اس وبا کے ذریعے لائے گئے منفرد خانگی بحرانوں سے نبرد آزما ہے، یہ عمل عالمی ترتیب کی الہامی علامت بن گیا ہے۔


یہ عالمی صف بندی اس حقیقت میں پنہاں ہے کہ ممالک نے وبا کے دوران پہلے ہی یہ محسوس کر لیا تھا کہ وائرس سے لڑنے کیلئے انٹیلی جینس اور مہارت کا اشتراک کرنا ضروری ہے۔ جس وقت سرحدیں بند کر دی گئی تھیں، تب بھی باہم تعاون عروج پر تھا، خاص طور پر ویکسین کے ڈیولپمنٹ اور تقسیم کے میدان میں۔ اب WHO، سینٹر فار ایپیڈیمک پریپیئرڈنیس (CEPI) اور گاوی ویکسین الائنس جیسے ادارے ان کاوشوں میں رہنمائی کر رہے ہیں۔ ان اداروں نے دنیا بھر میں  ویکسین کی یکساں تقسیم کا اہتمام کرنے کیلئے ماہرین اور پالیسی سازوں کی خدمات حاصل کی ہیں۔



اس مشن کی کامیاب تکمیل پر کئی خطرات منڈلا رہے ہیں۔ اداروں کو چاہیے کہ وہ سپلائیز تک غیر مساوی رسائی، اشیاء کے نقل و حمل میں لاحق سیکیورٹی خطرات، مقامی بے چینی اور دنیا کے مختلف حصوں میں عوامی موافقت کے فقدان کیلئے منصوبہ سازی کریں، کیونکہ یہ وہ چیزیں ہیں جو اب بھی ویکسینیشن پروگرام کو تباہ کر سکتی ہیں۔ لیکن جہاں خطرات ہیں، وہیں مواقع بھی ہیں۔ عالمی ویکسینیشن رابطہ کا مطلب یہ ہے کہ اب ممالک اپنے ویکسینیشن پروگرامز کی اثر پذیری سے متلعق ڈیٹا کا ریئل ٹائم میں اشتراک کر سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھ سکتے ہیں۔ امیر ممالک ویکسینز جمع نہ کر لیں، اس خطرے سے نپٹنے کیلئے بھی بین الاقوامی میکانزمز موجود ہیں، جیسے COVID-19 ویکسینز گلوبل ایکسیس گروپ (COVAX)، جو نسبتاً غریب ممالک کو اضافی ویکسین شاٹس کا عطیہ دینے کیلئے مہم چلاتا ہے۔

اس عالمی بھائی چارے کے اظہار کی سب سے بڑی وجہ ویکسین کی مساویانہ تقسیم سے حاصل ہونے والے واضح فوائد ہیں۔ امیر ممالک کو نسبتاً غریب ممالک کو ویکسینز کا عطیہ دینے کیلئے جو ممکنہ قیمتیں ادا کرنی پڑ رہی ہیں، یقینی طور پر ان کی اس سرمایہ کاری کا زبردست فائدہ حاصل ہوگا اور معیشتوں کو اس وبا سے فوری طور پر ابھر آنے میں مدد ملے گی۔ مقررہ وقت پر تشکیل پانے والے نئے اتحاد اور پرانے اتحاد کی تصدیق نَو ایک ایسا مزید متحد دنیا تشکیل دینے میں مدد کرے گا جو مستقبل میں ایسی آفات سے نپٹنے کیلئے زیادہ مسلح ہوگی۔ انفرادی شہریوں کیلئے بھی، یہ اپنے ان مشترکہ تجربات کے ساتھ خوش ہونے اور دوسروں کے ساتھ ہمدردی کرنے کا وقت ہے جو انتہائی جامع طریقے سے ہمارے اختلافات پر غالب آگیا ہے۔



باہمی عالمی تعاون کا یہ نیا عہد بیشتر پسماندہ اور کمزور لوگوں کیلئے ایک بے غرضانہ تشویش بھی پیدا کر رہا ہے۔ یہ وہ طبقات ہیں جنہیں انفیکشن کا سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ یہ خطرہ تب مزید بڑھ جاتا ہے جب انہیں Covid-19 سے تحفظ کی ویکسینیشن تک نامکمل رسائی حاصل ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس نے ہندوستان کے سب سے بڑے ویکسینیشن ڈرائیو  Network18 ‘Sanjeevani – A Shot of Life’ کو تحریک دی ہے، جو فیڈرل بینک کی ایک خاص CSR پیش قدمی ہے۔ ہندوستان کی صحت اور امیونٹی کیلئے اس تحریک میں شامل ہوں اور Covid-19 ویکسینیشن تک رسائی اور معلومات تمام ہندوستانیوں تک پہنچانے میں مدد کریں۔ یہ ہمارے لئے دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کا موقع ہے۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: May 26, 2021 09:02 PM IST