உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ویلنٹائن ڈے : ہیٹرو سیکسوئل اور ہم جنس پرستی کے علاوہ اور بھی نئے الفاظ اور خیالات آئے سامنے ، کیا آپ جانتے ہیں

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    ہیومن سیکسوئلیٹی کا دائرہ بہت وسیع ہے اور سبھی لوگ ان دونوں زمروں میں فٹ نہیں بیٹھتے ہیں ۔ لوگ اب اپنے پارٹنرس تلاش کرتے ہیں اور وہ اس دائرے سے باہر اپنی تلاش کررہے ہیں ۔

    • Share this:
      عام طور پر یہ بھی مانا جاتا ہے کہ کوئی اگر پینس کے ساتھ پیدا ہوا ہے تو وہ مرد ہوگا اور وجائنا کے ساتھ پیدا ہونے والی خاتون ہوگی ۔ یہ بھی دنیا میں بائنری کے طور پر دیکھا جاتا ہے کہ مرد اور عورت میں اگر جنسی تعلقات قائم ہوتا ہے اور وہ بچے پیدا کرتے ہیں ۔ لیکن ہیومن سیکسوئلیٹی کا دائرہ بہت وسیع ہے اور سبھی لوگ ان دونوں زمروں میں فٹ نہیں بیٹھتے ہیں ۔ لوگ اب اپنے پارٹنرس تلاش کرتے ہیں اور وہ اس دائرے سے باہر اپنی تلاش کررہے ہیں ۔

      یو گو کے ایک سروے میں کہا گیا ہے کہ 18 فیصد لوگ ٹنڈر اور اوکے کوپڈ جیسے ڈیٹنگ ایپس کا استعمال کرتے ہیں جبکہ 16 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ ایل جی بی ٹی کیو آئی اے پلس طبقہ کیلئے خاص طور پر بنے ایپس جیسے گرینڈر کا استعمال ہم جنس پرست ڈیٹنگ کے متبادل کے طور پر کرتے ہیں ۔

      ہیٹرو سیکسوئل اور ہم جنس پرستی کے علاوہ اور بھی کچھ نئے الفاظ اور خیالات سامنے آئے ہیں ، جنہیں سمجھنے کی ضرورت ہے ۔

      بائی سیکسوئل / بائی رومانٹک : ایسا کوئی جو مرد اور عورت دونوں کی جانب راغب ہوتا ہے ۔

      پین سیکسوئل / پین رومانٹک : ایسا کوئی جو سبھی جنس کے لوگوں یہاں تک کہ ٹرانسجینڈر کی طرف بھی راغب ہوتا ہے ۔

      ایسیکسوئل / اے رومانٹک : ایسا کوئی جو کسی کے بھی تئیں یا تو بہت ہی کم یا کسی بھی طرح کا روماٹنگ نہیں ہوتا ہے ۔

      سیکسوئلی / رومانٹکلی فلوئیڈ : ایسا کوئی جس کا سیکسوئل اورینٹیشن وقت کے ساتھ بدلتا ہے ۔

      کوئیر : اس لفظ کا معنی الگ الگ لوگوں کیلئے الگ الگ ہوسکتا ہے اور جنسی طور پر اقلیت سبھی لوگ اس کے تحت آتے ہیں ۔

      کچھ تو لوگ کہیں گے

      ہندوستان میں عام زندگی خاص کر بالی ووڈ میں ہم جنس پرستوں کا بہت پہلے سے ہی مذاق اڑایا جاتا رہا ہے ۔ ان کی مثال مضحکہ خیز نسوانی خوبیوں والے مرد کے طور پر دی جاتی ہے یا پھر ویسا جیسا کرن جون کی فلم دوستانہ میں گے ہونے کا بہانہ کرنے والے کردار کے طور پر متعارف کرایا جاتا ہے ۔ اس طرح متبادل سیکسوئلیٹی کا پورا اسپیکٹرم عام زندگی میں پراسرار رہ جاتا ہے ۔

      کوئیر کمیونٹی کو جس غیر مناسب طریقہ سے دکھایا جاتا ہے اس کی وجہ سے ان کے بارے میں گھروں اور کنبوں میں تصورات مزید مضبوط ہوجاتے ہیں ۔ کوئیر لوگوں کو عام زندگی میں کس طرح کی نفرت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اس کو اس لڑکے کی آپ بیتی کو پڑھ کر بہتر طریقہ سے سمجھا جاسکتا ہے ۔ یہ لڑکا خود کو کوئیر بتاتا ہے اور وہ ابھی بھی اپنے کنبہ سے باہر نہیں نکل پایا ہے ۔

      جب میں 17 سال کا تھا  ، میرے ذہن میں یہ طے تھا کہ میں گے ہوں ۔ میں نے یہ بات صرف اپنے ایک سب سے معتمد دوست کو بتائی اور اس بارے میں سب کچھ اپنے دماغ میں ہی رکھنا بہت مشکل ہے ۔ ہم جنس پرستی کی وجہ سے میرا بچپن بہت ہی مایوسی سے بھرا رہا ۔ جب میں 12-13 سال کا تھا ، میں مردوں کی عریاں تصویریں دیکھا کرتا تھا اور میں اس کو انتہائی معمولی بات سمجھتا تھا ۔ اب میں کسی بڑے شہر کا رخ کرنا چاہتا ہوں تاکہ میں وہ اپنی پسند کے مطابق زندگی گزار سکوں ، مگر یہ اتنا آسان کہاں ہے ۔ ابراہیم ( بدلا ہوا نام ) ، 20 ،  طالب عم ، گوالیار ۔

      میں کوئیر ہوں یہ میں کیسے جانتا ہوں ؟

      ایسی کوئی کوئز یا جانچ نہیں ہے ، جس سے یہ پتہ چل سکے کہ سیکسوئلی دماغی طور پر آپ کیا ہیں ۔ بدقسمتی سے اس سوال کا کوئی طے شدہ یا یقینی جواب نہیں ہے ۔ پہلا اور سب سے اہم قدم یہ سمجھنا ہے کہ سیکسوئلی آپ کیا چاہتے ہیں ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر غور کریں ۔

      سیکسوئلی آپ خود کی شناخت کیسے کرتے ہیں ۔

      رومانس ، پیار اور سیکس کے بارے میں آپ کے خیالات کیا ہیں ۔

      شناخت اور کشش بدل سکتی ہے ۔

      اپنی جنسی شناخت کیلئے کسی لفظ کا احتیاط کے ساتھ انتخاب کریں ۔

      جینڈر اور شناخت کے بارے میں بڑے تلفظ کو سمجھنے سے پہلے کشش کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ کشش کی بات جسم سے زیادہ دماغ میں ہوتی ہے ۔ جسمانی ساخت اور تولیدی عضو کسی کی جنسی شناخت نہیں کرتے بلکہ آپ کی صحیح شناخت وہ ہے ، جس میں آپ اعتماد کرتے ہیں ۔

      کشش وہ ہے جو کوئی اپنے اندر سے محسوس کرتا ہے ۔ بنیادی طور پر کسی کی جنسی پسند اس کے سماجی پس منظر اور خود کے بارے میں اس کی معلومات پر منحصر ہے ۔ کشش کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ یہ لوگوں کے اپنے قابو میں ہوتی ہے ، مگر کوئی اس کوکیسے سمجھتا ہے اور کس طرح اس پر چلتا ہے ، یہ اس خاص شخص پر منحصر ہے ۔

      گزشتہ نسل میں ایسے لوگوں کی تعداد کافی زیادہ تھی ، جو اس بارے میں پریقین تھے کہ وہ ہم جنس پرستی ہیں ، مگر ایسے لوگوں نے شادی کی اور بچے بھی پیدا کئے ، کیونکہ ان پر خاندان کا دباو تھا اور سماجی بندشیں تھیں ۔

      مگر اب چیزیں رفتہ رفتہ بدل رہی ہیں ۔ اگر آپ ایسا کرتے ہوئے محفوظ محسوس کرتے ہیں تو آپ کو ضرور ہی اس سلسلہ میں واضح طور پر بولنا چاہئے اور یہ یاد رکھنا چاہئے کہ پیار اور رومانس وہی رہتا ہے ، بھلے ہی آپ کسی ( عورت / مرد / ان ) کے ساتھ یہ کرتے ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: