ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

ویلنٹائن ڈےاسپیشل : کیا محبوب کی کشش ہی عشق والا پیار ہے؟

اکثر لڑکیاں، لڑکوں سے پہلے بلوغت تک پہنچ جاتی ہیں لہذا وہ لڑکوں کے مقابلے میں اس پورے عمل کا پہلے تجربہ کرتی ہیں۔

  • Share this:
ویلنٹائن ڈےاسپیشل : کیا  محبوب کی   کشش ہی عشق والا پیار ہے؟
اکثر لڑکیاں، لڑکوں سے پہلے بلوغت تک پہنچ جاتی ہیں لہذا وہ لڑکوں کے مقابلے میں اس پورے عمل کا پہلے تجربہ کرتی ہیں۔

اہرین نفسیات کے مطابق ، کسی سے بھی محبت کی کشش عام طور پر چار ماہ تک جاری رہتی ہے۔ اگر یہ احساس اس سے زیادہ دیر تک جاری رہتا ہے تو یہ ممکنہ محبت ہوسکتی ہے۔جب بچپن، نوعمر اور ابتدائی جوانی میں متنقل ہوتاہے تو نوجوان کو انسانی رشتوں کے لئے مضبوط محرک قوت جنسی کشش اور محبت کا احساس ہوتا ہے اور یہ مناسب جوانی اوربلوغت کا بھی انتظار نہیں کرتا ہے۔


بچپن کا پیار!


"میں کلاس 9 میں تھی، اور وہ چند ہفتوں سے اسکول میں ٹرینی ٹیچر تھا۔ وہ دلکش اور اچھا لگتا تھا ، میں نے اسے متاثر کرنے کے لئے اپنے ریاضی میں بہت کچھ بہتر کیا! کچھ سالوں کے بعد میں ایک بار پھر کالج کےاستاد سے متاثر ہوگئی اور میں نے ان کے ساتھ، اپنےمستقبل کے بچوں کو بھی تصور کرلیا۔ دونوں ہی بار میں مجھے جسمانی کشش تھی ، اور اسکاکبھی اظہار خیال نہیں کیا گیا۔ “- مینا ، 26 ، صحافی ، دہلی


ویلنٹائن ڈےاسپیشل : کیا محبوب کی کشش ہی عشق والا پیار ہے؟
ویلنٹائن ڈےاسپیشل : کیا محبوب کی کشش ہی عشق والا پیار ہے؟


ہم میں سے بیشتر نے اسکول میں پہلی بار کس کی جانب مائل ہوئے، ہے نا؟ مڈل اسکول میں رومانٹک قصے اور گپ شپ کے بارے میں بات کر نا کون پسند نہیں کرتاہے۔کو ن کس کو پسند کرتاہے یہ بھی بہت سی عام بات ہوتی ہے۔ہر ایک کے پاس اپنی پسندیدہ ٹیچر ہوتی ہے۔بلوغت شروع ہونے کی عمر اب لڑکیوں میں 9 اور لڑکوں کے 11 سال ہے۔ اس ابتدائی جوانی میں ، وہ اکثر بڑوں کی طرح کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، بلوغت کی وجہ سے انہیں زیادہ سے زیادہ جنسی طور پر متاثر ہونے کی ترغیب ملتی ہے۔

اکثر لڑکیاں، لڑکوں سے پہلے بلوغت تک پہنچ جاتی ہیں لہذا وہ لڑکوں کے مقابلے میں اس پورے عمل کا پہلے تجربہ کرتی ہیں۔ ابتدائی برسوں میں یہ زیادہ تر دوستوں کی آمیزش اور حیرت انگیز چھیڑ چھاڑ سے متاثر ہوتی ہے - اور دوستوں میں "تیرے والا / تیری والی" کو لیکر بات چیت ہوتی ہے۔

اکثر لڑکیاں، لڑکوں سے پہلے بلوغت تک پہنچ جاتی ہیں لہذا وہ لڑکوں کے مقابلے میں اس پورے عمل کا پہلےتجربہ کرتی ہیں
اکثر لڑکیاں، لڑکوں سے پہلے بلوغت تک پہنچ جاتی ہیں لہذا وہ لڑکوں کے مقابلے میں اس پورے عمل کا پہلےتجربہ کرتی ہیں


ہارمونز کا یہ پہلا رش ، ٹیسٹوسٹیرون اور ایسٹروجن کی شروعات کسی طوفان سے کم نہیں ہوتی ہے۔ پہلی کس، پہلی مرتبہ سیکس کے بعد بھی کسی بھی شخص کوواضح تصورات آتے رہتے ہیں ،آپ ہرروز ایک ہزار مرتبہ اپنے محبوب کو دیکھناچاہتے ہیں۔بھوک کم ہوجاتی ہے، آپ کی نیند کم ہوجاتی ہے اور آپ کی توجہ بھی کم ہوجاتی ہے۔ آپ فلمی مراحلے کی طرز پرخواب دیکھتے ہیں۔لیکن یہ آپ کا ایک راز اور ایک طرفہ عمل ہوتاہے۔

"میں نے اپنے والد کی طرف سے گھریلو تشدد کا مشاہدہ کرنے کی وجہ سے ہمیشہ لڑکوں سے دور ہی رہتی تھی۔وہ لڑکا 3 سال چھوٹا تھا ، ایک دوست کا دوست تھا۔ جس کے ساتھ میں نے فون پر بات چیت شروع کردی تھی ۔جلد ہی بات چیت میں گہری ہوگئی (جنسی نہیں بلکہ نگہداشت اور جذبات والی) تو ایسا لگتا تھا کہ وہی واحد ہے۔ بعد میں ہم نے دہلی میں ہمایوں کا مقبرہ کے پاس ملاقات کی۔ جہاں اچانک ہی اس نے مجھے بھی ایک سیاہ کونے میں بوسہ دے دیا۔ لیکن اس کے بعد وہ آگے بڑھ گیا اور لیکن اب بھی شکستہ دل ہوں۔ “۔ پوجیا ، 25 ، ٹیچر ، این سی آر (نام تبدیل ہوا)

کچھ کچھ ہوتا ہے؟

جیسا کہ وہ کہتے ہیں ممنوعہ پھل سب سے میٹھا ہے۔ ہندوستان میں سیکس بیشتر نوجوانوں کے لئے ممنوع پھل ہے لہذا ابتدائی کشش کو بڑھاوا دیا جاتا ہے۔
"میں 13 سال کی تھی اور دوستوں اور مسترم (مزاحیہ کہانیوں)سے سیکس کے بارے میں تھوڑا سا جانتاتھا۔لیکن جب پہلی بار مجھے کسی حقیقی لڑکی کے لئے کشش اور بے قراری محسوس ہوئی تو میں گھبرا گیا تھا۔ وہ ایک ہماری پڑوسی تھی اور ہم فنکشن پر ملتے تھے۔ وہ اکثر مجھ دیکھےکر مسکراتی تھیں۔ میں نے اسے فلم دیکھنے کی دعوت دی تحفہ اور خط بھیجا ، تاہم اس نے دونوں کو "پاپا نہیں مانیں گے" کہتے ہوئے انکار کردیا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہاں کہنا چاہتی ہے لیکن نہیں کہتی ہے؟ ”۔
عاصم ،انیمیشن آرٹسٹ، 23 ، ناسک

نوعمری کے سالوں میں آزادانہ کشش کا اظہار کنبہ اور معاشرے ابھی بھی قبول نہیں کیاجاتاہے۔لہذا نوعمری میں اسے پوشیدہ رکھا جاتاہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ 13 سال کی عمر میں جو محسوس ہوتا ہے 19-18 کی عمر سے مختلف ہے۔بعد میں احساسات بہت ٹھوس ہوجاتے ہیں۔

زیادہ تر اسکولوں اور کالجوں میں عام بات ہوگئی ہے خاص عمر کے ساتھ ہی آپ بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ ہونے کا اظہار کررہے ہیں۔ اکثر یہ بات چیت اسکولوں کے دوروں ، کالج کے پروگرام، خاندانی اجتماعات وغیرہ میں ہوتی ہے۔اور پھر اگلا مرحلہ "تنہا وقت" کی تلاش میں رہتا ہے جہاں گلے اور بوسے جیسے ابتدائی جسمانی قربت واقع ہوسکتی ہے۔

نوعمری کے سالوں میں آزادانہ کشش کا اظہار کنبہ اور معاشرے ابھی بھی قبول نہیں کیاجاتاہے۔
نوعمری کے سالوں میں آزادانہ کشش کا اظہار کنبہ اور معاشرے ابھی بھی قبول نہیں کیاجاتاہے۔


زمانہ ہےدشمن محبت کا

عام طور پر ہندوستانی معاشرے میں نوعمری کا رومانس قبول نہیں کیا جاتا ہے ، بیشتر والدین یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ جنسی تعلقات سے متعلق ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جو کنواری اور شادی پر بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔اس لیے وہ اسے کشش کہتے ہیں۔فحاشی، فدا ہونا، بلوغت کا پیارکہتے ہیں اور اسے غیر سنجیدہ قرار دیتے ہیں۔ اس دور میں کشش ، یک طرفہ ہوتا ہے یا مسترد ہوجاتا ہے ، اور ددوستوں میں مذاق کا موضوع بن جاتاہے جسمانی شبیہ کے معاملات اور شناخت کا بحران پیدا ہوتاہے۔

مجھ سے پیار کرتا ہے یا مجھ سے پیار نہیں کرتا؟

ابتدائی کشش تین طرح کی ہوتی ہے
Identity crush/شناخت کرش اس فرد کے لئے ہے جس کی وہ تعریف کرتے ہیں اور اس کی تقلید کرتے ہیں اور اس کی طرح بننا چاہتے ہیں ، یا ایک مثالی ساتھی کے طور پر( عام طور پر استاد کی حیثیت سے) دیکھتے ہیں ، یہ اکثر یک طرفہ ہوتا ہے۔
رومانوی دیوانگی،Romantic crush
رومانوی دیوانگی ،اپنی عمر / ہم عمر گروپ سےہوتی ہے۔ قریب میں کوئی ہے جو شاید کچھ دلچسپی لیتا ہو۔
Celebrity crush سلیبریٹی دیوانگی یعنی ایسی چیزیں اکثر ہوتی ہیں جس میں تصوارت سے بنا ہوتا ہے ، اور اس میں کوئی باہمی رابطہ نہیں ہوتا ہے ، صرف خیالی آمنا سامنا ہوتاہے ۔ جو مشت زنی اور نوعمری کے خواب کو سجانے کے لئے متحرک ہوتے ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر "رشتے" ختم ہوجاتے ہیں لیکن ان خیالی ملاقاتوں سے نوجوانوں کو معاشرتی صلاحیتوں کو بہتر بنانے ، مخالف جنس اور اپنی جنسی ترجیحات اور شناخت کے بارے میں مزید جاننے میں مدد ملتی ہے اور بعض اوقات نئی دلچسپیوں کا باعث بنتا ہے جیسے "اگر وہ ٹینس سیکھتی ہے میں بھی سیکھوں گا۔ اگر وہ پڑھتی ہے تو میں بھی پڑھنے کی کوشش کرونگی ۔

ابتدائی کشش یقینی طور پر پیار نہیں ہوسکتاہے۔ کیونکہ اس کے لئے زندگی کے اس مرحلے میں صبر اور توجہ دونوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ طویل عرصے کا عشق بن سکتا ہے۔ تب تک پیار باٹتے چلو رضامندی اور حفاظت کے ساتھ!
First published: Feb 05, 2020 06:57 PM IST