உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ویلنٹائن ڈے 2020 اسپیشل : بھول کوئی ہم سے نا ہو جائے؟

    معاشرتی اور اخلاقی طور پر بھی پیدائشی خاندانی ڈھانچے کے تقدس کو بچانے کے لئے شادی شدہ جوڑے کے علاوہ خاندان کے دوسرے ارکان  خاندان  کے درمیان میں جنسی تعلقات ممنوع ہیں۔

    معاشرتی اور اخلاقی طور پر بھی پیدائشی خاندانی ڈھانچے کے تقدس کو بچانے کے لئے شادی شدہ جوڑے کے علاوہ خاندان کے دوسرے ارکان خاندان کے درمیان میں جنسی تعلقات ممنوع ہیں۔

    معاشرتی اور اخلاقی طور پر بھی پیدائشی خاندانی ڈھانچے کے تقدس کو بچانے کے لئے شادی شدہ جوڑے کے علاوہ خاندان کے دوسرے ارکان خاندان کے درمیان میں جنسی تعلقات ممنوع ہیں۔

    • Share this:
      بلوغت کے آغاز پر ہی ہر شخص میں بہت ساری جسمانی اور جذباتی تبدیلیاں آتی ہیں۔ ایک نوجوان شخص زندگی کے اس مرحلے پر مخالف جنس کے لوگوں کی جانب راغب ہوتاہے جو اسکے دوست ہوتے ہیں یا اسکے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ہم اپنے گھروں میں جنسی تعلقات کے بارے میں اکثر بات نہیں کرتے ہیں۔ تاہم نوعمر اور نوجوانوں کوجنسی تعلقات کے متعلق انٹرنیٹ کے ذریعہ فحش ویڈیوز اور ناتجربہ کار دوستوں کے ذریعہ آدھی اھورے معلومات حاصل ہوتی ہے۔اس لیے ان میں سیکس کو لیکر تجسس اپنے عروج پر ہوتاہے۔

      ان سے ملی نظر تومیرے ہوش اڑگئے

      غالبا ً انسان کے وجود میں آنے کے بعد سے ہی اپنے قریبی رشتہ داروں کے بارے میں تصورات کرنا ایک معمول رہا ہوگا۔ قدیم مصریوں نے شاہی نسب کو برقرار رکھنے کے لئے اپنے ہی خاندان میں شادی کو ترجیح دیتے تھے۔ لیکن جب تہذیبیں ترقی کرتی گئیں اور ہمارے یہاں شادی نظام میں میں مختلف تبدیلیاں آتی گئیں اوراپنے افراد خانہ کے متعلق تصورات رکھتے ہیں۔ لیکن معاشرتی اصولوں نے کچھ رشتوں میں جنسی اختلاط کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔

       ہم سب ان لوگوں کی طرف راغب ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں کبھی کبھی متوجہ نہیں ہونا چاہئے
      ہم سب ان لوگوں کی طرف راغب ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں کبھی کبھی متوجہ نہیں ہونا چاہئے


      "میری بہن دہلی میں ملازمت کر رہی تھی جب میں مسابقتی امتحانات کی کوچنگ کے لئے آیا تو اسکے اس کے ساتھ ہی رہتاتھا۔ جسمانی قربت کو لیکر جذبات فروغ پانے لگے۔میری بہن ، بریک اپ کے صدمے سے باہر نکال کر ، وہ ایک دن شراب پی رہی تھی اور مجھے پہلی بار کچھ پیش کش کی ، اس وقت میں 18 سال کا تھا۔ ہم نے اس رات کے بعد اور اس کے بعد کئی سالوں تک جنسی تعلقات قائم کیے۔ اب وہ شادی شدہ اور ہندوستان سے باہر ہے۔ میں ابھی آگے نہیں بڑھا۔ "
      امان (نام تبدیل ) ، 25 ، سماجی کارکن ، لکھنؤ

      ہندوؤں میں ، اس وجہ سے مختلف رشتہ داروں کے مابین جنسی تعلقات ممنوع ہیں ، والدہ کی کنبہ میں پانچواں اور والد کے خاندان میں ساتویں لائن تک شادی کی اجازت نہیں ہے۔ ، تاہم مسلمانوں میں اور جنوبی ہندوستان اور قبائلی علاقوں میں بھی بہت سی برادریوں میں پہلی کزن سے شادی کی جاسکتی ہے۔

      جنسی تعلقات کی ممانعت کی سائنسی وجوہات بھی بتائی جاتی ہے کہ قریبی جینیاتی تعلقات سے پیدا ہونے والے بچوں میں پیدائشی امراض ، معذوری اور اموات کی شرح کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ معاشرتی اور اخلاقی طور پر بھی پیدائشی خاندانی ڈھانچے کے تقدس کو بچانے کے لئے شادی شدہ جوڑے کے علاوہ خاندان کے دوسرے ارکان خاندان کے درمیان میں جنسی تعلقات ممنوع ہیں۔

      دل ہے کی مانتا نہیں

      "میں نے اپنی اعلی ٰتعلیم کے حصول کے لیے ایک بڑے شہر کا رخ کیا۔ وہ پہلے ہی یہاں کام کر ر ہے تھے۔میرے والد کے کزن تھے۔ ، لہذا خاندانی رشتے سے وہ میرے چچا تھے۔لیکن مجھ سے صرف 10 سال بڑے تھے۔ وہ ایک نئے شہر میں میرا سپورٹ سسٹم بن گئے اور اس سے پہلے کہ ہم کچھ سمجھ پاتے ہم دونوں ایک دوسرے کے بام محبت میں گرفتار ہوگئے۔وہ شادی شدہ تھے اور اس کے باوجود ہم دونوں ایک دوسرے کے قریب آگئے۔ ہم ابھی بھی ایک 'رشتہ' میں ہیں ،جبکہ میں ا بھی بھی سنگل ہوں اور اس کو 5 سال ہوچکے ہیں۔ اردھانا ، 23 ، یوگا ٹرینر ، فرید آباد

      یہاں بہت سارے لوگ موجود ہیں جنہوں نے والدین کے بارے میں تصورات بھی کیے تھے۔ زیادہ تر لوگوں نے یہ ظاہر نہیں کیا ۔اگرچہ اپنا نام ظاہر نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے کیوں کہ لوگوں میں اس طرح کے جذبات سے کو لیکر خوف اور شرم کی ایک بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ مشہور ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈ(Sigmund Freud ) نے مشورہ دیا کہ بچوں کی حیثیت سے ، ایک خاندان کےافراد فطری طور پر ایک دوسرے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ انہوں نے اس کو اوڈیپس کمپلیکس (Oedipus complex)سے تعبیر کیا ہےجس سے مراد یونانی بادشاہ اوڈیپس (Oedipus)ہے جس نے اپنی ماں سے شادی کی تھی اور اس کے بچے پیدا ہوئے تھے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس طرح کے تعلقات کو روکنے کے لئے معاشرمیں Incest taboo بنانے چاہیے

      علامتی تصویر۔(نیوز18ہندی)۔
      علامتی تصویر۔(نیوز18ہندی)۔


      بھابھی جی گھر پہ ہے؟

      کسی بھی فحش / ایروٹیکا سائٹ کو دیکھیں اور اس طرح کی جذبات کے لئے ایک الگ زمرہ ہے۔ سب سے عام آدمی "بھابھی" ہے۔ یہ ثقافتی بھی ہے۔ "بھابھی" لازمی طور پر کسی بھائی کی بیوی نہیں ہوتی بلکہ کسی کی بیوی ہوتی ہے جو پہلے سے شادی شدہ ہوتی ہے۔جس کی وجہ سے وہ دوسرے لوگوں کی طرف راغب نہیں ہوتی۔
      ہندوستان میں دو سب سے مشہور جنسی مزاحیہ، کے عنوان ہیں سویتا بھابھی اور ویلہماہے۔ ان دونوں نے شادی شدہ خواتین کو ان کے مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا ہے جو بہت سے لوگوں کی خیالی محل کی خواتین ہیں۔ کردار سوویتا بھابی کو نوجوانوں میں ایک آن لائن سروے کے بعد تخلیق کیا گیا تھا جنہوں نے اس کردار کو نئی شادی شدہ عورت ہونے کے لئے ووٹ دیا تھا۔

      بہت سے نوجوان اور مرد / خواتین ہوسکتے ہیں جنہوں نےایسے خیالی تصورات بنائے ہیں۔ شہوانی ، شہوت انگیز کہانیاں اور ویڈیوز میں مسلسل ایسے ہی موضوعات ہوتے ہیں۔ تو آپ کو یہ کیسے معلوم ہوگا کہ آپ خاندانی ممبر کے بارے میں قدرے "نامناسب" انداز میں سوچ رہے ہیں؟

      - آپ کاایک گہری شہوانی ، شہوت انگیز خواب ہے ، جاگتے ہوئے عجیب و غریب محسوس ہوتا ہے یا آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ کسی قریبی رشتہ دار یا کسی کے ساتھ کسی جنسی حرکات کے بارے میں ہے جس کی وجہ سے آپ کو کسی استاد کی طرح روک کر رکھا گیا ہے۔
      - آپ مشت زنی یا اصل جنسی سکون ، orgasm کے قریب ہوتے ہیں اور آپ کے خیالات اس شخص کے پاس بھٹکتے ہیں جو آپ کو عروج پر پہنچاتا ہے۔
      ۔آپ کو ایسا لگتاہے کہ کہ آپ اس شخص کی "تھوڑی بہت زیادہ" کی تعریف کر رہے ہیں اور جسمانی رابطے یا کم از کم خصوصی توجہ کے خواہاں ہیں۔

      پیار دیوانہ ہوتا ہے

      بالکل اسی طرح جیسے یہ پیار اور کشش کے بارے میں کہا جاتا ہے ، یہ کہنا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور کس کے ساتھ ہوتاہے سمجھنا ناممکن ہے۔ معاشرتی اصول ہمیں بعض رشتوں کو لحاظ رکھتے ہوئے جنسی تعلقات سے باز رکھتے ہیں۔ لیکن پھر آپ کی اپنی پسند ہی آپ کی پسند ہوتی ہے۔ جس کے ساتھ آپ ایسا رشتہ نہیں قائم کرسکتے ہیں۔ لیکن جو چیزیں یاد رکھنے کی ضرورت ہے ۔ وہ اس بات کی ہے کہ آپ کے تصورات پرآپ حقیقی زندگی میں عمل نہ کریں۔ ہر چیز جو ممنوع ہے اس کی اپنی ایک دلکشی ہوتی ہے۔ ہم سب ان لوگوں کی طرف راغب ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں کبھی کبھی متوجہ نہیں ہونا چاہئے اورجب تک اصول اور قواعد کی خلاف ورزی نہ ہوں تب تک سب اچھاہے۔

      مصنف: پوجا پریم وادا (Pooja Priyamvada) ریڈ وومب میں کالم نگار ہیں۔ ریڈ وومب خوشی کی تعلیم سے متعلق ایک آن لائن شرم سے پاک پلیٹ فارم ہے تاکہ لوگوں کو شرم کو بھلا دینے اور سیکس اور خوشی کے بارے میں جاننے میں مدد مل سکے۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: