ہوم » نیوز » وطن نامہ

ویلنٹائن ڈے 2020 : ہندوستان میں ہونے والے اسقاط حمل کی صورتحال کیا ہے ؟

سب سے اہم بات یہ کہ بروقت اسقاط حمل سے زندگیاں بھی بچ جاتی ہیں ۔ ہندوستان میں 21-40 فیصد حمل ، اسقاط حمل سے ختم کیا جاتا ہے ۔

  • RedWomb
  • Last Updated: Feb 13, 2020 09:31 PM IST
  • Share this:
ویلنٹائن ڈے 2020 : ہندوستان میں ہونے والے اسقاط حمل کی صورتحال کیا ہے ؟
ویلنٹائن ڈے 2020 : ہندوستان میں ہونے والے اسقاط حمل کی صورتحال کیا ہے ؟

جنسی تعلقات بنانے والے اور جنسی طور پر سرگرم لوگ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ یہ ایک پر لطف عمل ہے ۔ یہ زندگی اور محبت کو مزید بہتر بناتا ہے ۔ لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ سبھی اچھی چیزوں کے ساتھ ایک قسم کا خطرہ بھی جڑا رہتا ہے ۔ جنسی عمل ( سیکسوئل انٹرکورس ) کی صورت میں ناپسندیدہ حمل سب سے بڑا خطرہ ہے ۔ ہندوستان میں اسقاط حمل سے متعلق بہت ساری غلط فہمیاں اور غلط تصورات پائی جاتی ہیں ۔ ایک تحقیق کے مطابق 80 فیصد سے زیادہ ہندوستانی خواتین اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ ہندوستان میں اسقاط حمل کی قانونا اجازت ہے۔ اسقاط حمل محض ایک طبی طریقہ کار ہے ، جس سے ناپسندیدہ حمل کو ختم کیا جاتا ہے اور ہندوستان میں یہ عمل مکمل طور پر قانونی ہے اگر حمل کی مدت 24 ہفتوں کے اندر ہو ۔


لیکن آپ کو اس کی پرواہ کیوں کرنی چاہئے؟ زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ اسقاط حمل کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ اترپردیش کے رہنے والے 25 سالہ منیش کا کہنا ہے کہ "مجھے اسقاط حمل کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔ میرا مطلب ہے کہ میں ایک مرد ہوں اور میں حاملہ نہیں ہوسکتا ۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ موضوع کبھی میرے لئے اہم ہوگا ۔ " تاہم اسقاط حمل کے بارے میں منیش کا نظریہ 2017 میں اس وقت بدل گیا ، جب اس کی گرل فرینڈ اچانک حاملہ ہوگئی ۔ اس واقعہ نے منیش کو ایک بڑا جھٹکا دیا ۔ منیش نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے ہمیشہ احتیاطی تدابیر اختیار کیں ، مجھے نہیں معلوم کہ یہ کیسے ہوا ، ہم نے کبھی بھی کنڈوم کے بغیر تعلقات قائم نہیں کئے ۔ ہمیشہ یہ خیال رکھا کہ کنڈوم اپنی جگہ پر ہو اور وہاں سے نہیں ہٹے ۔ " ہم امید کرتے ہیں کہ منیش اور اس کے ساتھی کی طرح سبھی لوگ بیدار ہوں اور احتیاط برتیں ، لیکن آپ کتنے بھی محتاط کیوں نہ ہوں ، مانع حمل 100 فیصد محفوظ نہیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کنڈوم کے پیکٹ پر صرف 99 فیصد محفوظ ہی لکھا ہوتا ہے۔ افسوس کہ منیش اور اس کی پارٹنر اس ایک فیصد کے زمرے میں آگئے ۔


"جب اس نے مجھے بتایا کہ اس کا ایک پیریڈ مس ہوگیا ہے تو مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ میں کہاں جاوں اور کس سے بات کروں ۔ آخر میں کافی پریشان ہونے کے بعد میں ایک حمل ٹیسٹ کرنے والی کٹ لے کر آیا اور یہ سچ نکلا کہ وہ حاملہ تھی ۔ اس وقت منیش اور اس کی گرل فرینڈ کچھ بھی نہیں جانتے تھے ۔ جس ماہر امراض نسواں کے پاس پہلی مرتبہ وہ گئے ، وہ اس کو لے کر کافی ناقد تھی ۔ "شادی سے پہلے جنسی تعلقات بنانے کیلئے اس نے میری گرل فرینڈ کو کافی ڈانٹا اور کافی محتاط رہنے کے باوجود ہم دونوں کو غیر ذمہ دارانہ بتایا" ۔ اس طرح کے ایک دو تجربات کے بعد ہم ایک اور ماہر امراض نسواں کے پاس گئے اور جھوٹ بولا کہ ہم شادی شدہ ہیں ۔ ڈاکٹر اسقاط حمل کیلئے راضی ہوگیا اور یہ صحیح طریقے سے ہوا ۔


سب سے اہم بات یہ کہ بروقت اسقاط حمل سے زندگیاں بھی بچ جاتی ہیں ۔
سب سے اہم بات یہ کہ بروقت اسقاط حمل سے زندگیاں بھی بچ جاتی ہیں ۔


حالانکہ آخر کار یہ جوڑا اسقاط حمل کرانے میں کامیاب ہوگیا ، لیکن اسقاط حمل سے وابستہ درد ، خوف اور ذہنی المیہ ایک عام ہندوستانی کے لئے ایک اہم سچائی ہے ۔ ناپسندیدہ حمل کسی کو بھی ٹھہر سکتا ہے ۔ یہ صرف کچھ 'برے' اور 'غیر ذمہ دار' لوگوں کو نہیں ہوتا ۔ لوگ کسی بھی وجہ سے اسقاط حمل کرواسکتے ہیں ۔ یہ دیگر وجوہات کی بنیاد پر بھی ہوسکتا ہے جیسے بچے کی نشوونما میں نقص یا یہ حمل ماں کی جان کیلئے خطرہ ہو ، معاشی وجوہات ، ریپ اور جنسی زیادتیوں کی وجہ سے ٹھہرنے والا حمل یا صرف بچوں کی خواہش نہ ہونا ۔اسقاط حمل کی وجوہات کچھ بھی ہوں ، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اسقاط حمل ایک انسانی حق ہے۔ حمل ، جذباتی ، جسمانی اور نفسیاتی طور پر اثر انداز ہونے والا عمل ہے اور کسی کو بھی اس کیلئے بھی مجبور نہیں کیا جاسکتا ۔

سب سے اہم بات یہ کہ بروقت اسقاط حمل سے زندگیاں بھی بچ جاتی ہیں ۔ ہندوستان میں 21-40 فیصد حمل ، اسقاط حمل سے ختم کیا جاتا ہے ۔ جن ممالک میں اسقاط حمل کی قانونی طور پر اجازت نہیں ہے ، وہاں خواتین کو غیر قانونی طریقے سے اسقاط حمل کرانے پڑتے ہیں جو طبی معیارات پر پورا نہیں اترتے اور خطرناک ثابت ہوتے ہیں ۔ وہ خواتین جو اسقاط حمل کے لئے بہت پریشان ہوتی ہیں ، پیٹ میں گھونسے مارتی ہیں ، چوٹ پہنچاتی ہیں تاکہ اسقاط حمل کا آغاز ہوجائے ، اس سے صحت سے متعلق زیادہ پریشانیاں ہوجاتی ہیں جیسے داخلی خون بہاو اور بعض اوقات موت بھی ہوجاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسقاط حمل اور اسقاط حمل کے محفوظ طریقوں کے بارے میں جاننا انتہائی ضروری ہے۔

لہذا اگر آپ ، یا آپ کا کوئی قریبی اسقاط حمل کروانا چاہتا ہے تو یہ یاد رکھیں کہ لائسنس یافتہ ڈاکٹر کے ذریعہ کرایا جانے والا اسقاط حمل ہی مکمل طور پر محفوظ ہے اور ہندوستان میں مکمل طور پر قانونی بھی ہے۔ اگر آپ کی عمر 18 سال سے زیادہ ہے ، تو اسقاط حمل کے لئے آپ کو کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ ایک خوفناک عمل لگ سکتا ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک آسان طبی طریقہ ہے جو زندگی بچاتا ہے اور غیر ضروری ذہنی المیے سے بھی نجات دیتا ہے ۔ اگر آپ جنسی طور پر سرگرم ہیں اور حاملہ ہونا نہیں چاہتی ہیں تو سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آپ ہمیشہ محفوظ طریقے اختیار کریں اور اس میں کوئی کوتاہی نہ برتیں ۔ حمل روکنا آپ کا حق ہے ۔ علاوہ ازیں کتنے بھی محفوظ طریقے سے تعلقات قائم کریں ، اسقاط حمل کے بارے میں جانکاری ضرور رکھیں ۔
First published: Feb 13, 2020 06:23 PM IST