ہوم » نیوز » وطن نامہ

ویلنٹائن ڈے2020: جنسی تعلقات یاقربت کو لیکر کہیں آپ بھی تو نہیں پھنسے ایسی الجھن میں: ضرور جانیں یہ باتیں

کسی بھی طرح کا جنسی تعلقات یا قربت جس سے دوسر ے پارٹنر کو غیر مطمئن محسوس ہو اور جس میں قابو کرنے کے جذبات چھپے ہوں جیسے ڈر، دھمکی، مجبور کرنا، اکسانا یا تشدد۔ یہ جنسی تشدد کے ساتھ اور اس کے بغیر بھی ہوسکتا ہے۔ ایسا تب ہوتا ہے جب اس میں والدین کی مرضی شامل نہیں ہوتی اور شکار بن رہا شخص ڈر،شرم اور جرم کے جذبات کی وجہ سے اس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔اگر آپ نے ان میں سے کسی کا بھی سامنا کیا ہے یہ وقت ہے جب آپ اس رشتے سے باہر نکل جائیں۔

  • Share this:
ویلنٹائن ڈے2020: جنسی تعلقات یاقربت کو لیکر کہیں آپ بھی تو نہیں پھنسے ایسی الجھن میں: ضرور جانیں یہ باتیں
کسی بھی طرح کا جنسی تعلقات یا قربت جس سے دوسر ے پارٹنر کو غیر مطمئن محسوس ہو اور جس میں قابو کرنے کے جذبات چھپے ہوں جیسے ڈر، دھمکی، مجبور کرنا، اکسانا یا تشدد۔ یہ جنسی تشدد کے ساتھ اور اس کے بغیر بھی ہوسکتا ہے۔ ایسا تب ہوتا ہے جب اس میں والدین کی مرضی شامل نہیں ہوتی اور شکار بن رہا شخص ڈر،شرم اور جرم کے جذبات کی وجہ سے اس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔اگر آپ نے ان میں سے کسی کا بھی سامنا کیا ہے یہ وقت ہے جب آپ اس رشتے سے باہر نکل جائیں۔

شالنی(بدلا ہوا نام) اسکول سے پیدل ہی گھر آیا کرتی تھی۔ آس۔پاس کی سوسائٹی میں رہنے والا ارون نام کا ایک لڑکا روز گھر سے اسکول اور واپس آتے وقت اس کا پیچھا کیا کرتا تھا۔ اس کے بعد اس نے شالنی کا پیچھا اس کی ٹیشن کلاس تک کرنا بھی شروع کردیا۔ شالنی کی سہیلیوں نے ارون کو اس کا بوائے فرینڈ سمجھ کر چڑھانا بھی شروع کردیا۔ ایک دن لڑکے نے اسے ایک کارڈ دیا جس پر لکھا تھا۔ "آئی لو یو" شالنی کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ اسے لگا کہ یہ لڑکا اس کے لئے پاگل ہے، ایک ٹین ایج لڑکیکے دل کو اس سے زیادہ اور کیا چاہئے تھا۔

جیسے ہی اس نے یہ پرپوزل قبول کر لیا، ارون ہر جگہ اس کے پیچھے پیچھے جانے لگا۔ اگر شالنی اپنی کلاس کے کسی لڑکے ساے بات کرتی تو وہ بہت زیادہ ناراض ہوجاتا۔ شالنی کا فون بھی دیکھتا کہ کہیں کسی لڑکے کا کوئی میسیج تو نہیں آیا۔ شالنی کے ٹیوشن کلاس میں دیر سے پہنچنے پر اس پر چلانے بھی لگا۔ اسے لگتا کہ شالنی کسی اور لڑکے کے ساتھ وقت گزار کر آرہی ہے۔ اس کا یہ رویہ دیکھ کر شالنی کی دوست کہتیں کہ وہ کتنی قسمت والی ہے لیکن صرف شالنی ہی جانتی تھی کہ اسے اس لڑکے سے اب ڈر لگنے لگا تھا۔ شالنی کے کس رویے سے اس کا غصہ ساتویں آسمان کو چھو جائے گا یہ شالنی کو پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔ وہ اسکول میں خاموش رہنے لگی اور اسکول کی ایکٹوٹی سے بھی اپنے آپ کو دور کر لیا۔ ایک خوش مزاج لڑکی سے وہ ایک گھبرائی ہوئی لڑکی میں بدل گئی اور بات کرتے وقت ہکلانے بھی لگی۔  رات میں کبھی جاگ کر رونے لگتی جیسے اسے  خواب میں بھی ارون چلاتے ہوئے نظر آتا۔



کیا یہ ساری باتیں آپ کو جانی پہچانی سی لگتی ہیں؟ کیا آپ نے ایک ناگوار رشتے کو پیار سمجھ لیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو آگے پڑھیں۔

نوعمری میں جسم میں ہارمونز کی زیادتی ہوتی ہے جس کی وجہ سے بہت سے کافی اتھل۔پتھل والی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ الجھنیں اور زندگی انتشار کا شکار ہوتی ہے۔ جب محفوظ سیکس اور صحتمند تعلقات کی بات آتی ہے تو  نوعمر کے بچوں کو کچھ بھی نہیں معلوم ہوتا ہے۔ وہیں آج کل کا میڈیا محبت کے نام پر لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے ، ان کی بے عزتی کرنے اور انہیں ان کی جائیداد سمجھنے جیسی چیزیں دکھاتا ہے۔
دوستوں کے اثر و رسوخ میں آکر بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ بنانے کے دباؤ میں ایک نو عمر بچے کا دماغ جو پہلے سے اپنے آپ سے جڑے سوالوں میں جوجھ رہاہوتا ہے۔ ایک پارٹنر بنانے کےخیال سے متاثرہ ہوجاتا ہے۔ کچھ لڑکے یا لڑکیاں عشتوں کے ٹوٹنے کو لیکر شرم سے بچنے کیلئے بھی ایسے رشتوں میں بنے رہتے ہیں۔ والدین اور بچوں کے درمیان سمواد کم ہونے سے حالات اور بھی خراب ہوجاتے ہیں۔
آپ کیسے پہچانیں گے کہ آپ ایک ناگوار رشتے میں ہیں۔
جذباتی اور نفسیاتی طور پر توہین آمیز تعلقات کو ایک خاص قسم کے طرز عمل سے سمجھا جاسکتا ہے۔ جس میں دوسرا شخص الگ۔تھلگ پڑنے لگتا ہے اور اپنے آپ کو بیکار اور ذلیل سمجھنے لگتا ہے۔ یہ ذلیل کرنے والے شخص کا طریقہ ہے جس سے وہ رشتے میں اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ نفسیاتی تکلیف بھی اتنی ہی چوٹ پہنچانے والی ہوتی ہے جتنا کی ایک تھپڑ یا مکا۔ بس اس کے نشان کسی کو بھی نظر ںہیں آتے۔ آیئے اس کے بارے میں تفصیل سے بات کرتے ہیں۔
دھمکی
یہ ایک طرح کا رویہ ہے جس میں ایک دھمکی چھپی ہوتی اور ایک ڈھکا چھپا خطرہ بھی۔ آپ ساتھی آپ کی ہر ایکٹوٹی پر نظر رکھے ہوتا ہے۔ آپ کہاں جاتے ہیں؟ آپ فون پر کس سے باتیں کررہے ہیں؟ یہ رویہ کسی بھی شخص کے محفوظ جذبات کو نقصان پہنچاتا ہے اور اس کی فکر کو بڑھا دیتا ہے۔
کھلی دھمکی
کبھی۔کبھی یہ دھمکی چھپی ہوئی بھی نہیں ہوتی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ عاشق کو نہ کہنے والی کئی لڑکیاں تیزاب کے حملوں (acid attack) کا بھی شکار ہوئی ہیں۔ ایسے قصے کم ہی ہیں جب لڑکوں نے لڑکیوں کو رشتہ توڑنے پر خود کو نقصان پہنچانے یا خودکشی کرنے کی دھمکی دی ہو۔
بدنام کرنے کی دھمکی دینا۔
یہ بھی بے عزتی کرنے کا ایک طریقہ ہے جس کا شکار شخص خود کو پھنسا ہوا، ناپسند اور شرمندہ محسوس کرتا ہے۔ اگر تم میرے ساتھ باہر نہیں گئیں میں اپنے رشے کے بارے میں سب لوگوں کو بتا دوں گا۔ اس سے بھی زیادہ برا یہ ہوتا ہے متاثر کرنے والا شخص متاژڑہ کے فوٹو اور ویڈیو بھی لے لیتا ہے اور بلیک میل کرکے وہ سب کرنے کیلئے مجبور کردیتا ہے جس کیلئے لڑکی تیار نہیں ہوتی۔
بدتمیزی کرنا
بے عزتی کرنے والا ساتھی دوسرے ساتھی کو بدستور، موٹا، کالا اور بیوقوف بلا سکتا ہے جس پر دوسرا ساتھی یقین کرنے لگتا ہے۔ ٹین ایجرس میں اپنے آپ کو لیکر جو جذبات ایک نازک دور سے گزر رہے ہوتے ہیں اس طریقے کے بعد وہ ڈپریشن اور کھنچے۔کھنچے رہنے لگتے ہیں۔
خاموشی کا ہتھیار
رشتوں میں گالی۔گلوج کرنے والا پارٹنر چپی کو بھی ہتھیار بناکر دوسرے پارٹنر کو سزا دینے لگتاہے۔ وہ تب تک شکار بننے والے پارٹنر کو نظرانداز کرتے ہیں جب تک وہ ان کی خواہشات کے آگے گھٹنے ٹیک دیتا۔ ایسے میں بھی بدتمیزی کرنے والے پارٹنر ہوتے ہیں جو پبلک میں دوسرے پارٹنر کی موجودگی کو توجہ نہیں دیتے مگر اکیلے میں ان کےساتھ رشتی ظاہر کرتے ہیں۔
مسلسل تنقید
تم یہ نہیں پہن سکتیں یا تم ان دوستوں کے ساتھ نہیں گھوم سکتیں یا تم وہاں نہیں جا سکتیں یہ کچھ ایسے واقعے ہیں جو کہ ایک ابیوز کے شکار لوگوں کے جذبات اور عزت نفس کو کم کرنے کگتے ہیں۔ انہیں یہ لگنے لگتا ہے کہ وہ معاشرے میں وہ قابل قبول نہیں ہیں اور اپنے بارے میں برا محسوس کرنے لگتے ہیں۔
جنسی طور پر ہراساں کرنا
کسی بھی طرح کا جنسی تعلقات یا قربت جس سے دوسر ے پارٹنر کو غیر مطمئن محسوس ہو اور جس میں قابو کرنے کے جذبات چھپے ہوں جیسے ڈر، دھمکی، مجبور کرنا، اکسانا یا تشدد۔ یہ جنسی تشدد کے ساتھ اور اس کے بغیر بھی ہوسکتا ہے۔ ایسا تب ہوتا ہے جب اس میں والدین کی مرضی شامل نہیں ہوتی اور شکار بن رہا شخص ڈر،شرم اور جرم کے جذبات کی وجہ سے اس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔
اس کا شکار لڑکا اور لڑکی دونوں بن سکتے ہیں۔ وہ ٹین ایجر جو ہم جنس پرست تعلقات میں ہیں یا نو عمری کے بڑ ےبچے زیادہ تر ان معاملوں کے شکار بغیر کنڈوم کے جنسی تعلقات بنانے کیلئے مجبور کئے جاتے ہیں۔ مجرم زیادہ تر اترنگ ساتھی ہی ہوتے ہیں۔ ریپ، اورل سیکس، اور غلط طریقے سے چھونا یہ سبھی جنسی ہراساں کے زمرے میں آتے ہیں۔
اگر آپ نے ان میں سے کسی کا بھی سامنا کیا ہے یہ وقت ہے جب آپ اس رشتے سے باہر نکل جائیں۔ یہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا لیکن کسی ایسے شخص سے بات ضرور کریں جس پر آپ یقین کرتے ہوں۔ کوئی سوست، بھائی بہن یا کوئی ایسا بالغ جو قابل یقین ہو۔ اور ہمیشہ یاد رکھیں اس میں آپ کی کوئی غلطی نہیں ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Feb 07, 2020 03:29 PM IST