உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Opinion | کسان آندولن میں موبائل ٹاوروں کا توڑا جانا اور چین کا 5G پلان

    Opinion | کسان آندولن میں موبائل ٹاوروں کا توڑا جانا اور چین کا 5G پلان

    Opinion | کسان آندولن میں موبائل ٹاوروں کا توڑا جانا اور چین کا 5G پلان

    کورونا وائرس بحران (Coronavirus Pandemic) کے وقت میں آن لائن کیش ٹرانزکشن (Online transactions) میں بھی بڑی تیزی دیکھنے کو ملی ہے ۔ خواہ وہ کوئی سامان خریدنا ہوا یا پھر سروسیز حاصل کرنا ہوا ۔

    • Share this:
      کلبیر کرشنن

      سال 2020 پر کورونا وائرس کا قہر حاوی رہا اور اس کے پیش نظر روزہ مرہ کی زندگی پر بڑا اثر دیکھنے کو ملا ۔ اس بحران کے دوران ٹیلی کام خدمات کروڑوں لوگوں کے لئے لائف لائن بن کر ابھری ہیں ۔ طلبہ کی آن لائن کلاسیز ، پروفیشنل لوگوں کیلئے گھر سے کام کرنا ، طبی خدمات کیلئے آن لائن مشورہ حاصل کرنا ، یہ سب ایسے کام ہیں ، جن کیلئے ٹیلی کام سروسیز کا رول انتہائی اہم ہوجاتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی آن لائن کیش ٹرانزکشن میں بھی بڑی تیزی دیکھنے کو ملی ہے ۔ خواہ وہ کوئی سامان خریدنا ہوا یا پھر سروسیز حاصل کرنا ہوا ۔

      کئی سارے اسٹریٹجک تجزیہ  کاروں کے مطابق چین نے پوری دنیا کو ڈیجیٹل گھیرے میں قید کرنے کیلئے کئی سارے ممالک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے ۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے بولٹ اینڈ روڈ پہل کے تحت ڈریگن فیزیکلی اپنا دبدبہ دکھانا چاہتا ہے ۔ چین کے فائیو جی نیٹ ورک کا مقصد ورچوئل ورلڈ میں اپنی گرفت مضبوط بنانا ہے اور ہواویئی اور زیڈ ٹی ای جیسی چینی کمپنیاں فائیو جی انفراسٹرکچر تیار کررہی ہیں ، جو کہ انٹرنیٹ کیلئے کافی کارگر چیز ہے اور فائیو جی تکنیک کے ذریعہ شخصی ، گروپ یا کسی ملک کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کے ساتھ اس کو قابو کیا جاسکتا ہے ۔

      فائیو جی تکنیک کی خاصیت یہ ہے کہ فورجی ڈیٹا کی اسپیڈ کے مقابلہ میں یہ 100 گنا زیادہ تیزی سے چلتا ہے ۔ آٹونامس کار ، اسمارٹ سٹی اور دیگر آلات کے ساتھ نئے انڈسٹریل انٹرنیٹ کیلئے یہ ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگی ۔ چین کی کوشش اس نئی تکنیک کے شعبہ میں لیڈر بننے کی ہے تاکہ اقتصادی توانائی کے ساتھ آرٹیفیشیل انٹلی جینس جیسی ابھرتی جادوئی تکنیک کے معاملہ میں امریکہ کو سخت ٹکر دی جاسکے ۔

      اس سال کی شروعات میں چین نے فائیو جی تکنیک لانچ کردی تھی اور اندازہ کے مطابق پورے چین میں 7,18,000  اسٹیشن ہیں ، جو فائیو جی تکنیک کے سگنل 17 کروڑ ڈیوائس کیلئے ٹرانسمٹ کرتے ہیں ۔ عالمی سطح پر لیڈر بننے کیلئے چین نے اس اہم تکنیک کے شعبہ میں 1.4 ٹریلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے ۔ اس منصوبہ کو صدر شی جن پنگ کی حمایت حاصل ہے ۔ اس منصوبہ کے تحت پورے چین میں فائیو جی نیٹ ورک کا جال بچھایا جارہا ہے ، کیمرے اور سینسر لگائے جارہے ہیں اور 2025 تک آرٹیفیشیل انٹلی جنس سافٹ ویئر کے ڈیولپ کیلئے مہم چلائی جارہی ہے ۔ چین کا منصوبہ وقت پر پورا ہوتا ہے تو اس سے آٹومیٹڈ فیکٹریز اور جامع نگرانی مہم کو رفتار ملے گی ۔ منصوبہ کے اگلے حصہ کے طور پر چین نے 28 دسمبر کو اعلان کیا کہ اگلے سال تک ڈریگن چھ لاکھ اضافہ بیس اسٹیشن تیار کرے گا ۔

      ورچوئل دنیا میں دبدبہ بنانے کے چین کے منصوبہ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ہواویئی جیسی چینی کمپنیاں جنوبی ایشیا اور یوروپ میں فائیو جی نیٹ ورک دستیاب کرائے گی ۔ بہر حال صدر شی کے منصوبہ کو ہندوستان کے ریلائنس جیو سے بڑا چیلنج ملنے والا ہے ۔ ریلائنس جیو کے چیئرمین مکیش امبانی نے اس سال اکتوبر میں اعلان کیا تھا کہ جیو 2021 کے وسط میں دیسی فائیو جی تکنیک لانچ کرے گا ، جب اس کو اضافی اسپیکٹرم مل جائے گا ۔

      اکتوبر میں ریلائنس نے امریکی کمپنی کوالکام کے ساتھ مل کر فائیو جی تکنیک کا ٹرائل شروع کردیا ہے اور کمپنی کا دعوی ہے کہ اس نے ایک گیگا بائٹ فی سکینڈ کی اسپیڈ حاصل ہے ۔ جیو کا پلان گوگل کے ساتھ مل کر فائیو جی تکنیک والے فون لانچ کرنے کا ہے ۔ اگراس کو کامیابی ملتی ہے تو ہندوستانی بازار پر راج کررہی شیومی اور ویوو جیسی چینی کمپنیوں کو کرار جھٹکا لگے گا ۔ حکومت ہند نے دسمبر 2020 میں اعلان کیا تھا کہ مارچ 2020 میں اسپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی اور یہیں سے چین کی خواہشات کو سنگین چیلنج ملنا شروع ہوجاتا ہے ۔

      گزشتہ پانچ ہفتوں سے دہلی سرحد پر عوامی حمایت کے بغیر کسانوں کا آندولن چل رہا ہے ۔ اس مظاہرہ کو ہریانہ اور پنجاب کے کسانوں کے ساتھ کانگریس ، عام آدمی پارٹی ، اکالی دل ، کمیونسٹ پارٹیوں اور پرتشدد لیفٹ تنظیموں کی حمایت حاصل ہے ۔ شروعات میں پنجاب میں کسانوں نے ریاست میں ریلوے ٹریک کو یرغمال بنالیا ، لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ پٹریوں پر دھرنا دینے سے پنجاب کی معیشت پر اثر پڑرہا ہے ، پنجاب کے وزیر اعلی امریندر سنگھ نے انہیں اپنا احتجاج دہلی بارڈر پر لے جانے کیلئے انسپائر کیا ۔

      اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ کسانوں کے پاس مظاہرہ کرنے کا آئینی حق ہے ، لیکن انہیں سڑکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو جام کرنے کا بالکل بھی حق نہیں ہے ۔ ایسوچیم کے مطابق کسان آندولن کی وجہ سے ہر دن 3500 کروڑ کا نقصان ہورہا ہے ۔ ساتھ ہی دہلی ، پنجاب ، ہریانہ ، ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر کی معیشت کو بھی کافی نقصان ہورہا ہے ۔ مظاہرہ کی جگہ پر کسانوں کیلئے ہر سہولیات کے انتظام نے کئی لوگوں کے کان کھڑے کردئے ہیں اور لوگوں نے مظاہرہ کیلئے مل رہی فنڈنگ پر بھی سوالات کھڑے کئے ہیں ۔ یہ مسلسل دعوی کیا جارہا ہے کہ کئی ساری کسان تنظیموں کو این آر آئی اور کناڈا ، برطانیہ اور یگر ممالک میں واقع سکھ تنظیموں سے پیسے مل رہے ہیں ۔

      ( یہ مضمون انگریزی میں ہے ۔ اس کو یہاں کلک کرکے پورا پڑھا جاسکتا ہے ۔ )

      ڈسکلیمر : مضمون نگار ایس ایس بی کے سابق ڈائریکٹر جرل آف پولیس اور آئی جی ( آپریشن اینڈ انٹلی جنس ) ہیں ۔ یہ ان کے ذاتی خیالات ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: