ڈی یو اسٹوڈینٹ کا سنگین الزام ، پولیس نے تھانہ میں عریاں کرکے کی پٹائی ، پرائیویٹ پارٹ میں ڈالا پائپ

دہلی یونیورسی کے ایک طالب علم نے پولیس پر تھانہ میں عریاں کرکے پٹائی کئے جانے اور پرائیویٹ پارٹ میں پائپ ڈالنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے ۔ اس واقعہ سے پولیس انتظامیہ میں افرا تفری مچ گئی ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ ملزم طالب علم کی جس تھانہ میں پٹائی کی گئی تھی ، اس نے اسی تھانہ میں

Sep 02, 2019 02:03 PM IST | Updated on: Sep 02, 2019 02:04 PM IST
ڈی یو اسٹوڈینٹ کا سنگین الزام ، پولیس نے تھانہ میں عریاں کرکے کی پٹائی ، پرائیویٹ پارٹ میں ڈالا پائپ

علامتی تصویر

ملک کی راجدھانی نئی دہلی میں ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے ۔ دہلی یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے پولیس پر تھانہ میں عریاں کرکے پٹائی کئے جانے اور پرائیویٹ پارٹ میں پائپ ڈالنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے ۔ اس واقعہ سے پولیس انتظامیہ میں افرا تفری مچ گئی ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ ملزم طالب علم کی جس تھانہ میں پٹائی کی گئی تھی ، اس نے اسی تھانہ میں تھانہ انچارج سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کے خلاف معاملہ درج کرایا ہے ۔

اطلاعات کے مطابق یہ سنسنی خیز معاملہ دہلی کے آدرش نگر تھانہ میں پیش آیا ۔ متاثرہ طالب علم کی مانیں تو اسی تھانہ میں عریاں کرکے اس کی پٹائی کی گئی اور اس کے بعد اس کے پرائیویٹ پارٹ میں پلاسٹک کی پائپ ڈال دی گئی ۔ متاثرہ طالب علم نے پولیس کی اس بربریت کے خلاف آدرش نگر تھانہ انچارج سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کے خلاف اسی تھانہ میں معاملہ درج کرایا ہے ۔ ضلع پولیس ڈپٹی کمشنر نے معاملہ کی جانچ ایس پی کو سونپ دی ہے۔

Loading...

پولیس کے مطابق متاثرہ طالب علم دہلی یونیورسٹی میں قانون کی پڑھائی کررہا ہے ۔ وہ فی الحال تھرڈ ائیر کا طالب علم ہے ۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ 25 اگست کو حولدار موہن لال اور سپاہی ستیندر نے سایا موٹرس لال باغ کے پاس طالب علم کے بھتیجے سمیت تین لوگوں کو زبردستی وصولی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ وہ بھتیجے کی پیروی کرنے کیلئے آدرش نگر تھانہ پہنچا تو تھانہ انچارج اور پانچ دیگر پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر اس کو ہی یرغمال بنالیا ۔ طالب علم کا الزام ہے کہ اس کے بعد پولیس اہلکاروں نے عریاں کرکے اس کی پٹائی کی اور پرائیویٹ پارٹ میں پلاسٹک کی پائپ ڈال دی ۔

امر اجالا کے مطابق پولیس نے اس کو سنگین الزامات میں بند کرنے کی دھمکی بھی دی ۔ اس سے کاغذات پر پوچھ تاچھ کیلئے بلائے جانے کی بات لکھوائی گئی ۔ وہیں تھانہ سے چھوٹنے کے بعد متاثرہ نے اپنا علاج کروایا اور پھر گھر واپس گیا اور پورے معاملہ کی جانکاری اہل خانہ کو دی ۔

Loading...