உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

     گیان واپی معاملہ: مسجد کی سروے رپورٹ کا ویڈیو لیک، ہندو فریق نےکہا- ہمارے لفافے ابھی تک سیل بند پھر...

    ہندو فریق نے سیل بند لفافے دکھاتے ہوئے کہا کہ سروے رپورٹ لیک ہونے کے معاملے کو منگل کو عدالت لے کر جائیں گے۔ عدالت ہی ویڈیو لیک کرنے والے کی ذمہ داری طے کرے گا۔

    ہندو فریق نے سیل بند لفافے دکھاتے ہوئے کہا کہ سروے رپورٹ لیک ہونے کے معاملے کو منگل کو عدالت لے کر جائیں گے۔ عدالت ہی ویڈیو لیک کرنے والے کی ذمہ داری طے کرے گا۔

    ہندو فریق نے سیل بند لفافے دکھاتے ہوئے کہا کہ سروے رپورٹ لیک ہونے کے معاملے کو منگل کو عدالت لے کر جائیں گے۔ عدالت ہی ویڈیو لیک کرنے والے کی ذمہ داری طے کرے گا۔

    • Share this:
      وارانسی: گیان واپسی مسجد معاملے میں تنازعہ گہراتا جا رہا ہے۔ اب سروے رپورٹ کا ویڈیو لیک ہونے کے معاملے نے طول پکڑ لیا ہے۔ سروے رپورٹ کا ویڈیو کورٹ میں سماعت مکمل ہونے کے کچھ دیر بعد ہی لیک ہوگیا اور ٹی وی پر چلنے لگا، جس کے بعد اب ہندو فریق کے وکیل ہری شنکر جین نے کہا کہ ہم لوگوں نے ابھی تک سروے رپورٹ کو کھولا بھی نہیں ہے اور یہ ٹی وی پر چلنے لگی ہے۔ ہمارے پاس سروے رپورٹ کے لفافے سیل بند رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس کے ساتھ ہی سیل بند لفافے بھی دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیو کہاں سے لیک کیا گیا ہے، یہ پتہ لگانا ہے۔

      اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ویڈیو لیک ہونے کے معاملے میں منگل کو عدالت میں شکایت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کو ویڈیو لیک کرنے والے کی ذمہ داری طے کرنی ہوگی۔

      وہیں اس سے پہلے پیر کو سماعت کے بعد اگلی تاریخ 4 جولائی دی گئی ہے۔ یکم جون سے عدالتوں میں گرمی کی چھٹیوں کے سبب یہ تاریخ دی گئی ہے۔ سماعت کے دوران ہندو فریق اور مسلم فریق کے درمیان عدالت میں جم کر بحث ہوئی تھی۔ اس دوران مسلم فریق نے اپنی دلیلیں رکھیں۔ مسلم فریق نے بحث کے دوران کہا تھا کہ ماں شرنگار گوری سے متعلقہ معاملہ سماعت کے لائق نہیں ہے۔ مسلم فریق کے وکیل ابھے یادو نے اس دوران دلیلیں پیش کیں اور کافی دیر تک عدالت میں دونوں فریق کے درمیان تیز بحث ہوئی۔
      سماعت کے دوران ناراض ہوئے جج

      اس دوران کئی بار دونوں فریق میں تلخ بحث ہوئی اور آواز کورٹ کے باہر تک سنائی دی۔ اس دوران شروعات میں ضلع جج نے دونوں ہی فریق کو خاموش رہنے کی اپیل کی۔ تاہم معاملہ بڑھتا گیا اور دونوں فریق کی آواز تیز ہوتی گئی۔ اس کے بعد جج ناراض ہوگئے اور دونوں فریق کو تیز آواز میں بات نہ کرنے کے لئے کہا، جس کے بعد عدالت میں آواز کم ہوئی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: