உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گیان واپی مسجد تنازعہ: الہ آباد ہائی کورٹ میں آج پوری نہیں ہوسکی سماعت، جانئے وجہ

    گیان واپی مسجد تنازعہ: الہ آباد ہائی کورٹ میں آج پوری نہیں ہوسکی سماعت

    گیان واپی مسجد تنازعہ: الہ آباد ہائی کورٹ میں آج پوری نہیں ہوسکی سماعت

    Gyanvapi Masjid Dispute: گیان واپی مسجد تنازعہ معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ میں آج سماعت مکمل نہیں ہوسکی۔ اب اس معاملے کی سماعت 20 مئی کو دوپہر 12 بجے سے شروع ہوگی۔ وہیں، ہندو فریق نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ وارانسی میں سروے کے دوران عدالت کمیشن کو مسجد کے تالاب سے بڑے سائز کا شیولنگ ملا ہے۔ اسی بنیاد پر اے ایس آئی سے کھدائی کراکر سروے کرانے کا حکم جاری کیا جائے۔

    • Share this:
      پریاگ راج/وارانسی: گیان واپی مسجد تنازعہ معاملے میں آج الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت پوری نہیں ہوسکی۔ اس کے ساتھ عدالت نے اب اس معاملے کی سماعت کے لئے آئندہ تاریخ 20 مئی طے کی ہے۔ جبکہ سماعت دوپہر 12 بجے سے شروع ہوگی۔ وہیں، پیر کے روز ہوئی سماعت میں سوئمبھو بھگوان وشیشور یعنی ہندو فریق نے دلیلیں پیش کی۔

      اس دوران ہندو فریق کی طرف سے عدالت کو یہ جانکاری دی گئی کہ وارانسی میں سروے کے دوران عدالت کمیشن کو مسجد کے تالاب سے بڑے سائز کا شیولنگ ملا ہے۔ اسی بنیاد پر اے ایس آئی سے کھدائی کراکر سروے کرانے کے احکامات جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ گیان واپسی مسجد تنازعہ کی سماعت الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس پرکاش پاڈیا کی سنگل بینچ میں ہوئی ہے۔

      گیان واپی تنازعہ کو لے کر ہائی کورٹ میں آج کی سماعت میں ہندو فریق کی بحث پوری نہیں ہوسکی ہے۔ وہیں، گیان واپی مسجد کی انتظامیہ کمیٹی نے اس معاملے کی سپریم کورٹ میں کل ہونے والی سماعت کا حوالہ دے کر الہ آباد ہائی کورٹ سے آج سماعت نہیں کئے جانے کی اپیل کی تھی۔ حالانکہ عدالت نے انتظامیہ کمیٹی کی یہ اپیل منظور نہیں کی اور پیر کے روز تقریباً ایک گھنٹے تک ہوئی سماعت کا دور چلا۔ اس دوران سوئمبھو بھگوان وشیشور وراجمان کی طرف سے تمام دلیلیں پیش کی گئیں۔

      20 مئی سے پہلے ہندو فریق کی سماعت ہوگی مکمل

      الہ آباد ہائی کورٹ نے گیان واپی مسجد تنازعہ کی سماعت کی آئندہ تاریخ 20 مئی طے کی ہے۔ اس دوران دوپہر 12 بجے سے شروع ہونے والی سماعت میں سب سے پہلے ہندو فریق اپنی بچی ہوئی بحث پوری کرے گا۔ اس کے بعد دونوں مسلم فریق اپنے دلائل پیش کریں گے۔ گیان واپی مسجد کی انتظامیہ کمیٹی اور یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ اس معاملے مین مسلم فریق ہیں۔ اسی دن وقت ہونے پر یوپی حکومت کا موقف بھی رکھا جائے گا۔

      یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ کے انجینئر پنیت کمار گپتا نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ سماعت پر سبھی فریق کی بحث پوری ہوجائے گی اور عدالت فیصلہ محفوظ کرسکتی ہے۔ پنیت کمار گپتا کے مطابق، اس معاملے میں انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی اور سنی سینٹرل وقف بورڈ کی طرف سے کئی عرضیاں داخل ہیں۔ دو عرضیوں میں وارانسی ضلع عدالت میں سال 1991 میں داخل سوٹ کی برقراری کو چیلنج دیا گیا ہے۔ ان عرضیوں میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ 1991 کے پلیسیز آف ورشپ ایکٹ کے تحت یہ عرضیاں نہیں داخل ہوسکتی ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس ایکٹ کے تحت یہ عرضیاں نہیں داخل ہوسکتی ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس ایکٹ کے تحت ایودھیا کو چھوڑ کر کسی بھی دوسرے مذہبی مقام کی نوعیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی مذہبی مقام کی جو نوعیت ملک کی آزادی کے وقت 15 اگست 1947 کو تھا وہ برقرار رہے گا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: