உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Gyanvapi Case: سناتن سنگھ نے وکیل ہری شنکر جین اور وشنو جین کو کیس کی پیروی کرنے سے ہٹایا

    گیان واپی مسجد معاملے میں قانونی مدد دے رہی تنظیم وشو ویدک سناتن سنگھ کے صدر جتیندر سنگھ بسین نے بتایا کہ ایڈوکیٹ ہری شنکر جین اور ان کے بیٹے وشنو جین کو گیان واپی معاملے کی پیروی سے ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

    گیان واپی مسجد معاملے میں قانونی مدد دے رہی تنظیم وشو ویدک سناتن سنگھ کے صدر جتیندر سنگھ بسین نے بتایا کہ ایڈوکیٹ ہری شنکر جین اور ان کے بیٹے وشنو جین کو گیان واپی معاملے کی پیروی سے ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

    گیان واپی مسجد معاملے میں قانونی مدد دے رہی تنظیم وشو ویدک سناتن سنگھ کے صدر جتیندر سنگھ بسین نے بتایا کہ ایڈوکیٹ ہری شنکر جین اور ان کے بیٹے وشنو جین کو گیان واپی معاملے کی پیروی سے ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

    • Share this:
      وارانسی: گیان واپی مسجد اور شرنگار گوری مندر تنازعہ کو لے کر چل رہے مقدمے میں ہندو فریق کے وکیلوں ہری شنکر جین اور وشنو جین کو مقدمے کی پیروی سے ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ گیان واپی مسجد معاملے میں قانونی مدد دے رہی تنظیم وشو ویدک سناتن سنگھ کے صدر جتیندر سنگھ بسین نے بتایا کہ ایڈوکیٹ ہری شنکر جین اور ان کے بیٹے وشنو جین کو گیان واپی معاملے کی پیروی سے ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

      بسین نے کہا، ’ہم نے ضلع عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک کے اپنے سبھی مقدموں کی پیروی سے ہری شنکر جین اور وشنو جین کو ہٹانے کا فیصلہ لیا ہے۔ ہم عدالت کی اگلی سماعت پر ان کے وکالت نامے کو منسوخ کرنے کی عرضی دیں گے‘۔ انہوں نے بتایا، ’میں ہری شنکر جین کی صدارت میں چل رہی ہند سامراجیہ پارٹی میں قومی کنوینر اور قومی جنرل سکریٹری کے عہدے پر تھا، جس سے میں نے استعفیٰ دے دیا ہے‘۔

      واضح رہے کہ ایڈوکیٹ ہری شنکر جین اور ان کے بیٹے وشنو جین گیان واپی شرنگار گوری معاملے کی پیروی کر رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی والد اور بیٹے کی جوڑی ہندووں سے جڑے کئی مقدموں کی پیروی کر رہی ہے۔

      وشنو جین نے اس معاملے کو لے کر سوال کئے جانے پر کہا، ’گیان واپی شرنگار گوری معاملے میں پانچ خواتین مدعی ہیں۔ ان مین سے ایک مدعی اور جتیندر سنگھ بسین کی بھتیجی ریکھا سنگھ کے ذریعہ پیروی سے ہٹانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ باقی مدعی چار خواتین کی طرف سے ہم لوگ اس مقدمے کی پیروی کریں گے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: