ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کاشی وشو ناتھ مندر-مسجد تنازعہ پر فیصلہ دینے والے جج کا تبادلہ، بھیجے گئے شاہجہانپور

جج کے اس فیصلے سے جہاں ہندو مذاہب میں خوشی کی لہر تھی۔ وہیں مسلم فریق نے اسے اوپری عدالت میں چیلنج دینے کی بات کہی ہے۔

  • Share this:
کاشی وشو ناتھ مندر-مسجد تنازعہ پر فیصلہ دینے والے جج کا تبادلہ، بھیجے گئے شاہجہانپور
کاشی وشو ناتھ مندر-مسجد تنازعہ پر فیصلہ دینے والے جج کا تبادلہ

وارنسی: کاشی وشو ناتھ (Kashi Vishwanath Temple) احاطے میں واقع گیان واپی مسجد (Gyanvapi Mosque) تنازعہ معاملے میں آثار قدیمہ کے سروے کا حکم دینے والے جج کا وارنسی سے تبادلہ ہوگیا ہے۔ وارانسی میں سول جج، سینئر ڈویژن (فاسٹ ٹریک کورٹ) کے عہدے پر تعینات آشوتوش تیواری کا وارنسی سے شاہجہانپور ٹرانسفرکردیا گیا ہے۔ جج آشوتوش تیواری کی عدالت نے ہی مندر - مسجد احاطے میں ہندوستانی آثار قدیمہ کا سروے کرنے کا حکم 8 اپریل کو دیا تھا۔ 9 اپریل کو ہی ان کا تبادلہ شاہجہانپور کے لئے کر دیا گیا۔


واضح رہے کہ جج آشوتوش تیواری شاہجہانپور میں ایڈیشنل سول جج، سینئر ڈویژن/ ایڈیشینل چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کے عہدے پر تعینات کئے گئے ہیں۔ آشوتوش تیواری کی جگہ مہندر کمار پانڈے کو تعینات کیا گیا ہے، جو ابھی تک باندہ میں تعینات تھے۔ دراصل مندر - مسجد احاطے میں سروے کرائے جانے کا معاملہ سال 2019 سے چل رہا تھا۔ وکیل وجے شنکر رستوگی نے پورے گیان واپی احاطے کا سروے کرانے کی عرضی دائر کی تھی۔


اس پر سماعت کرتے ہوئے جج آشوتوش تیواری نے 8 اپریل کو اے ایس آئی کے ذریعہ سروے کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ محکمہ آثار قدیمہ پانچ ممبروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے اور پورے احاطے کی کھدائی کرکے یہ پتہ لگائے کہ گیان واپی مسجد کی زمین کے نیچے مندر کے باقیات تو نہیں۔


الہ آباد ہائی کورٹ نے کئے ججوں کے تبادلے

جج کے اس فیصلے سے جہاں ہندو مذاہب میں خوشی کی لہر پھیل گئی تھی۔ وہیں مسلم فریق نے اسے اوپری عدالت میں چیلنج دینے کی بات کہی ہے۔ اس سے پہلے ایودھیا میں بن رہے رام مندر احاطے کا بھی اے ایس آئی نے سروے کیا تھا۔ حالانکہ آشوتوش تیواری اکلوتے جج نہیں ہیں، جن کا تبادلہ کیا گیا ہے۔ بڑی تعداد میں الہ آباد ہائی کورٹ نے ججوں کے تبادلے کئے ہیں۔ آشوتوش تیواری ان میں سے ایک ہیں۔ ہائی کورٹ ہرسال ججوں کے ٹرانسفر کرتا ہے۔ اسی ضمن میں بڑے پیمانے پر ججوں کے ٹرانسفر کئے گئے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Apr 12, 2021 06:29 PM IST