உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Uttarakhand Accident: شادی سے واپس لوٹ رہی گاڑی کھائی میں گرگئی، 13 افراد جاں بحق، ڈرائیور سمیت دو کی حالت نازک

    ککنئی کے رہنے والے لکشمن سنگھ کے بیٹے منوج سنگھ کی شادی میں شامل ہونے سبھی باراتی گئے تھے۔ زیادہ تر ہلاک ہونے والے افراد لکشمن سنگھ کے خاص رشتہ دار بتائے جا رہے ہیں۔ وہیں ڈرائیور کی حالت سنگین ہے۔

    ککنئی کے رہنے والے لکشمن سنگھ کے بیٹے منوج سنگھ کی شادی میں شامل ہونے سبھی باراتی گئے تھے۔ زیادہ تر ہلاک ہونے والے افراد لکشمن سنگھ کے خاص رشتہ دار بتائے جا رہے ہیں۔ وہیں ڈرائیور کی حالت سنگین ہے۔

    ککنئی کے رہنے والے لکشمن سنگھ کے بیٹے منوج سنگھ کی شادی میں شامل ہونے سبھی باراتی گئے تھے۔ زیادہ تر ہلاک ہونے والے افراد لکشمن سنگھ کے خاص رشتہ دار بتائے جا رہے ہیں۔ وہیں ڈرائیور کی حالت سنگین ہے۔

    • Share this:
      اتراکھنڈ کے چمپاوت میں پیر کی شب ایک خطرناک حادثہ (Road Accident) ہوا۔ ٹنک پور- چمپاوت ہائی وے سے جڑی سوکھی ڈھانگ- ڈانڈا مینار روڈ پر رات کو ایک بارات سے لوٹ رہی گاڑی کھائی میں گر گئی۔ اس حادثے میں 13 باراتیوں کی موت ہوگئی۔ حادثے کی اطلاع کے بعد پولیس اور ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ 13 لاش کو کھائی سے باہر نکالا گیا ہے۔ حادثہ میں شدید طور پر زخمی دو لوگوں کو علاج کے لئے اسپتال لایا گیا ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق، گاڑی میں 16 لوگ سوار تھے، جس میں سے 13 افراد کی موت ہوگئی ہے۔

      شدید طور پر زخمی ڈرائیور اور دیگر دو افراد کو علاج کے لئے ضلع اسپتال لایا گیا ہے۔ ابھی تک ملنے والی اطلاع کے مطابق، گاڑی میں سوار سبھی لوگ ٹنک پور کے پنچمکھی دھرمشالہ میں ہوئی شادی میں شامل ہوکر گھر لوٹ رہے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ رات تین بجکر 20 منٹ کے آس پاس گاڑی بے قابو ہوکر گہری کھائی میں گرگئی۔

      پولیس معاملے میں کر رہی ہے جانچ

      ککنئی کے رہنے والے لکشمن سنگھ کے بیٹے منوج سنگھ کی شادی میں شامل ہونے سبھی باراتی گئے تھے۔ ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد لکشمن سنگھ کے ہی رشتہ دار بتائے جا رہے ہیں۔ وہیں ڈرائیور کی حالت زیادہ سنگین ہے، جتنے بھی لوگ حادثے میں مرے ہیں، وہ سبھی ککنئی کے ڈانڈا اور کٹھوتی گاوں کے ہیں۔ حادثہ کی وجہ کا ابھی تک پتہ نہیں چل پایا ہے، لیکن ایسا کہا جا رہا ہے کہ صلاحیت سے زیادہ سواری ہونے کے سبب یہ حادثہ پیش آیا ہے۔ حالانکہ پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: