ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شرپسند عناصر کی بے حسی، مغل دور کی اس گمنام مسجد تک پہنچنا ہوگیا بہت مشکل

مغل دور حکومت میں تعمیر ہونے والی ’مسجد وقف دریا آباد’ کے ارد گرد بسنے والے نئی آبادی نے اپنے مکانات بنا ئے اور مسجد میں آنے جانے کے لئے کوئی راستہ تک نہیں چھوڑا۔

  • Share this:
شرپسند عناصر کی بے حسی، مغل دور کی اس گمنام مسجد تک پہنچنا ہوگیا بہت مشکل
مغل دور کی اس گمنام مسجد تک پہنچنا ہوگیا بہت مشکل

الہ آباد: مغل دور حکومت میں الہ آباد کو کئی صدیوں تک صوبے کی حیثیت حاصل تھی۔ الہ آباد اور اس کے قرب و جوار میں آج بھی  مغل دور کے آثار قدیمہ دور دور تک بکھرے نظر آتے ہیں۔ ان میں کئی تاریخی عمارتیں ایسی ہیں، جو محکمہ آثار قدیمہ کی زیر نگرانی ہیں، لیکن  مغل دور حکومت میں تعمیر ہونے والی ایسی کئی مساجد اور مقبرے ہیں جن پر شر پسند عناصر کا غیر قانونی قبضہ ہو چکا ہے۔ انہیں تاریخی عمارتوں  میں مغل دور حکومت میں تعمیر ہونے والی ’’مسجد وقف دریا آباد ‘‘ ہے۔ یہ مسجد الہ آباد کے  تاریخی محلے دریا آباد میں  واقع ہے۔


آزادی سے پہلے دریا آباد کا یہ علاقہ مسلم اکثریتی علاقہ ہوا کرتا تھا، لیکن  ملک کی تقسیم کے بعد یہاں سے بڑی تعداد میں مسلمانوں نے پاکستان ہجرت کی تھی۔ علاقے سے مسلمانوں کے چلے جانے کے بعد اس مسجد میں نمازیوں کی تعداد بہت کم رہ گئی۔ علاقے میں بسنے والی نئی آبادی نے مسجد کے ارد گرد وسیع  آراضی پر غیر قانونی طور سے قبضہ جما لیا اور ان پر اپنے مکانات تعمیرکرلئے۔


یہ مسجد الہ آباد کے تاریخی محلے دریا آباد میں واقع ہے۔
یہ مسجد الہ آباد کے تاریخی محلے دریا آباد میں واقع ہے۔


قابل ذکر بات یہ ہے کہ مسجد کے ایک حصے کی زمین پر مقامی بلدیہ نے بچوں کے کھیلنے کا پارک بنا لیا۔مسجد کے ارد گرد بسنے والے نئی آبادی نے اپنے مکانات بنا ئے اور مسجد میں آنے جانے  کے لئے کوئی  راستہ  تک نہیں چھوڑا۔ 70 کی دہائی میں مسجد کی چھت زمین بوس ہو گئی، جس کی وجہ سے نماز کا سلسلہ بھی بند ہو گیا۔ چاروں طرف مکانات بن جانے کی وجہ سے مسجد گمنامی کا شکار ہو گئی۔ چونکہ مسجد کا اندراج یو پی وقف بورڈ میں موجود تھا اس لئے مسجد کا وجود تو باقی رہا۔ شہر کے بعض مسلمانوں نے اس صورت حال سے سنی سینٹرل وقف بورڈ کو واقف کرایا۔

 انتظامیہ کمیٹی نے مقامی باشندوں سے کئی بار مسجد تک پہنچنے کا راستہ دینے کی گزارش کی ہے۔
انتظامیہ کمیٹی نے مقامی باشندوں سے کئی بار مسجد تک پہنچنے کا راستہ دینے کی گزارش کی ہے۔


وقف بورڈ نے اس معاملے میں قدم اٹھاتے ہوئے ایک انتظامیہ کمیٹی اور متولی کو نامزد کردیا۔ مسجد تک پہنچنے کے تمام راستے بند ہونے کی وجہ سے نماز کا سلسلہ دوبارہ نہیں شروع کیا جا سکا ہے۔ یو پی وقف بورڈ کی طرف سے نامزد انتظامیہ کمیٹی نے مقامی باشندوں سے کئی بار مسجد تک پہنچنے کا راستہ دینے کی گزارش کی ہے، لیکن علاقے میں آباد لوگوں نے اس کو تاریخی عمارت کو مسجد ماننے سے ہی انکار کر دیا ہے۔ مسجد انتظامیہ کے صدر متولی سراج الدین نے اب الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ سراج الدین کا کہنا ہے کہ سنی سینٹرل وقف بورڈ نے دریا آباد مسجد کو آباد کرنے کے لئے   انتظامیہ کمیٹی کی تشکیل کی تھی۔ اس کے لئے مسجد کی مرمت ضروری تھی، لیکن علاقے کے   بعض شر پسند عناصر کی طرف سے مسجد کی مرمت کرنے اور مسجد کا راستہ دینے میں رکاوٹ پیدا کی جا رہی ہے۔

مقامی پولیس انتظامیہ کی جانب سے سست روی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔
مقامی پولیس انتظامیہ کی جانب سے سست روی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔


متولی سراج الدین کا کہنا ہے کہ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے سنی سینٹرل وقف بورڈ اور الہ آباد کمشنر نے متعلقہ افسران کو مسجد کی مرمت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم  مقامی پولیس انتظامیہ نے ابھی تک ان احکامات پر کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ دوسری جانب دریا آباد مسجد معاملے کو شر پسند عناصر کی طرف سے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ چونکہ مسجد انتظامیہ کے پاس مسجد کے ثبوت میں پختہ قانونی دستاویزات موجود ہیں، اس لئے ان کی کوشش ہے کہ اس مسئلے کو قانونی طریقےسے حل کرلیا جائے۔
First published: May 31, 2020 03:04 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading