دیشا اجتماعی عصمت ریزی وقتل کیس: پولیس کی تحقیقات میں ہورہے ہیں نئے انکشافات، پڑھیں یہاں

دیشا کی اجتماعی عصمت دری اور قتل کے معاملے میں ہرروز نئے انکشافات ہورہے ہیں۔

Dec 02, 2019 09:22 AM IST | Updated on: Dec 02, 2019 10:54 AM IST
دیشا اجتماعی عصمت ریزی وقتل کیس: پولیس کی تحقیقات میں ہورہے ہیں نئے انکشافات، پڑھیں یہاں

حیدرآباد کے نواحی علاقہ شاد نگر میں 25 سالہ خاتون ویٹرنری ڈاکٹر کی اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کیس کے چار ملزموں کو چیرالہ پریلی سینٹرل جیل میں سخت سکیورٹی چیمبر میں تنہا رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے بھی سخت مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ اتوار کے روز جیل کے ایک سینئرعہدیدار نے یہ معلومات فراہم کی ہے۔

چار ملزمین جن کی عمریں 20 سے 24 سال ہیں جو لاری ڈرائیور اورکلینئر کا کام کرتے تھے، کو گذشتہ ہفتے ویٹرنری ڈاکٹر دیشا (نام تبدیل) کے ساتھ زیادتی اور قتل کرنے کے الزام میں جمعہ کے روز گرفتارکیا گیا تھا۔ ہفتے کے روز، انہیں 14 دن کے لئے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا تھا۔افسر نے بتایا کہ سخت سیکیورٹی سیلوں میں انہیں الگ سے تنہا رکھا گیا ہے۔ ہم ان چاروں پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں ، تاکہ وہ خود کچھ نہ کریں یا دوسرے قیدی اس گھناؤنے جرم پران پرحملہ نہ کریں۔

Loading...

ہم آپ کوبتا دیں کہ شاد نگرمیں اسکوٹی کی خرابی کی وجہ سے خاتون ڈاکٹر راستے میں پھنس گئیں۔ مدد کے بہانے ملزموں نے پہلے اس کے ساتھ زیادتی کی اور پھرانھیں جلا دیا۔ اگلے دن ان خاتون ڈاکٹر کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں خواتین کی سلامتی کو لیکر زبردست غم و غصہ پایا گیا۔

فلائی اوورکے نیچے ملی تھی خاتون ڈاکٹر کی جلی ہوئی لاش

پولیس کی تحقیقات میں نئے انکشافات

دیشا کی اجتماعی عصمت دری اور قتل کے معاملے میں ہرروز نئے انکشافات ہورہے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ اس واقعے سے لگ بھگ 66 گھنٹے قبل مرکزی ملزم محمد علی عرف عارف بغیر لائسنس کے لاری چلاتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔لیکن وہ پولیس افسران کو چکما دے کر لاری لے کر فرار ہوگیا۔ اب اس کی گرفتاری کے بعد معلوم ہوا ہے کہ وہ پچھلے دو سال سے بغیر لائسنس کے لاری چلا رہا تھا۔ انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق24   نومبر کومحمد علی عرف عارف نے کرناٹک کے علاقے گنگاوتی میں ایک لاری پراینٹوں کا لوڈ لیا تھا۔ اس اینٹ کو حیدرآباد پہنچانا تھا۔ راستے میں ، محمد علی عارف نے اس واقعے کے دو اور ملزمین نوین اورچننا کیشوولو کو بھی بلایا۔ ان سب نے قریب کی جھاڑی میں کچھ لوہے کی سلاخیں چھپائیں۔ ان سب نے اسے لاری پربھردیا۔ پھر وہ حیدرآباد کی طرف بڑھے۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ، علاقائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے عہدیداروں نے 25 نومبرکوصبح 4 بجے کے قریب محبوب نگر میں ٹرک کی جانچ کی۔ پتہ چلا کہ اس کے پاس تمام دستاویزات موجودہیں، لیکن اس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہے۔ اسی دوران محمد علی نے کارکو خراب ہونے کا بہانہ بنایا اور پھر وہ اچانک فرارہونے میں کامیاب ہوگیا۔

  پولیس کی تحقیقات میں نئے انکشافات پولیس کی تحقیقات میں نئے انکشافات

فاسٹ ٹریک کورٹ بنانے کا کے سی آر نے کیا اعلان

ڈاکٹر کی اجتماعی آبروریزی اور قتل کے معاملہ میں پہلی مرتبہ ریاست کے وزیراعلیٰ کے چندر شیکھر راو نے اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ انہوں نے اس معاملہ میں جلد سے جلد انصاف کیلئے فاسٹ ٹریک کورٹ بنانے کا اعلان کیا ہے ۔ کے سی آر نے اس معاملہ میں اپنا پہلا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سبھی ذمہ دار افسران کو ہدایت دی کہ تیز رفتاری سے کیس کی جانچ کی جائے ۔

وزیراعلیٰ کے سی آر نے کہا کہ قصورواروں کو جلد سے جلد گرفتار کرکے سخت سزا دی جائے گی ۔ وزیر اعلی نے فاسٹ ٹریک کورٹ کی تشکیل کی بھی ہدایت دی ۔ واقعہ کے بعد اپنے پہلے عوامی بیان میں راو نے چار لوگوں کے ذریعہ خاتون ڈاکٹر کی اجتماعی آبروریزی اور قتل کو خوفناک قرار دیا اور اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

تلنگانہ کے وزیراعلیٰ چندر شیکھر راؤ: فائل فوٹو تلنگانہ کے وزیراعلیٰ چندر شیکھر راؤ: فائل فوٹو

پارلیمنٹ : دیشا احتماعی عصمت ریزی وقتل کیس کی گونج

دیشا احتماعی عصمت ریزی وقتل کیس کی گونج آج پارلیمنٹ میں سنائی دے سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق کانگریس اس معاملے کوآج پارلیمنٹ میں اٹھا سکتی ہے۔اس کے علاوہ کانگریس،خواتین کا سلامتی پرپارلیمنٹ کے باہرمظاہرہ بھی کرے گی۔اس معاملے کے روشنی میں آنے کے بعد سے ہی کارکنان دہلی سمیت مختلف جگہوں پراحتجاج کررہے ہیں۔ادھر ہماچل پردیش کے گورنر بنڈارو دتاتریہ آج متاثرہ کے اہل خانہ سے ملاقات کرینگے۔ بنڈارو دتاتریہ قریب ساڑھے دس بجے متاثرہ کے اہل خانہ سے ملاقات کرینگے۔

خاتون ڈاکٹر کی اجتماعی آبروریزی اور قتل کے خلاف لوگ احتجاج کرتے ہوئے ۔ تصویر : نیوز 18 ڈاٹ کام ۔

Loading...