உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    NDTV Senior Journalist Kamal Khan dies:سینئر صحافی کمال خان کا ہارٹ اٹیک سے انتقال

    نہیں رہے سینئر صحافی کمال خان۔

    نہیں رہے سینئر صحافی کمال خان۔

    صحافت سے جڑی شخصیات نے اُن کی ناگہانی موت کو روشن اور معتبر صحافت کا ناقابل تلافی نقصان بتایا ہے۔معروف صحافیوں نے کمال خان کے اچانک انتقال پر گہرے غم اور دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے صحافت کے ایک باب کا خاتمہ قرار دیا تو وہیں، کئی دیگر سینئر صحافیوں نے کمال خان کی موت پر ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے انہیں بھرپور خراج پیش کیا ہے۔

    • Share this:
      NDTV Senior Journalist Kamal Khan no more :معروف ہندی نیوز چینلNDTV انڈیا کے لیے کام کرنے والے اتر پردیش کے سینئر صحافی کمال خان کا انتقال ہو گیا ہے۔ انہیں دل کا دورہ پڑا تھا۔ خان نے جمعہ کی صبح لکھنؤ میں اپنی رہائش گاہ پر آخری سانس لی ۔ دل کا دورہ پڑنے پر انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ کمال خان لکھنؤ میں اپنے خاندان کے ساتھ بٹلر پیلس میں واقع ایک سرکاری بنگلے میں رہتے تھے۔ ان کی شادی صحافی روچی کمار سے ہوئی تھی۔

      سوشل میڈیا پر لوگ کمال خان کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔ صحافی آلوک پانڈے نے ٹویٹ کیا اور کہا کہ 'گہرے دکھ کے ساتھ یہ بتانا پڑ رہا ہے کہ کمال خان آج صبح انتقال کر گئے ہیں (Journalist Kamal Khan Death)۔ وہ طویل عرصے تک لکھنؤ میں ہمارے بیورو چیف رہے ہیں۔ مزید معلومات دستیاب ہونے پر آپ کے ساتھ شیئر کریں گے۔' سینئر صحافی وویک گپتا نے کہا، ’’سابق ساتھی اور سینئر صحافی کمال خان صاحب نہیں رہے‘‘۔


      اطلاع کے مطابق، ہارٹ اٹیک سے کمال خان کا انتقال ہوگیا ہے۔ اُن کی اہلیہ روچی نے جنجاور سے اُن کی موت کی تصدیق کی ہے۔ کمال خان کا شمار معروف صحافیوں میں ہوتا تھا۔ لکھنو کی بٹلر پیلیس کالونی میں اُن کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہونے کی خبر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔


      صحافت سے جڑی شخصیات نے اُن کی ناگہانی موت کو روشن اور معتبر صحافت کا ناقابل تلافی نقصان بتایا ہے۔معروف صحافیوں نے کمال خان کے اچانک انتقال پر گہرے غم اور دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے صحافت کے ایک باب کا خاتمہ قرار دیا تو وہیں، کئی دیگر سینئر صحافیوں نے کمال خان کی موت پر ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے انہیں بھرپور خراج پیش کیا ہے۔

      سماج وادی پارٹی نے اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے ٹویٹ کیا اور کہا، 'بہت افسوسناک! این ڈی ٹی وی کے سینئر نامہ نگار جناب کمال خان صاحب انتقال کر گئے، ناقابل تلافی نقصان۔ خدا مرحوم کی روح کو سکون دے۔ سوگوار خاندان کے افراد سے گہری تعزیت۔ دلی خراج عقیدت۔ صحافی برجیش مشرا نے کہا، 'مشہور صحافی کمال خان جی کا انتقال بہت افسوسناک ہے۔ ان کی عدم موجودگی صحافتی دنیا کا بہت بڑا نقصان ہے۔ وہ رات گئے تک اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے۔ سینئر ترین ہونے کے باوجود فیلڈ رپورٹنگ کبھی نہیں چھوڑی۔ خبریں پیش کرنے کے ان کے انداز نے ملک بھر کے صحافیوں کو متاثر کیا۔ الوداع کمال خان

      کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے ٹویٹ کیا اور کہا، 'سینئر صحافی  کمال خان جی کے انتقال کی خبر سن کر صدمہ ہوا۔ چند روز قبل ان سے ملاقات میں بہت سی باتیں ہوئیں۔ انہوں نے صحافت میں سچائی اور مفاد عامہ کی اقدار کو زندہ رکھا۔ کمال خان جی کے اہل خانہ کے ساتھ میری گہری تعزیت۔ شائستہ خراج تحسین۔'



      کمال خان جنہیں صحافت کی معتبر اور توانا آواز مانی جاتی تھی اب یہ آواز ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئی ہے۔کانگریس یوتھ ونگ کے صدر سرینواس بی وی نے ٹویٹ کیا اور کہا، 'ناقابل یقین، لیکن کیا یہ واقعی سچ ہے؟ کمال خان صرف ایک نام ہی نہیں تھے بلکہ صحافت کی دنیا کی ایک حیرت انگیز شخصیت تھے۔ صحافی سوہت مشرا نے ٹویٹ کیا اور کہا کہ کمال خان صاحب اپنے آپ میں ایک کتاب تھے۔ انہیں دیکھ کر نہ جانے کتنے لوگوں نے آسان طریقے سے رپورٹ کرنے کی تحریک لی۔ کمال خان صاحب نے ایک الگ زاویے سے اور الگ انداز میں سب کچھ بتا کر ہم سب کے دلوں میں ایک الگ جگہ بنائی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: