உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Indian Navy: وائس ایڈمرل آر ہری کمار آج سنبھالیں گے بحریہ کے نئے سربراہ کا عہدہ، جانیے تفصیل

    تصویر ٹوئٹر @indiannavy

    تصویر ٹوئٹر @indiannavy

    وزارت دفاع نے نومبر کو ایک بیان میں کہا کہ حکومت وائس ایڈمرل آر ہری کمار کو 30 نومبر کی دوپہر سے بحریہ کا اگلا سربراہ مقرر کرے گی۔ جو اس وقت فلیگ آفیسر کمانڈنگ ان چیف ویسٹرن نیول کمانڈ ہیں۔

    • Share this:
      وائس ایڈمرل آر ہری کمار (Vice admiral R Hari) آج یعنی 30 نومبر 2021 کو بحریہ کے اگلے سربراہ کے طور پر ایڈمرل کے بی سنگھ کی جگہ لیں گے، جو 30 ماہ کی مدت ملازمت کے بعد سبکدوش ہو رہے ہیں۔

      وزارت دفاع نے نومبر کو ایک بیان میں کہا کہ حکومت وائس ایڈمرل آر ہری کمار کو 30 نومبر کی دوپہر سے بحریہ کا اگلا سربراہ مقرر کرے گی۔ جو اس وقت فلیگ آفیسر کمانڈنگ ان چیف ویسٹرن نیول کمانڈ ہیں۔ کمار نے انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف ہیڈ کوارٹر کے حصے کے طور پر تھیٹر کمانڈ ڈھانچے کی بنیادی تنصیب میں اہم کردار ادا کیا ہے۔


      بارہ اپریل 1962 کو پیدا ہوئے کمار کو یکم جنوری 1983 کو ہندوستانی بحریہ (Indian Navy) میں بھرتی ہوئی۔ تقریباً 39 سال پر محیط اپنی خدمات میں کمار نے مختلف کمانڈ، اسٹاف اور تدریسی تقرریوں میں خدمات انجام دیں۔ کمار سابق میں آئی این ایس نشانک، میزائل کارویٹ، آئی این ایس کورا اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر آئی این ایس رنویر بھی رہے۔ انہوں نے بحریہ کے طیارہ بردار بحری جہاز آئی این ایس ویرات کی بھی کمانڈ کی۔

      وزارت دفاع کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ کمار نے ویسٹرن فلیٹ کے فلیٹ آپریشنز آفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ FOC-in-C ویسٹرن نیول کمانڈ کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے وہ چیفس آف اسٹاف کمیٹی میں چیف آف انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف کے چیئرمین تھے۔ انہوں نے یو ایس نیول وار کالج، آرمی وار کالج، مہو اور برطانیہ میں رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز میں کورسز کیے ہیں۔


      کمار کو اتی وششٹ سیوا میڈل (اے وی ایس ایم) اور وششٹ سیوا میڈل (وی ایس ایم) سے نوازا گیا ہے۔ وہیں حال ہی میں 23 نومبر کو انہیں صدر رام ناتھ کووند نے پرم وششٹ سیوا میڈل (PVSM) سے بھی نوازا۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: