உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بنگلورو کے اجلاس میں عاطف رشید نے نہیں دیئے اطمینان بخش جوابات، شرکاء نے لگایا بڑا الزام

    قومی اقلیتی کمیشن کے نائب چیئرمین عاطف رشید کی بنگلورو آمد پر کرناٹک ریاستی اقلیتی کمیشن کے تحت اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں اقلیتوں کی کئی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد ہی قومی اقلیتی کمیشن کے سامنے اقلیتوں کے مسائل کو پیش کرنا تھا۔

    قومی اقلیتی کمیشن کے نائب چیئرمین عاطف رشید کی بنگلورو آمد پر کرناٹک ریاستی اقلیتی کمیشن کے تحت اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں اقلیتوں کی کئی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد ہی قومی اقلیتی کمیشن کے سامنے اقلیتوں کے مسائل کو پیش کرنا تھا۔

    قومی اقلیتی کمیشن کے نائب چیئرمین عاطف رشید کی بنگلورو آمد پر کرناٹک ریاستی اقلیتی کمیشن کے تحت اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں اقلیتوں کی کئی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد ہی قومی اقلیتی کمیشن کے سامنے اقلیتوں کے مسائل کو پیش کرنا تھا۔

    • Share this:
    بنگلورو: قومی اقلیتی کمیشن کےنائب چیئرمین عاطف رشید کی بنگلورو آمد پرکرناٹک ریاستی اقلیتی کمیشن کےتحت اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں اقلیتوں کی کئی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد ہی قومی اقلیتی کمیشن کے سامنے اقلیتوں کے مسائل کو پیش کرنا تھا۔ اس موقع پر اقلیتی تنظیموں کے نمائندوں نے عاطف رشید کے سامنے اقلیتوں کو درپیش اہم مسائل اٹھائے اور جواب حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن اجلاس میں موجود کئی شرکاء نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عاطف رشید سے اطمینان بخش جواب نہیں ملا۔ یونائٹیڈ انڈیا سیکولر فورم کے صدر دولت خان نےکہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کےتحت اقلیتوں کی فلاح و بہبودی کی ڈھیر ساری اسکیموں کا قومی اقلیتی کمیشن کے نائب چیئرمین نے ذکرکیا، لیکن اقلیتوں کے تحفظ اور اقلیتوں پر ہو رہے مظالم کی روک تھام کیلئے کوئی ٹھوس بات نہیں کہی۔

    دولت خان نے کہا کہ آج اقلیتیں اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہیں۔ موب لینچنگ کے واقعات پیش آتے ہیں، اقلیتوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔ حکومت کے خلاف آواز اٹھانے پر UAPA، این آئی اے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ الگ الگ طریقوں سے آواز کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اقلیتی کمیشن کو چاہئے کہ وہ اقلیتوں کی تشویش سے مرکزی حکومت کو واقف کروائے۔ موب لینچنگ کی روک تھام کیلئے قانون بنانے کیلئے کمیشن پہل کرے۔ دولت خان نے کہا کہ اقلیتیں جب محفوظ رہیں گے تب ہی حکومت کی اسکیموں کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔  لہذا حکومتوں کو اقلیتوں کی حفاظت کیلئے ٹھوس قدم اٹھانے چاہئے۔
    کرناٹک ہائی کورٹ کے ایڈوکیٹ عبدالصمد نے کہا کہ ریاست میں اقلیتوں کی آبادی 18 فیصد ہے۔ لیکن ریاست کی کابینہ میں اقلیتوں کو نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔ جب کابینہ میں اقلیتوں کا نمائندہ ہی موجود نہیں ہے تو اقلیتوں کی آواز حکومت تک کیسے پہنچے گی۔ عبدالصمد نے کہا کہ ریاست میں حج کمیٹی قائم ہوئے کئی ماہ ہوچکے ہیں لیکن اب تک کمیٹی کیلئے چیئرمین منتخب نہیں ہوا ہے۔ اسی طرح ریاستی اقلیتی کمیشن میں چیئرمین موجود ہے لیکن اراکین کی نامزدگی اب تک نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا حکومت کی سطح پر اقلیتوں کو خاطر خواہ نمائندگی نہیں مل رہی ہے، اس مسئلے کی جانب قومی اقلیتی کمیشن کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    سماجی کارکن چمن فرزانہ نے کہا کہ قومی اقلیتی کمیشن کے نائب چیئرمین نے اجلاس میں یہ بات  کہی کہ وہ اقلیتوں کے مسائل کو سننے کیلئے آئے ہیں۔  وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں یہاں بھیجا ہے۔ فرزانہ نے کہا کہ جب لوگ انکے سامنے مسائل اٹھانے لگے تو نائب چیرمین عاطف رشید بات سننے کیلئے ہی تیار نہیں تھے اور لوگوں کی بات کو کاٹ رہے تھے۔ چمن فرزانہ نے کہا کہ اسکالرشپ میں کمی، سماجی انصاف، انسانی حقوق کی پامالی اسطرح کئی مسائل سے اقلیتیں دوچار ہیں۔ اپنے مسائل کو کمیشن کے سامنے پیش کرنا چاہتی تھیں لیکن عاطف رشید کی جانب سے صحیح طور پر شنوائی نہیں ہوئی۔

    قومی اقلیتی کمیشن کے نائب چیئرمین عاطف رشید کی بنگلورو آمد پر کرناٹک ریاستی اقلیتی کمیشن کے تحت اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں اقلیتوں کی کئی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
    قومی اقلیتی کمیشن کے نائب چیئرمین عاطف رشید کی بنگلورو آمد پر کرناٹک ریاستی اقلیتی کمیشن کے تحت اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں اقلیتوں کی کئی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔


    اردو کی معروف ادیبہ اور محفل نساء کی صدر شائستہ یوسف نے اردو اسکولوں کے مسائل کو اجلاس میں اٹھایا۔ شائستہ یوسف نے کہا کہ اردو اسکول میں غریب خاندانوں کے بچے پڑھ رہے ہیں۔ کورونا وبا کی وجہ سے آن لائن کلاسوں کا نظام شروع کیا گیا ہے۔ لیکن غریب بچوں کے پاس نہ لیپ ٹاپ ہے اور نہ ہی سمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی سہولت اس مسئلہ کی جانب نہ حکومت اور نہ ہی اقلیتی محکمہ نے کوئی توجہ دی ہے۔ شائستہ یوسف نے کہا کہ اردو اسکولوں کی حفاظت اور ترقی کیلئے حکومت کو سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں۔
    کنڑا کی ادیبہ کے شریفہ نے کہا کہ اقلیتی کمیشن کے نائب چیرمین عاطف رشید نے صحیح طریقے سے مسائل کو نہیں سنا اور نہ ہی اطمینان بخش جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ عاطف رشید نے میڈیا کے ساتھ طویل گفتگو کی لیکن عوام کے ساتھ گفتگو کیلئے ان کے پاس وقت نہ تھا۔ کے شریفہ نے کہا کہ مسلمانوں کو آج شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ تعلیمی، سماجی اور معاشی پریشانیوں میں مسلمان گھرے ہوئے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اقلیتوں کی آواز کو سنے اور موجودہ مسائل کے حل کیلئے اقدامات کرے۔
    اجلاس میں قومی اقلیتی  کمیشن کے نائب چیرمین عاطف رشید کے ساتھ ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین عبدالعظیم، کرناٹک اقلیتی ترقیاتی کارپوریشن کے چیئرمین مختار حسین پٹھان اور اقلیتی محکمہ کے چند افسران موجود تھے۔ اجلاس میں اقلیتی تنظیموں کے  نمائندوں کو انکے پوچھے گئے سوال پر رسپانس نہ ملنے کی وجہ سے ہنگامہ آرائی بھی دیکھنے کو ملی۔ اس موقع پر چند تنظیموں کے نمائندوں  اور  بی جے پی اقلیتی مورچہ کے ارکان کے درمیان بحث اور تکرار بھی ہوئی۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے عاطف رشید نے کہا کہ اقلیتوں کے مسائل کے حل کیلئے حکومت سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پیش کئے گئے مسائل کو حل کرنے کیلئے وہ ہر ممکن کوشش کریئ گے۔

    اقلیتی محکمہ کے بجٹ میں کی گئی زبردست کٹوتی کے معاملے پر عاطف رشید نے کہا کہ کورونا وبا کی وجہ سے تمام محکموں کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے، لیکن آنے والے دنوں میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے اقلیتوں کی فلاحی اسکیموں کیلئے زیادہ سے زیادہ فنڈز فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ عاطف رشید نے کہا کہ بنگلورو میں انہوں نے وزیر اعظم پندرہ نکاتی پروگرام کی میٹنگ کی۔ اقلیتی محکموں کے افسروں سے بات چیت کی۔ عاطف رشید نے کہا کہ انہیں پوری امید ہے کہ کرناٹک میں آنے والے ریاستی بجٹ میں حکومت اقلیتوں کا پورا خیال رکھے گی۔
    کرناٹک میں حال ہی میں نافذ کئے گئے انسداد گئو کشی قانون کے سلسلے میں پوچھے گئے سوال پر عاطف رشید نے کہا کہ گائے میں ہندوؤں کی آستہ  (عقیدہ) ہے۔ برادران وطن کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے مسلمانوں کو گئو کشی سے دور رہنا چاہئے۔ عاطف رشید نے کہا کہ جب اذان ہوتی ہے تو وزیر اعظم نریندر مودی اپنی تقریر کو روک دیتے ہیں کیونکہ وہ ملک کے نظام میں بھروسہ رکھتے ہیں۔ گائے میں جب ہندوؤں کا عقیدہ ہے تو  مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ وہ ملک میں جو نظام ہے اس کے تقاضے کو پورا کریں، گئو کشی پر پابندی کے قانون پر عمل کریں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: