உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Vice President Elections Result: جگدیپ دھنکھڑ ہوں ملک کے اگلے نائب صدر، اپوزیشن امیدوار مارگریٹ الوا کو ہرایا

    Vice President Elections Result: جگدیپ دھنکھڑ ہوں ملک کے اگلے نائب صدر، اپوزیشن امیدوار مارگریٹ الوا کو ہرایا ۔ فائل فوٹو ۔

    Vice President Elections Result: جگدیپ دھنکھڑ ہوں ملک کے اگلے نائب صدر، اپوزیشن امیدوار مارگریٹ الوا کو ہرایا ۔ فائل فوٹو ۔

    Vice President Elections Result: ملک کے نئے نائب صدر جمہوریہ کے انتخاب کیلئے ہفتہ کو ہونے والی ووٹنگ میں این ڈی اے کے امیدوار جگدیپ دھنکھڑ کامیاب ہوئے ہیں ۔ ان کا مقابلہ اپوزیشن کی مشترکہ امیدوار مارگریٹ الوا سے تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ملک کے نئے نائب صدر جمہوریہ کے انتخاب کیلئے ہفتہ کو ہونے والی ووٹنگ میں این ڈی اے کے امیدوار جگدیپ دھنکھڑ کامیاب ہوئے ہیں ۔ ان کا مقابلہ اپوزیشن کی مشترکہ امیدوار مارگریٹ الوا سے تھا۔ جہاں دھنکھڑ کو 528 ووٹ ملے، تو وہیں الوا کو صرف 182 ووٹوں سے مطمئن ہونا پڑا، جب کہ 15 ووٹوں کو ان ویلڈ قرار دیا گیا۔ لوک سبھا کے سکریٹری جنرل اُتپل کمار سنگھ نے یہ جانکاری دی۔ انہوں نے کہا کہ صبح 10 بجے شروع ہونے والا الیکشن شام 5 بجے تک چلا۔ اس دوران 780 میں سے 725 ارکان نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔

       

      یہ بھی پڑھئے: Vice President Election کے لئے وزیراعظم مودی سمیت تمام اراکین پارلیمنٹ نے ڈالا ووٹ


      جیت کیلئے 390 سے زائد ووٹوں کی ضرورت تھی ۔ پارلیمنٹ میں اراکین کی موجودہ تعداد 788 ہے، جس میں سے صرف بی جے پی کے پاس ہی 394 ارکان ہیں ۔ اعداد و شمار کے لحاظ سے مغربی بنگال کے سابق گورنر دھنکھڑ کی جیت پہلے سے ہی یقینی مانی جا رہی تھی۔ اب کچھ ہی دیر میں وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا دھنکھڑ سے ملنے جائیں گے۔


      دھنکھڑ 71 سال کے ہیں اور ان کا تعلق راجستھان کی بااثر جاٹ برادری سے ہے۔ ان کا پس منظر سماجوادی رہا ہے۔ جنتا دل (یونائیٹڈ)، وائی ایس آر کانگریس، بہوجن سماج پارٹی، اے آئی اے ڈی ایم کے اور شیو سینا نے دھنکھڑ کی حمایت کی تھی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: نائب صدر کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟ کیا ہوتی ذمہ داریاں؟ جانیے تفصیلات


      وہیں انتخابات میں شکست کھانے والی اسّی سالہ الوا کانگریس کی سینئر لیڈر ہیں اور راجستھان کی گورنر بھی رہ چکی ہیں۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس)، عام آدمی پارٹی (اے اے پی) اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) نے الوا کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ نیز آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے بھی الوا کی حمایت کی تھی ۔

      خیال رہے کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے تمام ممبران نائب صدر جمہوریہ کے الیکشن کیلئے الیکٹورل کالج میں شامل ہوتے ہیں۔ نامزد ارکان بھی اس میں ووٹ دینے کے اہل ہوتے ہیں۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: